علاقہ تورکھو کی مٹی میں قدرت کا کونسا راز پوشیدہ ہے – Chitral Express

Premier Chitrali Woolen Products

علاقہ تورکھو کی مٹی میں قدرت کا کونسا راز پوشیدہ ہے

………..وقاص احمد ایڈوکیٹ

 علاقہ تورکھو آبادی کے لحاظ تقریباً 54 ہزار کے آبادی پر مشتمل ہے ریاست کے زمانے میں شاگرام تورکھو کا ہیڈ کواٹر ہو تاتھا اور گاوں شرجولی میں یودیز کے نام سے ایک قلعہ ہو تا تھا مہتر امان الملک کے زمانے میں یہ قلعہ شاگرام کے وسطہ میں تعمیر کیا گیا اور یہ قلعہ اب بھی شاگرام میں موجود ہے اور اس قلعے کا گورنر ولی عہد ہوتاتھا جو بعد میں حکمران یعنی مہتر بنایا جاتا تھا تورکھو کا سب سے پہلا گاوں استارو ہے اسستارو گاوں سے ایک صاحب ڈی سی او ریٹائرڈ ہوچکا ہے اس کے علاوہ پاکستان آرمی کے افسرز بھی ہیں اس کے بعد تعلیم کا زرخیز ترین گاوں ورکوپ آتا ہے ورکوپ کو تورکھو کا اکسفورڈ کہا جاتاہے ورکوپ کے ہر گھر میں تعلیم سے وابستہ اشخاص موجود ہوتے ہیں جن میں کالج پرنسل,پروفیسرز,لائبرین ،ہیڈ ماسٹرز، اساتذہ غرض تعلیم کے شعبے سے وابستہ افراد کسرت سے ملتے ہیں اس گاوں سے پاک آرمی میں پریگیڈئر کے طور پر بھی خدمات انجام دے چکے ہیں اور اپ بھی پاک ارمی کے افیسرز موجود ھیں اس گاوں میں ,اے ڈی سی، ڈاکٹر ,دیگر تعلیم یافتہ لوگ موجود ہیں۔ اس کے بعد گاوں رایئن آتاہے گاوں رایئن پولیس آفسروں سے بھری پڑی ہے چترال میں چار سالوں سے بطور ڈی پی او کام کرنے والا سخص کا تعلق بھی اسی گاوں سے ہے اس علاقے کے لوگ بطور جونیئر کمیشنڈ افسر پاک فوج موجود تھے اور ھیں اسی گاوں سے تعلق رکھنے والے کمیشنڈ افسرز اور آرمی ایویشن کا ماسٹر ٹرینرافسر بھی موجود ہے اور قانوں کے شعبے سے بھی تعلق رکتھے ہیں اس کے اپر گاوں مڑپ ہے گاوں مڑپ کے لوگ انتہائی جفاکش ہیں اور پشاور یونیورسٹی محکمہ جعرافیہ کا چر مین کا تعلق بھی گاوں مڑپ سے ہے اور دیگر تعلیم کے شعبے سے تعلق بھی رکتھے ہیں گاوں شاگرام بھی تعلیم کا گڑھ رہاہے یہاں کے باشندوں میں اکثر لوگ شعبہ تعلیم سے وابستہ ہیں لکچرار اور اساتذہ بھی شاگرام کے باسیی ہیں اس کےعلاوہ پولیس افسروں کا زیادہ تعداد بھی شاگرام سے ہیں اس گاوں کے ساتھ ایک چھوٹا سا گاوں شوتخار کے نام سے جانا جاتا ہے اس گاوں کے لوگ زیادھ تعلیم یافتہ ہے اور تورکھو سے تعلق رکھنے والا دوسرا سی ایس ایس افسر اور چترال کا دوسرا پی ایس پی افسر کا تعلق بھی گاوں شوتخار سے ہے اور شوتخار سے تعلق رکھنے والا پاک ارمی کا کمیشنڈ افسر بھی ہے اس کے بعد گاوں بوزند جو کہ دریا کے شرقاًواقع جبکہ گاوں واشچ دریاے کےغرباًواقع ہے یہاں پر بھی اساتذہ ،لکچرار،فیمل لکچرار، کمیشنڈ افسرزاور دیگر عہدوں میں افسر لوگ مقیم ہیں یہاں کا ایک باشندہ برخوردار بین القوامی مضموں نویسی میں پورے دنیامیں پہلی پوزیشن حاصل کرچکا ہے اس کےعلاوہ اس گاوں میں قانون کے شعبہے سے تعلق رکھنے والے اعلیٰ وکلا بھی ہیں اس کے بعد گاوں زانگلشٹ آتاہے جو کہ شہید کپٹن اجمل کا آبائی گاوں ہے اور شہید کپٹین اجمل کو فوجی اعزازات سے بھی نوازا گیا ہے اس کے بعد گاوں اُجنوآتا ہے یہ گاوں بھی تعلیمی لحاظ سے کسی تعارف کا مہتاج نہیں اس گاوں میں تعلیم کے شعبے سے تعلق رکھنے والے اساتذہ تورکھو سے پہلا سی ایس ایس افسر اور پہلا سول جج کا تعلق بھی اسی گاوں سے ہے آبادی کے لحاظ سے چھوٹا گاوں ہونے کے باوجود اسی گاوں سے ایک صاحب نے بطوار ایم پی اے دودوفعہ اسمبلی میں چترال کی نمائند گی کی ہے اسی گاوں میں وکلا اور سرکاری افسران نے انکھ کھلی ہے خاکسار کا تعلق بھی اسی گاوں سے ہے جبکہ تورکھو کاآخری گاوں بلکہ پاکستان کا آخری گاوں ریچ ہے یہ گاوں تعلیم کے لحاظ سے زرخیز ہے تورکھو کا پہلا پی ایم ایس افسر کا تعلق بھی اس گاوں سے ہے اور اس مٹی نے سکالر بھی پیدا کیے ہیں کھوت کوچترال کا خوبصورت ترین گاوں گر کہو تو بے جا نہ ہوگا کھوت تورکھو میں سب سے ترقی یافتہ اور کھوت کے باسی انتہائی تہذیب یافتہ مانےجاتے ہیں یہ گاوں بھی تعلیم سے مالامال ہے یہ گاوں اعلیٰ تعلیم یافتہ, پی ایچ ڈی اور اعلیٰ پولیس ,کمیشنڈ افسروں سے ما لا مال ہے مزکورہ بالا حقائق کو مدنظر رکتھے ہوے میں فخر سے کہہ سکتاہوں کہ مجھے اپنے آبائی علاقے پرنازہے اورغور کریں کہ علاقہ تورکھو میں قدرت کا کوئی راز پوشیدہ نہیں بلکہ محنت کاثمر ہیں

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
دوسروں کے ساتھ اشتراک کریں

یہ خبر بھی پڑھیں

تخت بھائی کے علاقے مدے بابا ہادی کلے میں ایک روز قبل لاپتہ ہونے والی چھ سالہ بچی کی نعش گھر کے قریب کھیتوں سے برآمد۔

مردان /تخت بھائی( چترال ایکسپریس) تحصیل تخت بھائی کے علاقے مدے بابا ہادی کلے میں ...


دنیا بھر سے

error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔