صوبہ خیبر پختونخوا کے طول و عرض میں پیر 09اپریل سے3 روزہ انسداد پو لیو مہم کا آغاز کیا جارہاہے – Chitral Express

Premier Chitrali Woolen Products

صوبہ خیبر پختونخوا کے طول و عرض میں پیر 09اپریل سے3 روزہ انسداد پو لیو مہم کا آغاز کیا جارہاہے

پشاور(چترال ایکسپریس)صوبہ خیبر پختونخوا کے طول و عرض میں پیر سے 3روزہ انسداد پولیو مہم کا آغاز کیا جارہاہے۔مہم کے لئے تربیت یافتہ پولیو ورکرز کی21126ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیںیہ بات جمعہ کے رواز ایمرجنسی آپریشن سنٹر خیبرپختونخوا میں منعقدہ اعلی سطحی اجلاس کے دوران کہی گئی جس کی صدارت کوارڈینٹر ای او سی عاطف رحمان نے کی جبکہ ڈائریکٹر ای پی آئی ڈاکٹر اکرم شاہ، یونیسیف کے صوبائی ٹیم لیڈر ڈاکٹر جوہرخان، بی ایم جی ایف کے ٹیکنیکل فوکل پرسن ڈاکٹر امتیاز علی شاہ، ڈبلیو ایچ او کے ڈاکٹر عبدی ناصر اور دیگر متعلقہ حکام نے بھی شرکت کی اس موقع پر کوآرڈینٹر عاطف رحمان نے بتایا کہ خیبر پختونخوا حکومت ایک جامع پروگرام کے تحت صوبہ سے پولیو کے خاتمہ کے لئے تمام تر وسائل بروئے کار لارہی ہے جس کے نتیجہ میں نمایاں کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں تاہم ہمارا ہدف صوبہ اور خطہ سے پولیو کے موذی مرض کا مکمل اور مستقل خاتمہ ہے انہوں نے معاشرے کے تمام طبقات پر زور دیا کہ بچوں کو عمربھرکی معذوری سے محفوظ رکھنے کے اہم قومی فریضہ میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں اس اہم اجلاس کے دوران صوبہ بھر میں 9اپریل سے شروع ہونے والی انسداد پولیو مہم کے انتظامات کو حتمی شکل دی گئی اجلاس کو بتایا گیا کہ اس تین روزہ مہم کے دوران بچوں کو پولیو سے محفوظ رکھنے کے لئے قطرے پلانے کے ساتھ ساتھ مختلف بیماریوں کے خلاف ان کی قوت مدافعت بڑھانے کے لئے انہیں وٹامن اے کی خوراکیں بھی دی جائیں گی اس مقصد کے لئے مجموعی طور پر پانچ سال سے کم عمر کے57لاکھ 37ہزار125بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کا ہدف مقررکیا گیا ہے اس مہم کے لئے تربیت یافتہ پولیو ورکرز کی21126ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں جن میں 18300موبائل ٹیمیں، 1552فکسڈ، 982ٹرانزٹ اور292رومنگ ٹیمیں شامل ہیں پولیو ٹیموں کی موثر نگرانی کے لئے 4802ایریا انچارجز مقرر کئے گئے ہیں اجلاس کو بتایا گیا ہے کہ اس تین روز انسدا دپولیو مہم کے دوران سیکورٹی کے خصوصی انتظامات کئے گئے ہیں جس کے لئے پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے 30ہزار سے زائد اہلکار سیکورٹی ڈیوٹی سرانجام دیں گے۔
اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
دوسروں کے ساتھ اشتراک کریں

یہ خبر بھی پڑھیں

داخلے جاری ہیں

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ...


دنیا بھر سے

error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔