چترال جیسے پسماندہ علاقے میں علم کی شمع روشن کرنے میں آغاخان ایجوکیشن سروس کی خدمات قابلِ صد ستائش ہیں۔کمانڈنٹ چترال سکاؤٹس کرنل معین الدین – Chitral Express

Premier Chitrali Woolen Products

چترال جیسے پسماندہ علاقے میں علم کی شمع روشن کرنے میں آغاخان ایجوکیشن سروس کی خدمات قابلِ صد ستائش ہیں۔کمانڈنٹ چترال سکاؤٹس کرنل معین الدین

کوراغ (نمائندہ چترال ایکسپریس)چترال جیسے پسماندہ علاقے میں علم و حکمت کی شمع جلانے میں آغاخان ایجوکیشن سروس کی خدمات قابلِ صد ستائش ہیں ۔ کسی بھی معاشرے کی ہمہ جہت ترقی میں تعلیم،صحت اور مالی وسائل تک رسائی کا کردار ہمیشہ اہم ہوتا ہے۔ا س لیےآغاخان ڈیویلپمنٹ نیٹ ورک کی انتھک کوششوں کے نتیجے میں چترال کےعوام کی زندگی میں حیران کن تبدیلیاں ئی ہیں۔ ان خیالات کا اظہار آغا خان ہائیر سیکنڈری اسکول کوراغ میں اساتذہ کے اعزاز میں منعقدہ تقریب کے مہمان ِخصوصی کی حیثیت سے کمانڈنٹ چترال سکاوٹس کرنل معین الدین نے کیا۔انہوں نے کہا کہ چترال میں تعلیم یافتہ نوجوانوں کی تعداد زیادہ ہیں لیکنان کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنے کی آشد ضرورت ہے

  انہوں نے اساتذہ کو معاشرے کے لیے ریڑھ ہڈی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اساتذہ کی بدولت معاشرے میں مثبت تبدیلی رونما ہوتی ہے۔اس لیے اساتذہ کی شان میں ایسی تقاریب کا اہتمام لائق ِتحسین ہے ۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاک فوج کے سالار جنرل قمر جاوید باجوہ نے چترال کے لیے صحت اور تعلیم کے شعبے میں بہتری لانے کے لیے خصوصی پیکچ کا اعلان کیا ہے۔

پروگرام کے آغاز میں آغاخان ایجوکیشن سروس چترال کے جنرل منیجر بریگیڈیر(ر) خوش محمد نے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا اور تقریب کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ گزشتہ تین سالوں سے منعقد ہونے والی ان تقاریب کا مقصد آغاخان سکولوں کےاساتذہ کو ان کی اعلیٰ خدمات پر خراجِ تحسین پیش کرنا ہے۔ انہوں نے آغاخان ایجوکیشن سروس کی خدمات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ ادارہ پوری دنیا کے طلبہ کو زیورِ تعلیم سےآراستہ کرنے کے  لیے اپنی خدمات پیش کررہا ہے۔جس کی وجہ سے تعلیمی پسماندگی کو دور کرنے میں مدد ملی ہے۔

 انہوں نے  چترال میں  بچیوں کی تعلیم  کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ چترال میں بچیوں کی تعلیم کی شرح دو فیصد سے بڑھ کر 54 فیصد ہوگئی ہے۔ جس میں آغاخان ایجوکیشن سروس کا بھی بڑا ہاتھ ہے۔آغاخان ہائیر سیکنڈری سکولوں سے فارغ التحصیل طلبہ مختلف ملکی اور بین الاقوامی یونیورسٹیوں میں زیرِ تعلیم ہیں۔ اس کےعلاوہ کئی طلباء پاکستان آرمی میں کمیشن حاصل کرکے خدمات انجام دے رہے ہیں ۔

استاتذہ کی نمائندگی کرتے ہوئے استاد شریف خان نے کہا کہ آغاخان ایجوکیشن سروس چترال اساتذہ کی حوصلہ افزائی کے لیے ٹیچر ریکاکنیشن ڈے کا جو سلسلہ شروع کیا ہے وہ نہایت شاندار اقدام ہے۔اس سےاساتذہ میں مزید محنت کرنےکاجذبہ پیداہوتاہے۔

پروگرم کے پہلے حصے کے مہمانِ خصوصی سابقہ پریذیڈنٹ  لوکل کونسل بریپ اور استاد الا ساتذہ محترم مس خان نے اپنے خطاب  میں کہا کہ ایک زمانہ ایسا تھا کہ پورے چترال میں تعلیم خصوصاً خواتین کی تعلیم نہ ہونے کے برابر تھی ۔ لیکن آغاخان ایجوکیشن سروس نے ہماری زندگی میں انقلاب لے آیااور خواتین کو تعلیم یافتہ بناکر چترال میں ترقی کی راہیں کھول دیں ۔

تقریب میں صدرِمحفل  سابق صدر ریجنل کونسلاپر چترال اور معروف سیاسی و سماجی شخصیت افضل علی نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تعلیم  ایک جاری رہنے والا عمل ہے ۔ اس لیے اس کی اہمیت سے صرف ِنظر نہیں کرسکتے ۔

انہوں نے چترال کی تعلیمی تاریخ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ۱۹۴۰ میں ڈائمنڈ جوبلی اسکولوں کے قیام میں رکاوٹ نہ ڈالی جاتی تو چترال کی تعلیمی صورت حال مختلف ہوتی انہوں نےاس خواہش کا اظہار کیا کہ اساتذہ کی حوصلہ افزائی کا یہ سلسلہ آئندہ بھی جاری رہے۔

پروگرام میں کارکردگی کی بنیاد پر اپر چترا ل کے۲۷ساتذہ کو پینتیس ہزار،۲۳ کو پچاس ہزار جبکہ دس اساتذہ ٔ کرام کو و پچھتر ہزار روپے کے چیک پیش کیے گئے۔اس کے علاوہ سنئیر اساتذہ  کو چترالی ٹوپی اور شال پیش کیے گئے۔ اس کے علاوہ امتحانات میں نمایاں کارکردگی دکھانےوالے طلبہ کوتعریفی اسناد سے نوازا گیا۔ جنرل منیجر آغاخان ایجوکیشن سروس چترال نے مہمانِ خصوصی اور صدرِ محفل کو اے کے ای ایس کی جانب سے یاد گاری شیلڈ پیش کیا۔  تقریب میں آغاخان سکولوں کے ہیڈ ٹیچرز،اپر چترال کے آغاخان سکولوں کے اساتذہ سمیت خواتین وحضرات  کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔

آخر میں ایچ آر منیجر آغاخان ایجوکیشن سروس چترال اختر نواز نے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔ نظامت کے فرائض عطا حسین اطہر اور محمد نبی نے سرانجام دیے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
دوسروں کے ساتھ اشتراک کریں

یہ خبر بھی پڑھیں

اظہار تشکر

اظہار تشکر ۔۔ میں اپنی طرف سے اور فرید احمد کے والد اکبر ولی چچا ...


دنیا بھر سے

error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔