ارشاد اللہ شادتازہ ترین

’’سیزن ہے شجرکاری کا‘‘

کہتے ہیں کہ کسی علاقے کے طول و عرض میں جنگلات لگانا اس علاقے کے درجہ حرارت کو کم اور ماحول کو صاف رکھنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے ۔ مگر افسوس درخت لگانے کی ہماری معاشرے کو جتنی زیادہ ضرورت تھی ، ہم اتنی ہی سستی برت رہے ہیں ۔ اور اپنے آنے والے نسلوں کی حفاظت نہیں کررہے ہیں۔قارئین !! یہ سیزن درخت لگانے کا ہے۔ اس سیزن میں آپ درخت لگا کر فائدہ اٹھائے اور اپنے اپنے علاقے میں درخت لگانے کی بھرپور اہتمام کریں ۔ ہم درخت لگانے کا کام بھی گورنمنٹ اور حکومت کے ذمہ لگا کے خود سو جاتے ہیں ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ پودے لگانا حکومت کا کام ہے۔ حکومت بھی لگائیں۔ کسی ملک کا 25فیصد رقبہ یہ جنگلات پر مشتمل ہونا چاہیے۔ جب کہ ہمارے ملک پاکستان میں غالباََ 4فیصد رقبہ جنگلات پر مشتمل ہیں جو انتہائی کم اور قابل تشویش ہے۔ 21فیصد ابھی باقی ہے جہاں پر جنگلات ہونا چا ہئے ۔ لیکن گورنمنٹ اگر اس ضرورت کو پورا نہ کرے ، ہم از خود اس ضرورت کو پورا کرنا چاہیے ۔ ہم اپنے دیہاتوں میں درخت لگائے، اپنی زمینوں میں لگائے ، اپنے گھروں کے باہر جو کیاریاں ہیں وہاں پر لگائیں، درخت لگانے کا اہتمام کریں ۔ وجہ یہ ہے کہ ایک بڑا درخت 36بچوں کی ایک سال کی آکسیجن پوری کرتا ہے۔ درخت ہمیں پھل دیتے ہیں ۔ اپنے درخت لگائیں گے تو بازار سے ہمیں پھل خریدنے نہ پڑیں گے ، اپنے گھر کے پھل آپکو ملیں گے ۔ خواہ درختوں کی وجہ سے سایہ ، پھر سبزہ اور سبزے کی وجہ سے آنکھوں کو جِلا ملتی ہیں ۔ آج ہر دسواں بندہ اس بیماری کے اندر مبتلا ہیں اور اس قسم کے بیماریوں کو درختوں کی آکسیجن اور درختوں کا سبزہ ختم کرسکتی ہیں ۔ پھر اہم بات یہ ہیں کہ آج کے دور میں گلوبل وارمنگ بہت بڑا چیلنج ہے اوریہ درخت ان کا آکسیجن گلوبل وارمنگ کیلئے انتہائی مفید ہے ۔شجر کاری گلوبل وارمنگ کے اثرات زائل کرنے کیلئے بھی ناگزیر ہے۔ فضائی آلودگی کو ختم کرتا ہے ۔ اور ان درختوں کی وجہ سے ہمارے ہاں صنعت سازی بہت ہوتی ہیں ، فیکٹریاں بنتی ہیں ، کارخانے بنتے ہیں ، اسکی وجہ سے مزدور کو مزدوری ملتی ہیں اور ملک کی معیشت مستحکم ہوتی ہے ۔ ان درختوں کی وجہ سے ہمارے یہاں کھڑکیاں بنتی ہیں ، دروازے ، الماریاں بنتے ہیں ،چھتیں بنتے ہیں ، فرنیچر کا کام ہوتا ہے ۔ کتنی بڑی صنعت لکڑی کی ایسی ہیں جو درختوں سے وابستہ ہیں ۔ اور پھر ایک غریب آدمی جس کے پاس تھوڑی سی جگہ ہے اگر دس پندرہ درخت اپنے ہاں لگادیں تو پانچ سال بعد وہ درخت اس کو لاکھوں روپے کا پرافٹ دے سکتے ہیں ۔ اگر ہم مزدوری سے پیسہ نہیں کما سکتے ان درختوں کے ذریعے بھی ہم پیسہ کما سکتے ہیں ۔ اس لئے ان کا اہتمام کرنا چاہئے ۔ پھر اگر ٹاؤں قصبوں میں رہنے والے لوگ جن کے پاس جگہ نہیں ہوتی درخت لگانے کی وہ اپنے گھر پھول اگائیں ، چھوٹی سی جگہ میں چھوٹی سی سبزیاں اگائیں یہ ہمارے کام آسکتے ہیں ۔ اس میں مرچ، دنیا،سلاد وغیرہ ہیں ۔ یہ چیزیں ہم بڑی آسانی سے لگا کر اپنے گھر کی پیداوار خود استعمال کرسکتے ہیں ۔ درختوں کی وجہ سے بسا اوقات جو دریا کا سیلاب ہوتا ہے اس کا رخ بدل جاتا ہے ۔ زمینی کٹاؤ کو درخت روک دیتا ہے ،جنگلات سیلابی پانی کی رفتار کم کرتے ہیں اور زمین کی زرخیزی کو قائم رکھتے ہیں ۔ تو درخت ہمارے لئے معیشت کو بھی مستحکم کرتے ہیں ، اور ہماری صحت کیلئے بھی مفید ہیں۔ ہمارے لئے آکسیجن مہیا کرتی ہیں ، ہماری فضائی آلودگی کو ختم کرتے ہیں ۔ اور بحیثیت مسلمان ہمارے لئے بہت مفید ترین چیز یہ ہیں کہ درخت اللہ کا ذکر کرتے ہیں ، تسبیحات پڑھتے ہیں ۔ ایک حدیث پاک میں حضور اکرم ؐ قبرستان میں ایک جگہ سے گزرے تو آپ کا جو جانور تھا وہ وہی رک گئے ، آپؐ نے فرمایا ان قبر والوں پر عذا ب ہورہا ہے ۔ آپؐ نے سبز درخت کی ایک ٹہنی کو لیا اس کو توڑا اور ایک ٹکڑے کو ایک قبر پر لگایا دوسرے ٹکڑے کو دوسری قبر پر لگایا ، پھر آپؐ نے ارشاد فرمایا کہ مجھے امید ہے ان ٹہنیوں کی وجہ سے عذاب موقوف ہوگا۔ تو درخت تسبیحات بھی کرتے ہیں ۔ ہم دعا بھی کرے اور اہتمام بھی کرے اور اپنے اپنے علاقے میں درخت بھی لگائیں اور اپنے گھر کو بھی سرسبز رکھیں اپنے ماحول کو سرسبز رکھیں ، فضائی آلودگی سے بچیں یہ ہمارے صحت کیلئے بے انتہاء مفید ہے۔ صحت اللہ کی بڑی نعمت ہے اس کی قدر کرنی چاہئے ۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ خداداد نعمتوں سے فائدہ اٹھانے کی توفیق عطا فرمائیں۔ آمین

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
دوسروں کے ساتھ اشتراک کریں

متعلقہ خبریں/ مضامین

error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔
إغلاق