پرنس کریم آغا خان کے دورہ چترال کے موقع پر سوشل میڈیا میں متنازعہ پوسٹ کے بعد پیدا شدہ صورت حال کے بارے میں جے آئی ٹی کی کوششوں سے معاملہ خوش اسلوبی سے طے پاگیا۔ – Chitral Express

Premier Chitrali Woolen Products

پرنس کریم آغا خان کے دورہ چترال کے موقع پر سوشل میڈیا میں متنازعہ پوسٹ کے بعد پیدا شدہ صورت حال کے بارے میں جے آئی ٹی کی کوششوں سے معاملہ خوش اسلوبی سے طے پاگیا۔

چترال (نمائندہ چترال ایکسپریس) اسماعیلی کمیونٹی کے روحانی پیشوا پرنس کریم آغا خان کے گزشتہ سال چترال آمد کے موقع پر سوشل میڈیا میں ایک متنازعہ پوسٹ کے بعد پیدا شدہ صورت حال کے بارے میں حقائق معلوم کرنے کے لئے تشکیل جائنٹ انکوائری ٹیم کی کوششوں سے معاملہ نہایت خوش اسلوبی سے طے پاگیا۔ جائنٹ انکوائری ٹیم کے فیصلے کے مطابق جمعہ کے روز ڈی پی او آفس میں منعقدہ اجلاس میں ایم پی اے سلیم خان کی شرکت اوران کی طرف سے پیش کردہ وضاحت اور معذرت کے ساتھ سنی اور اسماعیلی کمیونٹی دونوں اطراف سے اس پر اتفاق کا اظہار کیا گیا ۔ ڈی پی او چترال منصور امان کی سربراہی میں منعقد ہ اس اجلاس میں ضلع ناظم مغفرت شاہ، ایم پی اے سلیم خان، نائب ضلع ناظم مولانا عبدالشکور ، ایڈیشنل ڈی۔ سی۔ منہاس الدین، ایس پی انوسٹی گیشن طارق کریم،مولانا جمشید احمد، بریگیڈیر (ریٹائرڈ) خوش محمد خان، امیر محمد،قاری عبدالرحمن قریشی، شیخ الحدیث مولانا حسین احمد، مولانا الیاس، قاضی سلامت، فضل ربی جان، سردار حکیم، امیراللہ خان، آفتا ب طاہر، قاضی فیصل اور محمد حکیم ایڈوکیٹ شریک ہوئے۔ اس موقع پر ڈی پی او نے جائنٹ انکوائری ٹیم کی خلوص نیت سے کام کرنے اور حالات کو خوشگوار بنانے میں کردار کرنے پر سراہتے ہوئے کہاکہ چترال کے عوام امن پسند ی اپنی کوئی ثانی نہیں رکھتے۔ ضلع ناظم مغفرت شاہ نے کہاکہ چترال میں فرقہ ورانہ ہم آہنگی قائم رکھنے میں یہاں رہنے والے تمام اسٹیک ہولڈروں کا کردار ہے جوکہ نہایت ذمہ دار ی کا مظاہرہ کرتے رہے ہیں ۔
اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
دوسروں کے ساتھ اشتراک کریں

یہ خبر بھی پڑھیں

آنے والےکے الیکشن کے لئے چترال سےایڈوکیٹ عبدالولی خان عابدؔ کارکنان پی ٹی آئی چترال اوراہلیان چترال کا متفقہ اُمیدوار ہے۔ پی ٹی آئی سابق جوائنٹ سیکرٹری سیف الرحمٰن مشکور

چترال(نمائندہ چترال ایکسپریس)پاکستان تحریک انصاف ضلع چترال کے سابق جوائنٹ سیکرٹری سیف الرحمٰن مشکورؔ نے ...