سولرسٹریٹ لائٹ کے بقایارقم فوری طورپرادا کی جائےتو کام ایک ہفتےکےاندرمکمل کرکے محکمہ کےحوالہ کرؤنگا۔مغل بازٹھیکہ دار  – Chitral Express

Premier Chitrali Woolen Products

سولرسٹریٹ لائٹ کے بقایارقم فوری طورپرادا کی جائےتو کام ایک ہفتےکےاندرمکمل کرکے محکمہ کےحوالہ کرؤنگا۔مغل بازٹھیکہ دار 

چترال(نمائندہ چترال ایکسپریس) ٹھیکہ دار مغل باز نے اپنے ایک اخباری بیان میں سولرسٹریٹ لائٹ کے بارے میں موقف دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسے اس کام کیلئے تحصیل میونسپل آفیسر TMO کی طرف سے ورک آرڈر 4 جون 2015 کو دیا گیا تھا۔مگر سابق صدرتاجر یونین اور رکن قومی اسمبلی شہزادہ افتخار کے درمیان چھ ماہ تک اس پر جھگڑا چلتا رہا۔ ایم این اے اس سکیم کوختم کرکے دوسرے علاقوں میں دیہات میں چھوٹے چھوٹے سکیم دینا چاہتا تھا۔ مگر سابقہ تاجر یونین کا موقف تھا کہ یہ فنڈ بازار کیلئے آیا ہے اور یہ بازار ہی میں خرچ ہونا چاہئے ۔ مغل باز کے مطابق اس وقت کے تاجر یونین کے صدر حبیب حسین مغل نے اس سلسلے میں ایک پریس کانفرنس بھی کیا تھا۔
مغل باز نے کہا کہ ا س کے بعد Layout کا مرحلہ آیا تو مجھے مختلف جگہوں کی نشاندہی کرائی گئی جس میں بنیادیں کھودی گئی اور سٹریٹ لائٹ گورنر کاٹیج روڈ، چیو پل ، بازار، چترال سکاؤٹس آفیسر مِس روڈ پر مشتمل تھے جس میں یہ لگانے تھے۔ اور جب کھدائی اور بنیادوں کا کام مکمل ہوا تو محکمے کی طرف سے بعض مقامات کی تبدیلی کرائی گئی جبکہ کچھ کام بائی پاس روڈ کی زد میں آگئے۔ جن میں اکثر کھنبوں کو بازار کی تجاوزات ہٹانے کے نذر ہوگئے۔ مغل باز کے مطابق 80% پول کیلئے دوبارہ کام شروع کرنا پڑا جس پر مزید آٹھ لاکھ روپے اضافی خرچہ آیا۔ اور اس کے کیلئے ٹی ایم او کو درخواست بھی دی گئی ہے جس کی نقل موجود ہے۔ ٹھیکہ دارمغل باز نے مزید بتایا کہ انہوں نے میرے کام کو نظر انداز کرنے کی کوشش کی تو میں نے ڈپٹی کمشنر کو درخواست دی کہ جب تک اس کوکام کی ادائیگی نہیں ہوتی وہ یہ کام مکمل نہیں کرئے گا۔ اُنہوں نے کہا کہ 25.3.2016 تک بازار، اُسامہ وڑائچ پارک، آئی ایس آئی آفس، چھاؤنی روڈ اور آفیسرز کالونی دنین میں بھی یہ پول لگائے گئے اور ان کو قابل استعمال بنایا گیا۔ اس سلسلے میں سابقہ اسسٹنٹ کمشنر عبد الاکرم کے نگرانی میں ایک کمیٹی بھی بنائی گئی جس نے کام کا جانچ پڑتال کیا اور کام کو تسلی بخش قرار دیا۔ اس کا کہنا ہے کہ میں نے اس وقت دوبارا AC چترال کو درخواست دی کہ جب تک مجھے میرے آٹھ لاکھ روپے جو اضافی خرچ ہوئے ہیں اس کی ادائیگی نہیں ہوتی میں یہ کام محکمے کے حوالہ نہیں کروں گا۔
اُنہوں نے کہا کہ آٹھ لاکھ کی اضافی خرچ کے علاوہ مزید بھی 22 لاکھ روپے محکمے کے ذمے واجب الادا ہیں۔ اور جب تک اسے یہ تیس لاکھ روپے ادا نہیں کئے جاتے اس وقت تک وہ یہ کام محکمہ کے حوالہ نہیں کرئے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس کی بیٹری وغیرہ میں خرابی بھی آسکتی ہے اگر محکمہ میرے بقایا جات مجھے ادا کرئے تو ان تمام خرابی کو میں دور کرکے اس کی مرمت کروں گا۔
اس موقع پر انہوں نے عوام کی تسلی کیلئے یہ بھی کہا کہ اس بقایا رقم کی چیک مجھے نہ دی جائے بلکہ تاجر یونین یا اے سی چترال کو دی جائے اور جب میں یہ کام مکمل کرؤنگا تووہ ان کو چیک کرے جب ان کو کام کی پوری تسلی ہوجائے پھر مجھے چیک دیا جائے اس کی تکمیل کا میں پوری گارنٹی دینے کو تیار ہوں۔ انہوں نے کہا کہ میرے کام معیار کے مطابق ہیں اور کئی غیر تسلی بحش یا غیر معیاری چیز نہیں لگائی گئی ہے ۔اُنہوں نے اس موقع پر ایک بار پھر مطالبہ کیا کہ اس کا بقایا رقم (تیس لاکھ روپے) اسے فوری طور پر ادا کی جائے تو وہ یہ کام ایک ہفتے کے اندر مکمل کرکے محکمہ کے حوالہ کرے گا۔
اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
دوسروں کے ساتھ اشتراک کریں

یہ خبر بھی پڑھیں

داخلے جاری ہیں

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ...


دنیا بھر سے

error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔