تازہ ترینشیر جہان ساحل

 تحریک انصاف کے اصل اثاثے۔

تحریک کوئی بھی ہو اسوقت تک مضبوط اورمکمل نہیں ہوتی جب تک اس تحریک کی بنیاد یں مضبوط نہیں ہوتیں۔ اورتحریک کی بنیادوں کی مضبوطی ان کارکنون کے کندھوں پر ہوتی ہے جو قائد تحریک کا ویژن اور میشن دیکھ کرتحریک میں شمولیت اختیار کرتےہیں۔ اور صف اول کے کار کن بن جاتے ہیں جو تحریک کے لئے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کررہے ہوتے اوران کا ایک ہی مقصد ہوتا ہےاوروہ ہےتحریک کی کامیابی۔

تحریک انصاف پاکستان جو اس وقت اپنے مقاصد کے حصول کی راہ پر گامزان ہے اور مختلف پارٹیوں سے وابستگی رکھنے والے موسمی پرندے تحریک میں شامل ہو رہے ہیں اور اکثر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ نئے لوگ تحریک میں شامل ہو رہے ہیں اور یہ تحریک کی مضبوطی ہے۔

سن 1997 میں جب پہلی بار تحریک انصاف کے قائد عمران خان چترال آئے تو چند نوجوانوں نے ان کا استقبال کئے  اور چترال کے مختلف جگہوں پر جلسہ منعقد کئے اور تحریک کا پیغام لیکر چترال کے مختلف علاقوں کا دورہ کئے۔ اکثر لوگوں نے ان کا مذاق اڑائے اور ایک چترالی شاعر نے تو باقائدہ مزاحیہ شاعری میں بھی ان نوجوانوں کا مزاق اڑایا تھا جو کچھ یوں تھا (ژائو ما کرکٹر بیرو، عمرانو ووٹر بیرو)، دوسری طرف چترال کے اکابریں تحریک انصاف کو بچوں کا پارٹی قرار دیتے ہیں مگر کس سے خبر تھی کہ بچوں کی یہ تحریک نوجوانون کی امید بن کر  ابھرے گی۔ مگر آج وہ سچ ثابت ہوئی ہے اور تحریک چترال سمیت پاکستان بھر کی نوجوانون کی امید بن چکی ہے۔ اورچترال کے اندر یہ سہرا ان چند نوجوانون کے سر جاتا ہے جو روز اول سے ہی تحریک کا رکن ہیں اور اس وقت سے لیکر آج تحریک کی کامیابی کے لئے دن رات محنت کرتے چلے آرہے ہیں ، وہ تحریک میں نہ ٹکٹ کے طلبگار ہوتے ہیں اور نہ ہی پارٹی کا کوئی اہم عہدے کا مطالبہ کرتے ہیں، نہ ہی وہ موقع پرست ہوتے ہیں۔ ان کا اگر کوئی فکر ہے تو وہ ہے تحریک کی اپنے ویژن کے مطابق کامیابی۔ تحریک انصاف چترال کے ان چند نوجوانون میں ایک نام محمد قاسم کا ہے جو سن ۹۷ سے آج تک ایک ورکر کی حیثیت سے کام کرتے چلا آ رہا ہے۔ کوں پارٹی کا سینئر عہدہ دار بن رہا ہے ، کون ٹیکٹ کا خریدار بن کر تحریک میں شامل ہو رہا ہے، محمد قاسم نہ عہدے کا طلبگار ہے اور نہ ہی پارٹی ٹیکٹ کا، موصوف کو اگر فکر ہے تو اس ویژن کا جسے پڑھ کر، دیکھ کر یا پھر سن کر محمد قاسم سمیت چند نوجوان اس وقت تحریک میں شمولیت اختیار کئے تھے اور وہ ویژن کچھ یوں تھا کہ، انصاف سب کی دہلیز پر، لٹیرون سے لیں گے غریبوں کو دیں گے، جس کا ہوگا دامن صاف وہی کرے گا صیح انصاف۔ جی ہاں حصول کا انصاف کا یہ نعرہ ہی تھا ناانصافی کے شکار نوجوانوں کو متاثر کیا اورآج تحریک انصاف ہی وہ جماعت ہے جس میں آئے روز سیاسی ورکرز جوق در جوق شامل ہورہے ہیں اور تحریک مضبوط سے مضبوط تر ہوتی چلی جا رہی ہے مگر یہ خان صاحب کو یاد رکھنا ہوگا یہ کہ تحریک کے اصل اثاثے وہ لوگ ہی ہیں جو بلا مطلب کے ایک ورکر کی حیثیت سے محنت کر رہے ہیں اور نظریاتی کارکن کے طور پر جانے جاتے ہیں مگر انہیں دکھ اس وقت ضرور ہوتی ہوگی جب نظریے کو بلائے طاق رکھ کر غیر نظریاتی لوگوں کو ان پر ترجیح دی جاتی ہے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
دوسروں کے ساتھ اشتراک کریں

متعلقہ خبریں/ مضامین

یہ بھی دیکھیں

إغلاق
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔
إغلاق