تازہ ترینشعروشاعریہما حیات

حوا کی گود سے جنمی

…………تحریر : ہما حیات ،چترال………
سزا میرے لئے ہی ہے ؟ ظلم کی آگ میں جھلسوں ؟
حوا کی گود سے جنمی تو میں انصاف کو ترسوں ؟

ہوس کے عرض سے اتری یا پھر زر سے خریدا ہے ؟
تیرا ہر ظلم میں سہہ لوں لحد کی گود میں اتروں ؟

مجھے کمزور سمجھا ہے یا پھر دستور ہے تیرا ؟
بھلی خاموش ہوجاؤں میں یہ دستور نہ بدلوں ؟

کیا کوئی ہے جو مجھ کو دے سکے انصاف منصف سے ؟
وہ تختہ دار پر لٹکیں یا پھر اس بار بھی میں لٹکوں ؟

مجھے درگور کرتے تھے یہ سانسیں روک لیتے تھے ؟
میں تیرے دور میں بھی کیا انہی دردوں سے پھر تڑپوں ؟

تیری ہر بات مانی ہے مجھے ہی جان دینی ہے ؟
میں اب بھی بت بنی بیٹھوں صبر کے نام سے سہہ لوں؟

میرے حق میں لڑوگے ناہماؔ یا بھول جاؤ گے ؟
صدا بن کر میں گونجوں یا قبر میں بے زبان لیٹوں ؟

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
دوسروں کے ساتھ اشتراک کریں

متعلقہ خبریں/ مضامین

error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔
إغلاق