تازہ ترینمحمد شریف شکیب

ہارس ٹریڈنگ تنازعہ۔۔ مٹی پاو فارمولہ

…………….محمد شریف شکیب…………
سینٹ انتخابات کا معرکہ تو کب کاسر ہوگیا۔ چیئرمین، ڈپٹی چیئرمین اور اپوزیشن لیڈر کے انتخاب کا مرحلہ بھی مکمل ہوگیا۔ مگر سینٹ انتخابات کے دوران ممبران کی خریدوفروخت اورسیاسی وفا داریاں تبدیل کرنے کے معاملے پر گرما گرم بحث بدستور جاری ہے۔ صوبے میں حکمران جماعت کی طرف سے دلچسپ انکشافات سامنے آرہے ہیں۔ ایک حکومتی رکن نے شکوہ کیا ہے کہ انہوں نے پارٹی امیدوار کو ووٹ دیا تھا۔ مگرکسی کو یقین نہیں آرہا ۔ جس ممبر نے امداد کے نام پر تھوڑے بہت پیسے دیئے تھے۔ اب وہ رقم واپس کرنے کا تقاضا کر رہا ہے۔ اور دھمکیاں بھی دے رہا ہے کہ رقم واپس نہیں کی گئی توآئندہ انتخابات کے لئے انہیں پارٹی کا ٹکٹ نہیں دیا جائے گا۔تاہم مذکورہ ناکام امیدوار نے پیسے واپس مانگنے کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے ٹکٹوں کے معاملے پر ارکان سے رابطہ کرکے مشاورت ضرور کی تھی مگر پیسے کسی سے واپس نہیں مانگے۔ دوسری جانب ایک اپوزیشن جماعت کے صوبائی قائد نے انکشاف کیا ہے کہ حکمران جماعت کے ممبران بہت سستے داموں بکے ہیں۔ موصوف کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس سودے میں وہ بلاواسطہ یا بالواسطہ ملوث رہے ہیں۔ وگرنہ کسی کو کیا پتہ کہ کس ممبر کی کتنی قیمت لگی ۔یوں لگتا ہے کہ موصوف نے خود خریداری کی ہے اورخواتین کی طرح سستا مال خریدنے پر خوش ہیں۔ خواتین بھی کپڑوں اور دیگر گھریلو سامان کی خریداری کے تاو بھاو میں خود کو چیمپئن سمجھتی ہیں۔سودا کرتے وقت بحث و تکرار کرتی ہیں۔اور اپنی پسند کے بھاو پر دکاندار کو لے ہی آتی ہیں۔لیکن سچ پوچھو تو سبھی خواتین اللہ میاں کی گائے ہوتی ہیں۔ دس روپے کی چیز پندرہ روپے میں خریدکر پھولے نہیں سماتیں کہ انہوں نے دکاندار کو خوب شیشے میں اتارا ہے۔ حالانکہ دکاندار بھی اتنے سادہ گل نہیں ہوتے۔ وہ دس روپے مالیت کی چیز کی قیمت پچیس روپے بتا کر پندرہ روپے میں بیچنے پر راضی ہوجاتے ہیں ۔حکمران جماعت کی طرف سے اعلان کیاگیا تھا کہ ووٹ بیچنے والوں کے خلاف سخت کاروائی کی جائے گی۔ اپوزیشن والے بغلیں بجارہے تھے۔ کہ اب حکومت کی اکثریت اقلیت میں تبدیل ہونے ہی والی ہے۔ پہلے پہل انیس ارکان کے نام لئے جارہے تھے۔ کہ انہوں نے اپنی پارٹی کے نامزد امیدواروں کو ووٹ دینے کے بجائے چار کروڑ سے نو کروڑ روپے تک اپنے ووٹ بیچے ہیں۔ معاملے کی تحقیقات کا فیصلہ کیا گیا۔ آخر میں طے پایا کہ کسی کے خلاف ٹھوس ثبوت نہیں ملا۔ جن پر شک ہے انہیں اگلے انتخابات کے لئے ٹکٹ نہیں ملے گا۔اس اعلان پربھی مجھ جیسے سادہ لوح غلط فہمی میں مبتلا ہیں کہ ہارس ٹریڈنگ کرنے والوں کو اب پتلی چھلنی میں ڈال کر خوب چھانا جائے گا۔کچھ لوگوں نے ممبران اسمبلی کی فہرستیں تک بنانی شروع کردی ہیں کہ ان میں سے جن کو ٹکٹ نہیں ملے گا وہی بکاو ممبران متصور ہوں گے۔سوچنے کی بات یہ ہے کہ جن لوگوں نے صرف ایک ووٹ کے کروڑوں روپے کمائے ہیں انہیں ٹکٹ کی کیا ضرورت ہے۔ انہوں نے بھی کچھ سوچ سمجھ کر سودا کیا ہوگا۔انہیں بھلا ٹکٹ کی کیا ضرورت ہے۔سینٹ کی آمدن کا ایک چوتھائی بھی خرچ کریں تو الیکشن دوبارہ جیتنے کے امکانات پیدا ہوسکتے ہیں۔بہتر یہی ہے کہ اس بات کو بار بار دھرانے کے بجائے اس بارے میں ’’ مٹی پاو‘‘ والی پالیسی اپنانی چاہئے کیونکہ ماضی میں بھی ایسا ہوتا رہا ہے۔ایک سیاسی رہنمانے بھرے مجمع میں ایک سے زیادہ مرتبہ تسلیم کیا ہے کہ ماضی میں بھی سینٹ الیکشن میں پیسہ چلتا رہا اور ہارس ٹریڈنگ ہوتی رہی ۔ مگر فرق صرف اتنا ہے کہ پہلے صرف گھوڑے بکتے تھے اب پورے کے
پورے اصطبل خریدے گئے۔سبھی پارٹیوں نے اتفاق کیا تھا کہ ہارس ٹریڈنگ روکنے کے لئے ہر ممکن اقدامات کریں گے۔ مگر ان کے اقدامات نظر آئے نہ ہی وہ اس سلسلے میں کوئی قانون بنانے پر تیار ہیں۔ کیونکہ یہ مراعات یافتہ طبقے کے مفادات کا معاملہ ہے۔ مشترکہ مفادات کی بات جہاں آجائے تو سارے سیاست دان ایک ہوجاتے ہیں۔ چونکہ اس حمام میں سارے ہی ننگے ہیں اس لئے وہ اپنی برادری کے مفادات کا خاص خیال رکھتے ہیں ۔قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں یہی دیکھا گیا ہے کہ کسی عوامی مفاد کے بل پر کبھی اتفاق نہیں ہوتا۔ لیکن اراکین اسمبلی کی تنخواہیں اور مراعات میں اضافے کی بات آجائے تو اس کی حمایت میں اراکین اسمبلی دونوں ہاتھ اٹھاکر اس کی بھر پور تائید کرتے ہیں۔اس بار بھی سینٹ الیکشن براہ راست کرانے کے لئے قانون بنانے کا خواب شرمندہ تعبیر ہوتا نظر نہیں آتا۔
اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
دوسروں کے ساتھ اشتراک کریں

متعلقہ خبریں/ مضامین

error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔
إغلاق