تازہ ترینمحمد شریف شکیب

تازہ ہوا کا جھونکا

…………محمد شریف شکیب…………..
سکولوں میں گرمیوں کی تعطیلات شروع ہونے میں دو مہینے رہ گئے۔ والدین کی پریشانیوں میں اضافہ ہونے لگا کہ اپریل اور مئی کی فیسوں کے ساتھ جون ، جولائی اور اگست کی فیسیں بھی پیشگی جمع کرانی ہوں گی اور ٹرانسپورٹ کی سہولت استعمال نہ کرنے کے باوجود تین مہینوں کی یک مشت فیس اس مد میں بھی ادا کرنی ہے۔ پرائیویٹ سکولوں میں اپنے بچوں کو پڑھانے والوں میں نوے فیصد تنخواہ دار اور چھوٹے پیمانے پر کاروبارکرنے والا طبقہ شامل ہے۔ جن کے لئے بچوں کی تین مہینوں کی چھٹیوں کے پیسے جمع کرانا ایک چیلنج سے کم نہیں۔ جن کے چار پانچ بچے سکولوں میں پڑھتے ہیں ان کا تین مہینوں کا گھریلو بجٹ سکول فیسوں کی وجہ سے تلپٹ ہوجاتا ہے۔ اسی دوران تازہ ہوا کے جھونکے کی طرح پرائیویٹ سکولز ریگولیٹری اتھارٹی کا اعلامیہ منظر عام پر آیا ہے۔ جس میں والدین کو یہ نوید سنائی گئی ہے کہ کوئی پرائیویٹ سکول ایک ماہ سے زیادہ کی چھٹیوں کی ٹیوشن اور ٹرانسپورٹ فیس وصول نہیں کرسکے گا۔ البتہ بجلی، گیس، پانی وغیرہ کے بلوں اور دیگر اخراجات کے لئے سکول مالکان ٹیوشن فیس کا پچاس فیصد وصول کر سکیں گے۔ جن کے ایک سے زیادہ بچے ایک ہی سکول میں ہوں گے ۔ ایک بچے کی پوری فیس اور اس کے دیگر بہن بھائیوں سے نصف فیس وصول کی جائے گی۔ریگولیٹری اتھارٹی نے سکول ٹرانسپورٹ میں بچوں کو جانوروں کی طرح ٹھونسنے اور گاڑی کی سائیڈوں پر لٹکانے پر بھی برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ٹریفک پولیس کواختیار دیا ہے کہ ایسی گاڑیوں کا چالان کیا جائے۔اتھارٹی نے پیشگی منظوری کے بغیر فیسوں میں سالانہ اضافے کو بھی غیر قانونی اور بدنیتی پر مبنی قرار دیا ہے۔ ریگولیٹری اتھارٹی نے تعلیمی اداروں کو متنبہ کیا ہے کہ سکولوں کے اندر ٹک شاپس پر کھانے پینے کی معیاری اشیاء کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔ پرائیویٹ سکولز ریگولیٹری اتھارٹی کے اعلامیہ سے قبل اکتوبر 2017میں پشاور ہائی کورٹ نے سگے بہن بھائیوں کو فیسوں میں پچاس فیصد چھوٹ دینے اور تعطیلات کے دوران بچوں سے فیسیں نہ لینے کے حوالے سے تفصیلی فیصلہ دیا تھا۔ لیکن پرائیویٹ سکولوں کے مالکان نے عدالت عالیہ کے فیصلوں کو اٹھا کر طاق نیسان پر رکھ دیا تھا۔ اب ریگولیٹری اتھارٹی نے عدالتی فیصلے پر عمل درآمد کے سلسلے میں اپنا اعلامیہ جاری کر دیا ہے۔ دیکھنا ہوگا کہ حکومت عدالت عالیہ اور خود اپنے فیصلے پر کس حد تک عمل درآمد کرواتی ہے۔ شرح خواندگی میں اضافے اور تعلیمی معیار بہتر بنانے میں نجی سکولوں کا کردار بہت اہم ہے۔اس صوبے میں سکول جانے والے بچوں کی ایک تہائی تعداد پرائیویٹ سکولوں سے استفادہ کر رہی ہے۔ میٹرک اور انٹر میڈیٹ کے سالانہ امتحانات میں تقریبا تمام پوزیشنیں پرائیویٹ سکولوں کے طلبا و طالبات لے جاتی ہیں۔ جب بچوں کے بہتر مستقبل کے لئے لوگ پرائیویٹ سکولوں پر انحصار کرنے لگے تو سکول چلانے والوں کی نیت بھی خراب ہوگئی اور انہوں نے علم پھیلانے کے مشن کو منافع بخش کاروبار بنالیا۔ تین مہینوں کی گرمائی تعطیلات کی پوری ٹیوشن اور ٹرانسپورٹ فیس کی وصولی پر ہی اکتفا نہیں کیا جاتا۔ مختلف تقریبات کے نام پر بھی والدین کی جیبیں خالی کی جاتی ہے۔جب ایک طالب علم امتحان پاس کرکے دوسری کلاس میں جاتا ہے تو بعض سکول مالکان پروموشن فیس کے نام پر پانچ سے دس ہزار روپے ہر بچے سے اینٹھ لیتے ہیں۔ نئی کلاس کی کتابیں، کاپیان اور دوسری سٹیشنری بھی سکولوں میں ہی دستیاب ہوتی ہے اور ان کے الگ سے منہ مانگے دام بٹورے جاتے ہیں۔ بازار سے کتابیں اور کاپیاں خریدنے کی اجازت نہیں ہوتی۔ سکول کے اندر ٹک شاپ کھولنے کا ٹھیکہ لاکھوں میں دیا جاتا ہے۔ سکول مالکان کو منہ مانگی قیمت ادا کرنے کے بعد ٹک شاپ مالکان بھی بچوں کو دونوں ہاتھوں سے لوٹتے ہیں۔ بازار میں ملنے والا دس روپے والا بسکٹ ٹک شاپس پر بیس روپے میں بیچا جاتا ہے۔ حرص اور لالچ بڑھنے کے ساتھ ان ٹک شاپس پر غیر معیاری اور بسا اوقات زائد المعیاد اور مضر صحت اشیائے خوردونوش بھی فروخت کی جاتی ہیں۔ ریگولیٹری اتھارٹی نے پرائیویٹ سکولوں کی باگیں کھینچ کر رکھنے کا جو فیصلہ کیا ہے وہ بہترین عوامی مفاد میں ہے۔ لیکن بات صرف اعلامیہ جاری کرنے تک ہی محدود نہیں رہنا چاہئے۔ ان فیصلوں پر سختی سے عمل درآمد کرانے کی ضرورت ہے۔ یہ کسی کی انا اور عزت کا سوال نہیں۔ قانون کی بالادستی اور حکومتی رٹ قائم کرنے کا معاملہ ہے۔حکومت کو اپنی اتھارٹی برقرار رکھنے اور وسیع تر عوامی مفاد کے لئے فیصلوں پر عمل کروانا ہوگا۔
اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
دوسروں کے ساتھ اشتراک کریں

متعلقہ خبریں/ مضامین

error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔
إغلاق