‘‘چترال کےقدیم کھیل’’بوڈی دیک – Chitral Express

Premier Chitrali Woolen Products

‘‘چترال کےقدیم کھیل’’بوڈی دیک

………تحریر:وقاص احمد ایڈوکیٹ………

چترال کے محتلف علاقوں کے لوگ اپنے ثقافت کو ترقی دینے کی کوشش کر رہے ہیں اور اپنے ثقافت کو بر قرار رکھے ہو ے ہیں مثلاً,جشن گبور ,جشن ,قاقلشٹ,جشن بروغول اور جشن لون وغیرہ شامل ہے چترال میں ایک کھیل ایسا بھی ہے جس کے بارے میں شاید نئی نسل کو علم نہ ہو گا جس کو ’’بوڈی دیک ‘‘کہا جاتاہے یہ کھیل ریاست کے زمانے میں بہت مقبول تھا یہ صرف علاقہ تورکھو میں کھیلا جاتا تھا اور اب بھی تورکھو میں کھبی کھبی کھیلا جاتاہے ریاست کے زمانے میں اس کھیل میں گورنر تورکھو اورکھبی کھبی مہترچترال بھی شرکت کر تا تھا اور بوڈی دیک کے میچ میں کم از کم ایک بکرا رکھا جاتاتھا جو ہارنے والے ٹیم سے وصول کیا جاتا تھا اور اس بکرے کو ذبح کرکے شام کے کھانے کا انتظام کیا جاتا تھا اورکھانے کے بعد زبردست ثقافتی محفل کا بھی انتظآم ہوتاتھا اور رات گئے تک موسقی اور ڈانس ہو تے تھے میں نے خود بھی بوڈی دیک میں شرکت کی ہے ,بوڈی دیک اکثر اگست اور ستمبر کے مہنے میں کھیلا جاتا ہے جب گندم کی کٹائی کے بعد کھیت خالی ہو تے ہیں تو ان خالی کھیتوں میں بوڈی دیک کھیلا جاتاتھا بوڈی دیک کے لیے گراونڈ کی کوئی حد نہیں ہوتی ہے اور کھلاڑیوں کی بھی کوئی تعداد متعین نہیں ہوتی یعنی جتنے بھی کھلاڑی ہو ان کو دو برابر تقسیم کرکے دو ٹیم بنائی جاتی ہیںاس میں ٹاس ہوتی ہے اور ٹاس جتنے والے ٹیم کی مرضی ہوتی ہے کہ وہ بوڈی دیں یا پالیاک بن جاے بوڈی دیک کی مثال جیسے کرکٹ میں بیٹنگ کرنے والے کی ہوتی ہے بوڈی میں ایک گول خوشک لکڑی ہوتی ہے جس سے بوڈی کو مارا جاتا ہے بوڈی ہاکی کے بال گند جیسی لکڑی سے بنایا جاتاہے وہ ہاکی کے بال سے چھوٹا ھوتاہے جس ٹیم کا کھلاڑی پہلے بوڈی مارتا ہے وہ اس طرح مارتاہے کہ بوڈی یعنی گند کوایک ہاتھ سے اوچھالتا ہے اور دوسرے ہاتھ سے اس گول لکڑی سے بال کو مارتاہے جس کو ڈازبان, دینی کہا جاتا ھے اور مخالف ہر کھلاڑی کے ہاتھ میں ایک ھلکا سا گول خوشک لکڑی ہوتاہے جو لکڑی یعنی دینی جس لکڑی سے گند کو مارا جاتا ہے اس سے ہلکا اورخشک ہوتاہے تاکہ اگر مخالف کھلاڑی گند کو اوچھال کر مارے تو دوسرے سائڈ کے کھلاڑی اپنے ڈازبان یعنی اسٹیک سے اس گند کو زمین پر گرنے سے پہلےاپنے اسٹیک سے روکے یا اگر زمین پر گرنے سے پہلے اسٹیک پھینک کر گند کو مارے تو مخالف کھلاڑی اوٹ ہو جا تاہے اگر گند کسی کے اسٹیک لگنے سے پہلے زمین پر گر جاے تو ان میں سے ایک کھلاڑی ان کو جتنے اُنچھائی پر پھینکے، پھینک سکتا ہے لیکن وہ گند ایک دائرے کے اندر گرنا ہوتاہے جہاں وہ کھلاڑی گرنے سے پہلے جتنے طاقت سے اس گند کو مارے اور گند کسی کے اسٹیک سے لگے بعیر زمین پر گریں تو اتنا پوائنٹ ان کو دیا جاتاہے اوراس پوائنٹ کو گوع کہا جاتاہے جو ایک سے شروع ہوکر ایک شارٹ میں 30 تک دیا جاتاہے اور جج کو گوع وال کہا جاتاہے اس طرح اگر گند کو مارنے والے کھلاڑی کی گند زمین پر لگنے سے پہلے اگر مخالف ٹیم کا کوئی بھی کھلاڑی اس گند کو اپنے اسٹیک سے مارے یا اسٹیک پھنک کر گند کو مارے تو وہ کھلاڑی اوٹ ہو جاتاہے اس طرح سارے کھلاڑی اوٹ ہونے کے بعد دوسرے ٹیم کی باری آجاتی ہے اگر مخالف ٹیم کا کھلاڑی اس اسکور یعنی گوع کو پورا کریں تو وہ جیت جائے گا ورنہ اگر پہلے والے ٹیم کا اسکور گوع رہ جاے تو وہ جیت جاتی ہے …یہ کھیل میرے خیال سے تورکھو کے علاوہ اور کسی علاقے میں ہوتی …میرے تورکھو کے منتخف وییلج ناظمین سے یہ درخواست ہے کہ وہ اس سال شاگرام میں بوڈی دیک کا ٹورنمنٹ منقعد کریں اور اس کو جشن تورکھو کا نام دیا جائے تاکہ اس منفرد کھیل کو دیکھنے کے لئےباہر سے لوگ آئے اور ہماری ثقافت محفوظ رہے اس کو پروموٹ کرنے کے لیے سابق ناظم عبدالقیوم بیگ,ذاکر زحمی اور نوجوانان شاگرم اپنا کردار ادا کریں جسکی وجہ سےعلاقے کو بھی فائدہ ہوگا میں نےبوڈی کا ایک ساد ہ خاکہ پیش کرنے کی کوشش کی ہے بوڈی میں چیرچیلک وغیرہ بھی ہیں چونکہ تورکھو وی سی چرمین اکثر نوجوان ہیں اپنےعلاقے کو پروموٹ کر نے کی کو شش کریں اور بوڈی کھیل کو ناپئد ہونے سے بچائے

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
دوسروں کے ساتھ اشتراک کریں

یہ خبر بھی پڑھیں

ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن کے زیر اہتمام “ملکی کپ”پولو ٹورنامنٹ بدھ کے روز اختتام پذیر ہوا،چترال سکاؤٹس نے فائنل جیت لیا

چترال (نمائندہ چترال ایکسپریس) ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن کے زیر اہتمام “ملکی کپ”پولو ٹورنامنٹ بدھ کے روز ...


دنیا بھر سے