تازہ ترینڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

دادبیداد……..امن کا نشان

اس سال یوم پاکستان کا مرکزی خیال’’امن کا نشان ہمارا پاکستان‘‘رکھا گیا ہے انٹرسروسز انٹیلی جنس کی طرف سے جاری کئے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ 2018ء ؁کا سال کئی لحاظ سے تاریخ کا اہم سال ہے پاکستان نے بدامنی،لاقانونیت،ملک دشمنی اور تخریب کاری کے خلاف گزشتہ 5سالوں میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں ان کامیابیوں کا تسلسل برقرار رکھنے کیلئے اس سال کو خاص طور پر امن کا سال قرار دیا جارہا ہے اور یوم پاکستان کا مرکزی خیال یا تھیم اس کی پوری غمازی کرتا ہے 2018ء ؁ کا سال اس لئے بھی اہم ہے کہ اس سال پاکستان خطے میں امن کیلئے ہمسایہ ممالک اور عالمی طاقتوں کو اعتماد میں لیکر کام کر رہا ہے افغان امن فارمولے پر کام میں پاکستان عالمی برادری کی معاونت کر رہا ہے مشرقی وسطی میں پائیدار امن اور مسئلہ کشمیر کو پُرامن ذرائع سے حل کرنے کیلئے پاکستان اپنا بھرپور کردار ادا کررہاہے اسلام آباد میں شکرپڑیاں کے مقام پر قائم پریڈ گراؤنڈ میں یوم پاکستان کی سلامی کیلئے تیاریاں زوروشور سے جاری ہیں ایسے مواقع پر یہ جان کر دکھ ہوتا ہے کہ قومی اہمیت کے دنوں کومنانے میں 50سال پہلے والا جذبہ اور ذوق وشوق اب نہیں رہا 1968ء ؁ میں ہم نویں جماعت میں پڑھتے تھے تو 23مارچ اور 14اگست کے پروگراموں کی ریہرسل ایک ماہ پہلے شروع ہوتی تھی سکول کے طلباء سلامی دیتے تھے سلامی کے بعد سکول کے ہال میں ملی نغموں اور تقریروں کے مقابلے ہوتے تھے رات کو مشاعرہ ہوتا تھا مشاعرے کے بعد محفل موسیقی منعقد ہوتی تھی مالی وسائل کم تھے مگر جوش و خروش دیدنی تھا 10سال بعد ہم سرکاری ملازمت میں آئے تو وہی جذبہ دیکھنے کو ملا23مارچ اور 14اگست سے ایک ماہ پہلے ضلع کے تمام محکموں کے افسران کی میٹنگ بلائی جاتی تھی میٹنگ میں یوم پاکستان اور یوم آزادی کو شایان شان طریقے سے منانے کا جامع پروگرام طے ہوتا تھا افیسروں کو مختلف کام دئے جاتے تھے پھر ہفتہ وار میٹنگ منعقد کرکے انتظامات کا جائزہ لیا جاتا تھا پروگرام سے تین دن پہلے فل ڈریس ریہر سل ہوتی تھی کوئی کمی خامی نظر آتی تو اس کا ازالہ کیاجاتا تھا 1976اور1978میں وزارت اطلاعات و نشریات کی موبائل وین دور دراز اضلاع اور قبائل ایجنسیوں کا دورہ کرکے سکول کے بچوں اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو تحریکِ آزادی کی تاریخی دستاویزی فلمیں دکھانے کا اہتمام کرتی تھیں سارا مہینہ یہ سلسلہ چلتا تھا موبائل وین 1968میں چترال تک بھی آئی1974میں پھر آگئی1976میں بھی آئی 1978میں آئی اس کے بعد پتہ نہیں اس وین کو کیا ہوگیا شاید ڈائریکٹوریٹ آف فلمز اینڈ پبلی کیشنز کا بوریا بستر گول کردیا گیا تحریک پاکستان کے حوالے سے سکول کے بچوں میں آگاہی پھیلانے میں DFPکا بڑا کردار تھا اس کے بعد جو اہم واقعہ ہمیں یاد ہے وہ جنرل ضیاء کے دور میں 14اگست کو پورے ملک میں ایک ساتھ ایک وقت پر سائرن بجاکر منانے کی روایت ہے اس روایت کو پاک فوج نے اب تک زندہ رکھا ہوا ہے 23مارچ کی مناسبت شاندار پریڈ اور سالمی کی روایت کو بھی پاک فوج نے اب تک زندہ رکھاہوا ہے سیاسی قیادت اور سول انتظامیہ کی دلچسپی اسطرح کے قومی معاملات میں بہت کم نظر آتی ہے ایک بات جو ہمارے دلوں میں بُری طرح کھٹکتی ہے وہ یہ ہے کہ 5فروری کا یوم یکجہتی کشمیر جماعت اسلامی مناتی ہے 23مارچ اور 14اگست کو یوم پاکستان اور یوم آازادی پاک فوج مناتی ہے 25دسمبر کو بابائے قوم کی سالگرہ کا دن ریڈیو اور کیبل ٹیلی وژن پر منایا جاتا ہے 11ستمبر کو بابائے قوم کی برسی کا دن بھی ریڈیو اور ٹیلی وژن سے باہر کوئی نہیں مناتا مفکر پاکستان علامہ محمد اقبالؒ کی پیدائش اور وفات کے دن کی چھٹی بھی ختم کردی گئی ہے اس دن ناشناس کی آواز میں علامہ محمد اقبالؒ کا کلام ریڈیو اور ٹیلی وژن پر سنائی جن لوگوں کی عمریں 60سال سے اوپر ہیں وہ لوگ سوچتے ہیں کہ قومی اہمیت کے دنوں کو منانے کا اجتماعی جوش و جذبہ کیوں ماند پڑ گیا؟ ہم نے کیوں طے کرلیا کہ یوم پاکستان اور یوم آزادی منانا پاک فوج کا کام ہے؟اگر1965اور 1975میں سیاسی جماعتیں اور سول انتظامیہ قومی اہمیت کے دنوں کو منانے میں متحرک ہوتی تھی تو آج متحرک کیوں نہیں ہوتی؟ سوچنے والوں کو بیشک سوچنے کا حق حاصل ہے مگر سوچنے کا مقام یہ بھی ہے کہ ہماری سیاسی قیادت یوم پاکستان اور یوم آزادی،یوم قائداعظم اور یوم اقبالؒ کے حوالے سے اپنی ذمہ داریوں کا احساس کیوں نہیں کرتی؟شاید ہماری سیاسی قیادت اور سول انتظامیہ کی ترجیحات بدل گئی ہیں شاید ہماری قومی ترجیحات کو غلط رُخ پر ڈال دیا گیا ہے اب بھی یوم پاکستان کے آنے میں 10دن باقی ہیں اب بھی سیاسی قیادت اور سول انتظامیہ کو 1965اور1976کی طرح ایک بار پھر قومی دن کے حوالے سے متحرک کیا جاسکتا ہے۔
اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
دوسروں کے ساتھ اشتراک کریں

متعلقہ خبریں/ مضامین

یہ بھی دیکھیں

إغلاق
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔
إغلاق