پروفیسر رحمت کریم بیگتازہ ترین

جس کھیت سے دھقان کو۔۔۔۔۔۔پاک فوج کی قربانیاں زندہ باد

پروفیسر رحمت کریم بیگ …03435911941 ……..

پاکستان کی افغانستان کے ساتھ ملی ہوئی سرحد تقریبا چھبیس سو کلو میٹر بتائی جاتی ہے اور یہ کوئی معمولی فاصلہ نہیں اس کو بہت زیادہ اہمیت دینی چاہئے کی اتنی لمبی سرحد کی حفاظت عام حالات میں بھی ہماری فوج کے جوانوں کے لئے کوئی آسان کام نہیں ہے چہ جائیکہ ان حالات میں جب کہ افغانستان میں نیٹو فوج ہار مان کے بیٹھی ہے اور سر پکڑ کر اپنی ناکامی کو پاکستان پر ڈال کر خود کو بے قصور اور لاچار ثابت کرنے کی کوشش میں لگی ہے۔ نیٹو فوج کی بے پناہ اسلحہ کے ساتھ افغان فوج بھی اب تک کافی سے زیادہ تربیت حاصل کر چکی ہے، اس کی مدد کے لئے نیم فوجی ملیشیاء بھی ہے پولیس فورس بھی ہے اور ان سب کے اوپر پاکستان دشمنی میں اول نمبر کا چیف ایگزیکٹیو بھی ہے اور ساتھ والی کرسی پر اشرف غنی بھی جاتی صدارت کے دن گن رہا ہے، ازبک ملیشیاء الگ تماشہ کر رہی ہے ، کہ ان کا وار لارڈ رشید دوستم ترکی میں قیام پذ یر ہے اور ڈور اس کے ہاتھ میں ہے ، تاجک پٹھان کے ساتھ کام کے لئے تیار نہیں، ازبک تاجک سے نالان ہے ہزارہ، پٹھان، ازبک اور تاجک تینوں سے متنفر ہے اور چاروں مل کر پاکستان کو کوس رہے ہیں کہ طالبان کو کیوں کنٹرول نہیں کرتا جب کہ طالبان خود ان کے اپنے ہم وطن ہیں اور ان کے پڑوس میں ڈیرہ ڈال کے سر گرم عمل ہیں اوراس وقت نصف ملک پر قابض ہیں اور ان کا خوف نیٹو افواج اور اشرف غنی پر چھایا ہوا ہے۔ پاک افغان سرحد پر باڑھ لگانے کا کام ان کے پیٹ میں مروڑ پیدا کرتا ہے مگر ہم نے ہر حال میں یہ کام پورا کرنا ہے چاہئے اس پر جتنا بھی خرچہ آئے جب چینیوں نے دیوار چین کی تعمیر شروع کی تو اس وقت ان کے سامنے بھی حملہ آوروں کا ایسا ہی مسئلہ درپیش تھا اس لئے انہوں نے ایسا عظیم تعمیراتی کام کو سر انجام دینے کے لئے کمر کس لیا اور یہ کام سر انجام دیکر ہی دم لیا ہمارا بھی یہی مسئلہ ہے کہ جب تک ہم اس باڑھ کو پائیہ تکمیل تک نہیں پہنچائیں گے شر پسندوں کی بزدلانہ حملے جاری رہنے کا قوی امکان ہے کہ یہ لوگ کسی بھی بات پر آمن کی طرف آنے سے کتراتے ہیں اور چینی قوم کو بھی ان اپنے ملک میں آمن کی اشد ضرورت تھی اور یہ چیز ایسی لگن کے بغیر ممکن نہ تھا جس کو انہوں نے انجام دیکر تاریخ رقم کی اور ہمارے لئے مثال قائم کی۔
پاک افغان سرحد پر پاک فوج کا جوان دن رات پہرہ دے رہا ہے سمگلر ، اسلحہ فروش، سہولت کار اور غیر ملکی ایجنٹوں کو اس باڑھ کی تعمیر سے موقع نہیں مل رہا کہ وہ پہلے کی طرح ازادی سے اپنا اربوں غیر قانانی کا کاروبار احسن طریقے سے چلاسکے اس لئے وہ قبائل کو سادہ لوگوں کو اکساکر اپنا مطلب حاصل کرنا چاہتا ہے، سر حد پر تار بندی اس کی مستقبل کے لئے ایک رکاوٹ ہو سکتی ہے اس کی بے لگام بزنس کے لئے وبال ہو سکتی ہے اس لئے وہ ازاد قبائل کو نہیں اکسائیگا تو اور کیا کریگا، یہی اس کے نزدیک واحد حل ہے کہ باڑھ نہ لگیکہ یہ اس کو سکھایا گیا ہے کہ سمگلنگ جاری رہے ،پاکستان کی معیشت جائے باڑ میں ، سمگلر کا ہی بھلا ہو، اس کا ہی پیٹ بھرے اور قبیح فعل میں نیٹوکے کارندے سب سے خطرناک کھیل کھیل رہے ہیں۔ ہمیں ان تمام زیر زمین سازشوں کے بارے میں اپنے معلومات کو اپ ڈیٹ کرتے رہنا چاہئے فوج کے ساتھ سارے عوام کو ملک کی مستقبل کے لئے سوچنا چاہئے۔ ادھر طالبان نے نیٹو فوج کا ناک میں دم کر رکھا ہے اس لئے پاک فوج پر الزام لگانے میں ان کو فائدہ ہے کہ اس طرح وہ اپنی گلو خلاصی کرسکتے ہیں بین الاقوامی طور پر یہ ایک آسان گر ہے کہ اپنا ملبہ اوروں پر ڈالا جائے مگر ہمارا جوان ، بہادر جوان سینہ سپر ہے وہ ایک انچ بھی پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں وہ وطن کی مٹی پر جان نچھاور کرنے کو فخر سمجھتا ہے اس کو اپنی جان کی پرواہ نہیں قوم کو اس کی پوری پوری سپورٹ کرنی چاہئے اور ہم سب پاک فوج کے شانہ بشانہ لڑنے کے لئے تیار ہیں ہمیں اپنی فوج پر فخر ہے ہماری ملک کی بقا کا انحصار ان کی قربانی پر ہے ابھی تک ہزاروں اپنی قیمتی جانیں قربان کرچکے ہیں اور ہمیں ان کی بھر پور حمایت کے ساتھ ان کے لئے شب و روز دعا بھی کرنی چاہئے اور آپس میں اتحاد کو مضبوط کرکے دشمن کے مزموم عزائم کو خاک میں ملانے کے لئے ہر دم فوج کی حوصلہ افزائی کرنی چاہئے ورنہ دشمن ہمیں ہر طرف سے گھیرنے کے لئے تیاریوں میں کب سے مصروف ہے اور ان کی ہمارے خلاف دشمنی میں کبھی کمی نہیں آئی اور نہ ان سے کسی قسم کی دوستی کی توقع رکھنی چاہئے کیونکہ یہ جوڑ بر صغیر میں کبھی سامنے نہیں آئی۔ہمیں اپنے گھر کا حد درجہ خیال رکھنا چاہئے۔یہی ہمارا گھر ہے ہمیں عزیز ہے اس کی حفاظت میں بھر پور طور پر فوج کا ساتھ دینا ہماری قومی زمہ داری ہے ورنہ ہم قومی مجرم ہوں گے۔۔۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
دوسروں کے ساتھ اشتراک کریں

متعلقہ خبریں/ مضامین

error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔
إغلاق