چترال یونیورسٹی میں انٹرنیشنل باٹنی کانفرنس. قلیل مدت میں اس قدر کا میابی کے لیے چترال یونیورسٹی کے پراجیکٹ ڈائریکٹربادشاہ منیر داد و تحسین کے مستحق ہیں – Chitral Express

Premier Chitrali Woolen Products

چترال یونیورسٹی میں انٹرنیشنل باٹنی کانفرنس. قلیل مدت میں اس قدر کا میابی کے لیے چترال یونیورسٹی کے پراجیکٹ ڈائریکٹربادشاہ منیر داد و تحسین کے مستحق ہیں

سماجی کارکن قومی رضاکار
عنایت اللہ اسیر. 03469103996
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔aseerchitral@yahoo.com۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اُمید پیدا ہوگئی ہے کہ یہ ادارہ اگر مرکزی اور صوبائی حکومتوں نے چترال یونیورسٹی کو فنڈز کی فراہمی میں کمی نہیں کیا تو یہ ادارہ صوبائی,ملکی ,ریجنل اور بین الاقوامی طور پر اعلی تحقیقاتی ادارے کے طور پر بہت جلد دنیا کے بہترین تعلیمی اداروں کے صف میں اپنا مقام پیدا کریگا
خاص کر چترال یونیورسٹی اپنےقدرتی جغرافیائی حیثیت میں پاکستان سنٹرل ایشیا گیٹ وے پر قائم ہے اس ادارے کو صرف چترال یونیورسٹی کا نام دینے کے بجائے چترال ریجنل یونیورسٹی کا نام دے کر اس کے دروازے پورے روسی ترکستان اور چینی ترکستان افغانستان کے طلباء کے لیے تمام سہولیات فراہم کرنے کے ساتھ کھولا جائےچترال اپنے پر امن ماحول میں ان کے ڈور اسٹپ پر اعلی تعلیمی سہولیات فراہم کرنے کی خصوصیات رکھتا ہےچترال کے گرمائی چراگاہیں Meadicen Plantsسے بھرے پڑے ھیں وساییل اور محقق افراد کے بھر پور وسایل کے ساتھ تحقیقاتی ادارے کے ساتھ کام کرنے کی ضرورت ھےبلکل اسی طرح چترال کے بلند بانگ پہاڑیاں لعل و جواھر سے بھرے پڑے ہیں خود Geographical Survey اف پاکستان کے رپورٹ کہتا ہے ان کا یہ جملہ نہایت قابل غور ہے( چترال کے باشندے خزانے پر سوے ہوے شیر کی مانند ہیں) چترال یونیورسٹی معدنیات کے تحقیق میں بھی اپنی خدمات انجام دے سکتا ہےچترال ریجنل یونیورسٹی اس ریجن کے تمام ممالک کے آپس میں بہترین اور مضبوط قریبی تعلقات کے استوار کرنے کے بہترین مواقع فراہم کریگا ہم نے پہلے ہی بہت وقت ضائع کیا ہے فلحال مذید وقت ضائع کیے بے غیر سنٹرل ایشیا کے تمام مسلم برادر ممالک,افغانستان,ایران ,ترکی نیپال اور دوست ملک چین کے دوست ملک کے وفود کا مشترکہ اجلاس سیاحت,تجارت اور ریجنل تعلقات کی بہتری ویزے کی سہولیات پر بات چیت کے لیے سہ روزہ کانفرنس چترال میں اگست ستمبر 2018 میں منعقد کی جائے محکمہ سیاحت اور وزارت تجارت اس ریجنل کانفرنس کا انعقاد کرے چترال ریجنل یونیورسٹی اس کانفرنس کے میزبانی اور انتظامات کرنے کی بھر پور صلاحیت اور مواقع رکھتا ہے صرف وسائل کی فراہمی وزارت سیاحت اور وزارت تجارت فراہم کریں تو اس اہم کانفرنس کا انعقاد ممکن ہوگااس کانفرنس کے ایجنڈے میں چترال خروک فوکر فلایٹ جو اسلام آباد,چترال خوروک,چترال اسلام آباد اور چترال گلگت فوکر فلایٹ کے اجراء جو CPEC کی تعمیر اور دیگر زیرے تعمیر میگا پراجیکٹس کی تعمیر کے دوران چین کے ٹیکنیشن افراد کو بروقت پر امن طور پر آنے جانے کے لیے نہایت ضروری ہے متعلقہ علاقے کے نمایندوں کے اپس میں مل بیٹھے بے غیر ان امور پر فیصلہ ممکن نہیں.سنٹرل ایشیا کے مسلم برادر ممالک سے گوادر پشاور چترال تاجکستان ایک اور مختصر ترینGSEC گوادر سنٹرل ایشیا اکنامک کوری کی تعمر پر بھی بات کی جاسکتی ہے لاواری ٹنل کی تکمیل سے یہ شاھراہ عین ممکن ہوگئی ہے افغانستان ,چین اور پاکستان نے افغانستان راستے ایک دوسرے کو فراہم کرنے کا معاہدہ کرنے کے بعد چترال,گرم چشمہ اشکشیم ہائی وے کی تعمیر عین ممکن ہوگئی ہے اور پیش رفت کی آشد ضرورت ہےچترال یونیورسٹی کے PD انتہائی فعال فرزند چترال ڈاکٹر بادشاہ منیر اور اسکی ٹیم ہر قسم کی تعمیری ملکی اور بین الاقوامی اور ریجنل کانفرنسس منعقد کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں پاکستان کے تمام یونیورسٹیز چترال کے بہترین پرامن ماحول اورخوشگوار موسم قدرتی مناظر میں چترال ریجنل یونیورسٹی سے MOUs Sigen کرکے یہاں سمینارز اور تحقیقاتی کام کراسکتے ہیں .

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
دوسروں کے ساتھ اشتراک کریں

یہ خبر بھی پڑھیں

آنے والےکے الیکشن کے لئے چترال سےایڈوکیٹ عبدالولی خان عابدؔ کارکنان پی ٹی آئی چترال اوراہلیان چترال کا متفقہ اُمیدوار ہے۔ پی ٹی آئی سابق جوائنٹ سیکرٹری سیف الرحمٰن مشکور

چترال(نمائندہ چترال ایکسپریس)پاکستان تحریک انصاف ضلع چترال کے سابق جوائنٹ سیکرٹری سیف الرحمٰن مشکورؔ نے ...