تازہ ترینمحمد سیف اللہ سیف

شہید اُسامہ وڑائچ اکیڈمی چترال 

…………………..تحریر : محمد سیف اللہ سیف : طالب علم جی ڈی سی چترال ………..

بنیادی طور پر میں معاشرے میں بُرائیوں ،اچھائیوں اور معاشرے میں دن بہ دن ہونے والی تبدیلیوں کاذکر کرتے ہوئے معاشرے کے عا م لو گوں کو باخبر کرتا ہوں ۔ دیکھا جائے تو آئے د ن چترال تعلیمی لحاظ سے ایڈوانس ہو تے چلے جارہاہے کیونکہ جو سہولیات طالب علموں کو پشاور میں مل رہے تھے وہی صورت حال آج چترال میں طالب علموں کو اپنے گھر بیٹھے مل رہے ہیں میں اس طالب علم کو سب سے بد بخت اور بد نصیب تصور کرونگا جو چترال جیسے جنت نظیر کو چھوڑ کر دوسرے شہروں کا رخ کریں ۔
شہید اُسامہ وڑایچ کئریر اکیڈمی چترال ،چترال کو مستقبل میں انگلینڈ بنا نے والا واحد اکیڈمی ہے میں اس سردی میں دو مہینے تک اس اکیڈمی میں پڑھنے گیا مگر جو علم اور اداب میں نے اس اکیڈ می سے سیکھا اپنے آٹھ مہینے کالج میں نہیں پڑھا،سب سے بڑ ی بات یہ ہے کہ اس اکیڈمی نے مجھے لو گوں سے بات کرنا اور محفل میں بیٹھنے کا سلیقہ سیکھایا ۔
میری اکیڈمی میں سبق پڑھنے والے بھی مطمئن ہے اور سبق پڑھانے والے بھی ،کیونکہ جس اکیڈمی میں اسا تذہ کرام اور شاگر دونوں مطمئن ہو اس اکیڈمی کی شاندار مستقبل کا کچھ شک نہیں ۔کوارڈنیٹر شہید اُسامہ وڑائچ اکیڈمی پروفیسر فداالرحمان اپنا تن من دن سب کچھ اس اکیڈمی پر فدا کرنے کے لئے تیار ہے ۔وہ اس اکیڈمی کو ایک مقدس امانت کے طور پر خیال رکھتے ہیں میر ا پروفیسر نہایت قابل ،پر اخلاق اور پرکردار انسان ہے یہی وجہ ہے کہ ہماری اکیڈمی دن بہ دن ترقی کرتے چلے آرہے ہیں ۔
ذکر کے سات اقسام ہیں : آنکھوں کا ذکر آنسو ہے ،کانوں کا ذکر اللہ کی باتوں اور احکامات کو توجہ سے سننا ہے،زبان کا ذکر زبا ن سے کسی کی تعریف کرنا ہے ،ہاتھوں کاذکر اللہ کے راہ میں خرچ کرنا ہے بدن سے اللہ کا شکر ادا کرنا ہے اور تعریف کرنا ہے دل سے اللہ سے ڈرنا اور اللہ کی ذات پر پر اُمید رہنا ہے اور روح کاذکر اللہ کے اچھے اور برے فیصلے دونوں پر راضی ہونا ہے ۔تو ہم پر فرض ہے جو اچھی کام کریں اس کی تعریف کریں اور جو بُری کام کریں اس کو روکنے ٹوکنے کی کوشش کرنا ،شہید وڑائچ صاحب ابھی اس دُنیا میں تو نہیں ہے مگر یہ ادارہ آج بھی ان کی روح کو سلام پیش کرتے ہیں ۔
میر ی اکیڈمی کا ہر ہر سٹاف اپنی استطاعت کے مطابق اس اکیڈمی کا خیال رکھتے ہیں اور تمام تر توجہ اپنی ذمہ دار ی پر دیتے ہیں یہ کہنا بجا ہو گا کہ میری اکیڈمی سٹاف احساس ذمہ داری کو اچھی طرح جانتے ہیں اور اپنے فرائض کو اللہ کو حاضر و نا ضر سمجھ کر ادا کرتے آرہے ہیں ۔
اس اکیڈمی کو آگے لے جانے میں جناب رحمت نبی صاحب کا بھی بہت اہم کردار ہے جو دن رات اکیڈمی میں بیٹھ کر گو نا گو مصر و فیات میں طالب علموں کے بنیادی ضروریات کو پورا کرتے آرہے ہیں ۔میں اپنی اکیڈمی کے طالب علموں کا مقابلہ چترال میں نہیں بلکہ پشاور میں ICA اور MCAT کے طالب علموں سے کروں گا کیونکہ جس جذبے اور شوق سے میرے تمام پر وفیسر حضرات سبق سیکھا رہے ہیں میں اس کو دُنیا کے کسی بھی کونے میں نہیں دیکھتا ہوں میری دُعائیں اپنی اکیڈمی کے ساتھ ہے کہ خدا میری اکیڈمی کو تمام اکیڈ میز سے بر تر کریں کیونکہ اس دُنیا میں ہر چیز کا مخالف چیز ضرور ہے ۔
چترال میں دوسرے تما م ادارے اور اکیڈمیز لوگوں کو لالچ دیکر پیسے کما نے کے علاوہ اور کچھ نہیں کر رہے ہیں مگر میری اکیڈمی آفاقی علم دیتا ہے جس سے طالب علم پورے دُنیا کا مقابلہ کر سکتا ہے میں بذات خود پشاور اور اسلا م آباد کے لڑکوں سے مقابلہ کر سکتا ہوں کیونکہ محنت ایک ایسی چیز ہے جو آپ کو کہاں سے کہاں تک لے جاتا ہے اللہ ہم سب کو محنتی اور شکر گزار بنا دے ۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
دوسروں کے ساتھ اشتراک کریں

متعلقہ خبریں/ مضامین

error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔
إغلاق