تازہ ترین

وزیر مملیکت برائے اطلاعات، نشریات مریم اورنگزیب نے چتر ال پریس کلب کے عہدیداروں سے حلف لیا

چترال (نمائندہ چترال ایکسپریس) وزیر مملیکت برائے اطلاعات، نشریات اورقومی ورثہ مریم اورنگزیب نے جمعرات کے روز پی آئی ڈی میڈیا سنٹر اسلام آباد میں چتر ال پریس کلب کے عہدیداروں سے حلف لیا جن میں صدر ظہیر الدین، سینئر نائب صدر سیف الرحمن عزیز ، جنرل سیکرٹر ی عبدالغفار ، فنانس سیکرٹری نورافضل خان اورآفس سیکرٹری نذیر احمد شاہ شامل تھے۔ اس موقع پر چترال سے قومی اسمبلی کے رکن شہزاد ہ افتخارالدین بھی موجود تھے۔ اپنے خطاب میں وزیر مملکت نے صحافیوں پر زور دیا کہ وہ اپنے قلم کے ذریعے سچ کو سامنے لائیں اور سچ ہی کو اجاگرکریں تاکہ کام کرنے اور نہ کرنے والے دونوں لوگوں کے سامنے واضح ہوسکیں ہوسکیں۔انہوں نے کہاکہ میاں نواز شریف نے لواری ٹنل منصوبے کو ا پنے لئے سب سے ذیادہ عزیز رکھا اور اپنے دور حکومت میں اسے پایہ تکمیل تک پہنچاکر چتر ال کا رابطہ ملک کے دیگر حصوں کے ساتھ سال بھر برقرار رکھا جبکہ یہ پراجیکٹ کئی دہائی سالوں سے نامکمل چلی آرہی تھی۔ ایم این اے شہزادہ افتخار الدین نے چترال میں ترقیاتی کاموں کے حوالے سے میاں نواز شریف اور موجودہ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کی خصوصی دلچسپی کا ذکرکیا اور کہا کہ یہ گزشتہ ستر سالوں کی مجموعی ترقیاتی کاموں سے ذیادہ ہے جس سے چترالی عوام کی احساس محرومی دور ہوگئی ہے۔ انہوں نے انجام دئیے گئے ترقیاتی کاموں کی تفصیل بیان کرتے ہوئے کہاکہ لواری ٹنل پراجیکٹ کی طرح گولین ہائیڈروپاؤر پراجیکٹ کا بھی 80فیصد سے ذیادہ فنڈ اس حکومت نے فراہم کرکے اس کی تکمیل کو یقینی بنائی۔ انہوں نے کہاکہ سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف نے چار مرتبہ چترال کا دورہ کیا جوکہ ان کی چترال سے دلچسپی کا مظہر ہے ۔ ان کا کہنا تھاکہ ان کی درخواست پر وفاقی حکومت نے چترال کے اندر سڑکوں گرم چشمہ روڈ، کالاش ویلی روڈ ، شندور روڈ کی منظوری ، چترال یونیورسٹی کے قیام کے لئے خطیر رقم کی فراہمی، کئی مقامات پر گیس پلانٹ کے ذریعے قدرتی گیس کی فراہمی کا منصوبہ ، یونیورسل سروسز فنڈ کے ذریعے چترال کے سوفیصد علاقوں میں موبائل فون سروس کا اجراء اس حکومت کے وہ چترالی عوام پر وہ احسانات ہیں جن کی منظوری ان کی خصوصی درخواست پر دی گئی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ چترال کو سی پیک منصوبے کا حصہ بنانا ، اویر تریچ روڈ اور دوسرے کئی ایسے منصوبے ہیں جن سے چترال کے عوام استفادہ کریں گے۔
اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
دوسروں کے ساتھ اشتراک کریں

متعلقہ خبریں/ مضامین

error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔
إغلاق