وہ میری گڑیا  – Chitral Express

Premier Chitrali Woolen Products

وہ میری گڑیا 

پروفیسر عظمیٰ شیر
………چترال یونیورسٹی …..
مجھے یہ تو نہیں پتہ کہ میری پیدائش پہ کیا ہوا کیا نہیں ہوا ۔۔چہرے شادمان ہوئے ۔۔کہ بجھے بجھے سے ۔۔کسی نے مسکرا کر میرے دنیا میں آنے کو رحمت کہا ۔یا اضاٖفی بوجھ کہا ۔۔میرے گھر میں شہنائیاں بجیں یا افسردگی کے پھوار گرے ۔۔اگر میں بیٹا ہوتا تو میری ماں ایک فاتح جنرل کی طرح سرخرو ہوتی ۔۔اب ایک شکست خوردہ سپاہی کی طرح ہے ۔۔ مگر اس کا دل دھڑکتا ہے کیونکہ میں اس کے جگر کا ٹکڑا ہوں ۔۔اس کے جسم کا حصہ ہوں ۔۔میری رگوں میں اس کا خون دوڑ رہا ہے ۔۔لیکن بیٹی ہوں ۔۔میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ اس میں میرا کیا قصور ہے ۔۔ میرا بچپن رنگین بھی ہے حسین بھی ۔۔میر ے ماں باپ نہ چاہتے ہوئے بھی مجھ سے پیار کرتے ۔۔میرے کپڑے جوتے ۔۔میری خوراک پوشاک ۔۔میرے لئے تحائف۔۔میری حوصلہ افزائی ۔۔اس کے با وجود بھی مجھے کبھی بیٹے کے برابر نہ سمجھا گیا ۔۔بیٹے کو بندوق ،گھوڑا ،سائیکل ،ویڈیو گیم ،کھیلوں کے سامان ۔۔۔ میرے لئے ایک گڑیا ۔۔باقی سب کچھ یہ کہہ کر بلا دیا جاتا ۔۔کہ بیٹی ہے ۔۔کیا کرے گی ۔۔میرے کھیلنے کے لئے یا تو میرے اپنے بنائے ہوئے گھروندے ۔۔یا گڑیا ۔۔پھر ان گڑیوں کی خاموش شادی ۔۔ایک افسردگی ایک خواب ۔۔بیٹے کی بڑھوتری کے ساتھ اس کی حوصلہ افزائیاں بھی بڑھتی ہیں ۔۔مجھ پہ پابندیاں بڑھتی ہیں ۔۔یہاں تک کہ اونچا بولنے اور کھی کھی ہنسنے پر بھی قدغن ۔۔لیکن میری گڑیا ۔۔میرے بچپن کی ساتھی ۔۔میں گھر کے کاموں میں جت جاتی ہوں ۔۔ادھر ادھر سے کوئی شاہ شاباشی نہیں ۔۔بس کلمو کلمو ۔۔میں کہ کام کرنے کیلئے پیدا ہوئی ہوں ۔۔’’ مجھے کسی پرایا گھر جانا ہے ‘‘ مجھے ہنسی آتی ہے ۔۔’’پرا یا گھر ‘‘ اپنے جگر کے ٹکڑے کو پرائے گھر بھیجنا ۔۔اجنبی لو گوں میں۔۔وہ تو زندگی کا ساتھی ہوگا ۔۔میری دنیا میری کائنات ۔۔میرے خوابوں کا شہزادہ ۔۔۔میں پرایا گھر جا کر کیا کرونگی ۔۔یہ اپنا گھر ہوگا ۔۔یہ والدیں اور رشتہ دار لوگ غلط سمجھتے ہیں ۔۔ہاں مجھے تربیت چاہئیے۔۔میری زات ماڈل ہو ۔۔مجھے نرم دم گفتگو اور گرم دم جستجو ہونا چاہئے ۔۔مجھے تھکنا نہیں چاہیئے ۔۔مجھے نیند نہیں آنی چاہیئے ۔۔مجھے ہنسی اور آنسو دونوں روکنا چاہیئے ۔۔مجھے اپنے جذبات کا اظہار کرنے سے پہلے چہرے پڑھنا چاہیئے ۔۔سسر ساس کے چہرے ۔۔زندگی کے ساتھی کا چہرہ ۔۔ہاہا نند ۔۔دیور ۔۔دیورانیوں کے چہرے ۔۔چہروں کے اس ہجوم میں میرے جذبات کہیں غائب ہوجاتے ہیں ۔۔اس سمے کبھی فرصت ملے تو سوچتی ہوں کہ بیٹیاں گھر کی سانجی ہوا کرتی ہیں کیا یہ ایک افسانوی جملہ ہے یا اس میں کوئی حقیقت بھی ہے ۔۔یہ تو والدیں کے لئے پھول ہوتی ہے مگر اس پھول کو اول دن سے کانٹوں سے ڈرایا جاتا ہے ۔۔کھیلوں تک میں کنجوسی کیا جاتا ہے ۔۔صرف ایک گڑیا ۔۔پھر یہ بھی چھینی جاتی ہے ۔۔اس کو اس وقت اس بات پہ یقین ہوتا ہے جب اس نئے گھر میں وہ خود ایک موم کا مہرہ ۔۔ایک پنڈولم ۔۔ایک گڑیا بن جاتی ہے ۔۔اس کو گھر کا سانجی اور خدا کی رحمت کہنے والے سب کچھ بھول جاتے ہیں ۔۔اے عورت تیرا نام کمزوری ہے ۔۔یہ شکسپیر نے کہا تھا ۔۔میں سوچتی ہوں کہ شکسپئیر نے سچ کہا تھا ۔۔اب یہ کوئی حق نہیں مانگ سکتی کوئی شکایت نہیں کر سکتی ۔۔کسی کو یقین نہیں دلا سکتی کہ اس کے بھی حقوق ہیں ۔۔اس کے سامنے بڑے جوش سے تقریر جھاڑا جاتا ہے کہ اسلام نے عورت کو آزادی دی ۔۔حقوق دئے ۔۔اگر پوچھا جائے کہ کہاں ہیں اگر ہیں تو اس کو کیوں نہیں دیاجاتا ۔۔تو سنی ان سنی کر دی جاتی ہے اور زن آزادی کو طعنہ دیا جاتا ہے ۔۔یہ عورت زات ۔۔یہ پھول ۔۔یہ کائنات کی رنگینی ۔۔یہ گھر کی رونق ۔۔یہ زندگی کی خوشبو ۔۔یہ خاندانوں کی بنیاد ۔۔یہ قوم کی محسن ۔۔کس مقام پہ ہوتی ہے ۔۔یہ سوچنے کا مقام ہے ۔۔اس کے قدموں تلے جنت کی بشارت بے شک ہے لیکن اولاد کبھی وہ جنت نہیں ڈھونتی ۔۔اس کی آغوش میں راحت ہے ۔۔یہ کوئی محسوس نہیں کرتا ۔۔اس کی دعاوں میں جیت کی بشارت ہے ۔۔اس جیت کی کسی کو پرواہ نہیں ۔۔اس کا گداز بدن ۔۔اس کی مسکراہٹ ۔۔اس کی معصوم اکھیاں ۔۔اس کے گھیرے بال ۔۔اس کی گوری کلایاں ۔۔اس کی خنجر پلکیں ۔۔سب کچھ بھلائے جاتے ہیں ۔۔وہ بھدا ہے کلموہی ۔۔وہ وحشت ہے سایہ ۔۔وہ مہیب ہے مہبوت ۔۔اس نے انسانیت سیکھی ہی نہیں ۔۔اس کی تربیت ہوئی ہی نہیں ۔۔عورت مرد سے ڈرے اپنے مجازی خدا سے ۔۔اس کی بدصورتی اس کا قصور ۔۔اس کو سستانے کی کیا ضرورت ہے ۔۔وہ صبر اور شکر کرے ۔۔وہ حکم کی تعمیل کرے ۔۔چادر اور چار دیواری ۔۔نگاہیں نیچی رکھے ۔۔مرد نہ بھی رکھے مگر وہ رکھے ۔۔وہ سپنا لے کے آتی ہے ۔۔ایک پیار کرنے والے شوہر کا سپنا ۔۔کہ اس کو سمجھے۔۔ اسکے جذبات کااحترام کرے ۔۔اس کے حسن کی قدر کرے ۔۔اس کی آرزوں کی تکمیل کر ے۔۔لیکن ایسا نہیں ہوتا ۔۔اگر کسی جذبے کا اظہار بھی ہو تو اس کی لاکھ ملامتیں ہوتی ہیں ۔۔اس کے سپنے ٹوٹ جاتے ہیں ۔۔۔وہ کرچی کرچی ہوجاتی ہے ۔۔تب وہ اس کشمکش میں ہو تی ہے کہ کیا واقعی وہ ’’پرائے گھر ‘‘ میں آئی ہے ۔۔وہ اپنے ڈھونڈنے میں وقت گنوا دیتی ہے ۔۔اس کی گڑیا کو اس سے چھینے زمانہ بیت چکا ہوتا ہے ۔۔اس کی یاداشت میں ایک گڑیا ہے اور ایک اس کی ماں کا وہ جملہ کہ ’’پرائے گھر جاؤ گی ‘‘۔۔۔اب وہ اجنبی لوگوں میں اپنی گڑیا ڈھونڈ رہی ہوتی ہے ۔۔۔یہ عورت کی زندگی ہے ۔۔
اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
دوسروں کے ساتھ اشتراک کریں

یہ خبر بھی پڑھیں

آنے والےکے الیکشن کے لئے چترال سےایڈوکیٹ عبدالولی خان عابدؔ کارکنان پی ٹی آئی چترال اوراہلیان چترال کا متفقہ اُمیدوار ہے۔ پی ٹی آئی سابق جوائنٹ سیکرٹری سیف الرحمٰن مشکور

چترال(نمائندہ چترال ایکسپریس)پاکستان تحریک انصاف ضلع چترال کے سابق جوائنٹ سیکرٹری سیف الرحمٰن مشکورؔ نے ...