تازہ ترین

حکومت حاجی انظر گُل سے خرد بُرد کی گئی اُن کی رائیلٹی کی رقم فوری طور پر اُنہیں دلایا جائے ۔ شیشی کوہ کے گاؤں بیلہ اور گورین گول کے رہائشیوں کی پریس کانفرنس 

چترال ( محکم الدین ) دروش شیشی کوہ کے گاؤں بیلہ اور گورین گول کے رہائشی محراب ، حاجیب الرحمن ،سوالی خان ، نوشاد خان ، نور محمد اور امیررحمان اور اُن کی خواتین نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے ۔ کہ ٹمبر مافیا کے سرپرست حاجی انظر گُل سے خرد بُرد کی گئی اُن کی رائیلٹی کی رقم فوری طور پر اُنہیں دلایا جائے ۔ بصورت دیگر وہ ڈپٹی کمشنر آفس چترال کے سامنے اجتماعی خود سوزی کریں گے ۔ چترال پریس کلب میں جمعہ کے روز ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا ۔ کہ حاجی انظر گل نے بوگس جے ایف ایم سی بنا کر ہم سادہ لوح لوگوں کی رائیلٹی کی رقم ہڑپ کی ۔ اور اُن کو اُن کے حق سے محروم کر دیا ۔ آج وہ کوڑی کوڑی کے محتاج ہو گئے ہیں ۔ جبکہ حاجی انظر گل اُن کی رائیلٹی کی رقم ہڑپ کرکے چترال سے لے کر پشاور تک کروڑوں روپوں کی جائداد بنائی ۔ حالانکہ وہ بھی اُن جیسا غریب آدمی تھا ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ اپنا حق مانگنے پر ٹمبر مافیا مختلف طریقوں سے ڈرانے دھمکا رہا ہے اور اُن کی جانوں کو شدید خطرہ در پیش ہے ۔ دولت کے بل بوتے پر پولیس کواپنے مفاد میں استعمال کرتے ہوئے وہ اپنے مخالفین کے خلاف کیس بناتے ہیں ۔ اور کئی لوگوں کو اس قسم کی سازشی مقدمات میں پھنسایا ہوا ہے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ 2012میں رائیلٹی کی رقم آچکی ہے ۔ لیکن یہ اپنی مرضی کے مطابق اسے استعمال کرنے کیلئے گذشتہ پانچ سالوں سے اسے تقسیم کرنے کی راہ میں رکاوٹ ڈال رہے ہیں ۔ اور موجودہ حکومت کے خاتمے کا انتظار کر رہے ہیں ۔ تاکہ یہ ختم ہونے کے بعد وہ اپنی مرضی سے اسے ہڑپ کر سکیں ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ ضلع انتظامیہ نے خواتین کو بھی رائیلٹی دینے کا فیصلہ کیا تھا ۔ لیکن ٹمبر مافیا کے اس سرغنہ نے عدالت سے حکم امتناعی حاصل کرکے اسے بھی کھٹائی میں ڈال دیا ہے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ حکومت فوری طور پر ٹمبر مافیا کے سرغنہ کے خلاف انکوائری کرے ۔ کہ انہوں نے کتنی رقم تقسیم کی ہے ۔ ہم سادہ لوح لوگ ہیں ۔ ہم سے بوگس جے ایف ایم سی میں انگو ٹھے لگوا کر رقم خود ہضم کی ہے اور ہمیں محروم رکھا ہے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ ہمارے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے ۔ اب اجتماعی خود سوزی کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ۔ اس لئے حکومت اور ضلعی انتظامیہ چترال ہماری داد رسی کرے ۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
دوسروں کے ساتھ اشتراک کریں

متعلقہ خبریں/ مضامین

error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔
إغلاق