پرس کانفرنس میں چلڈرن ہسپتال کے بارے میں جو کچھ کہا تھا وہ باتیں سارے حقیقت پر مبنی تھے۔وقاص احمد ایڈوکیٹ – Chitral Express

Premier Chitrali Woolen Products

پرس کانفرنس میں چلڈرن ہسپتال کے بارے میں جو کچھ کہا تھا وہ باتیں سارے حقیقت پر مبنی تھے۔وقاص احمد ایڈوکیٹ

چترال (نمائندہ چترال ایکسپریس) چترال کے معروف وکیل وقاص احمد خان نے ایک اخباری بیان میں کہا ہے کہ چند دن پہلے پرس کانفرنس میں چلڈرن ہسپتال کے بارے میں جو کچھ میں نےکہا تھا وہ باتیں سارے حقیقت پر مبنی تھے اس کی وجہ یہ ہے کہ ابھی تک ان الزامات کا جواب نہیں آیا ہے . اُنہوں نے کہا کہ اللہ گواہ ہے کہ اُس پرس کانفرنس کا مقصد کسی پارٹی,حکومت,ادارے یا کسی فرد واحد کی دل ازاری نہیں تھی بلکہ میرا مقصد ایک ادارے کی کمزوریوں کواپ کے سامنے لانا تھا جو کہ معاشرے کے ہرفرد کا فرض بنتا ہے اور ادارے کی اصلاح کرنا ہے اُنہوں نے کہا کہ میرے ایک اعلی پوسٹ پر مامور صاحب نے یوں کہا کہ اگر کوئی نیا شخص سیاست میں انا چاہتا ہے تو سب سے پہلے ہسپتال پر تنقید کرتاہے اور کوئی عدلیہ اور فوج پر تنقید نہیں کر تے ,میرا صاحب موصوف کو جواب یہ ہے کہ چترال میں پہلے چترال سکاوٹس تھا بعد میں آرمی آیا ہے اب فوج کا چترال میں کردار پر بھی بات کرتے ہیں 1 ,توکھو واشچ میں 2005 کو برفانی تودا گرنے سے 38 افراد شہید ہوے نعشوں کو جترال سکاوٹس کے جوانوں نے نکالے اور تمام ریسکیو کے کا موں کو فوج کے جوانوں نے پورا کیا راشن فوج نے تقسم کیا 2۔ 2005 کا زلزلہ آیا توتمام کام فوج نے کیا ۔3 2010ا 2014 میں زلزلہ آیا تمام ریسکو اور راشن فوج نے تقسیم کیا اور زخمیوں کو اسلام آباد تک فوج نے پہنچایا 2015 کو سلاب آیا تمام ریسکو اوربحالی کا کام فوج نے کیا آج بھی مختلف جہگوں پر فوج کے دیے ہوے پل موجود ہیں میرے انکھوں کے سامنے صبح اٹھ بجے لٹکوہ سے آتے ہوے گاڑی کا ایکسیڈنٹ ہوا بارہ افرادجان بحق ہوے اور گا ڑی میں تین افراد زندگی کا سھارا منگتے ہوے دریاے کےدرمیان گاڑی کےاندر فریاد کر تے رہے آخر وہ بھی دریا برد ہوے جنازوں کو فوج کے غوطہ خوروں نے نکالے اور بھی بہت کام ,,اُنہوں نے سوال اُٹھاتے ہوئے کہا کہ دیگر سول ادارے کس چیز کے دوا ہیں ,ڈی سی اور ڈی پی  صاحب کے پاس سرکاری ڈھوکچی ترکان مستری اور پو لو کے کھلاڑی موجود ہوتے ہیں کیا وہ چند غوطہ خور برتی نہیں کر سکتے ۔اُنہوں نے کہا کہ چند دن قبل ایون میں کار ایکسڈنٹ کا واقعہ ہوا ابھی تک کچھ لاشیں نھیں ملی ہے کیا باڈر اور پولیس میں غوطہ خوربرتی نہیں کی جا سکتی کیا ضلع ناظم غوطہ خور برتی نہیں کر سکتا کیا پو لیس اور باڈر میں غوطہ خوری کی ٹرنیگ نھیں دی جا سکتی کیا باڈر کا کام ڈی سی سے لیکر تحصیلدار تک کا گن مین ہی ہونا ہے کیا باڈر کا کام  پروٹوکول کے لیے لے کر گومنا ہی ہے اُنہوں نے پشاور کےڈاکٹر اسرار سے گزاریش کرتے ہوئے کہا کہ محکمہ ہیلتھ کے خلاف میں نے لکھا دیگر کے خلاف ڈاکٹر اسرار لکھے اگر غلطی پکڑی گی تو ہما رے زندگی کا مقصد سیاست دانوں کے گن گھاناہی ہے یا اپنے بساط کے مطابق انسانیت کی خدمت,اُنہوں نے تمام مخیر حضرات سے گزارش کرتے ہوئے کہا کہ اپنے بساط کے مطابق چلڈرن ہسپتال جنگ بازار چترال میں نبولائزر ماسک ڈونیٹ کریں تاکہ اپکی وجہ سے ایک بچے کی موزی مرض دوسرے پچے کو منتقل نہ ہو ماسک کی قیمت صرف 100 روپے ہیں مہر بانی کرکے کامنٹس کریں اگر میری بات درست ہے تو حوصلہ افزائی ہوگی اگر غلط ہوں تو اصلاح کر نے کی کو شش کرونگا

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
دوسروں کے ساتھ اشتراک کریں

یہ خبر بھی پڑھیں

رُموز شادؔ ۔۔ شہزادے کی عید۔۔۔۔۔

حضرت سیدنا عمرؓ نے ایک مرتبہ عید کے دن اپنے شہزادے کو پُرانے قمیص پہنے ...


دنیا بھر سے