مولانا گُل نصیب اور اُس کے بھائی زرنصیب نے دھوکا دہی سے اُن کے فرم کو استعمال کرکے اُنہیں بڑے پیمانے پر مالی نقصان پہنچایا ۔ناصر احمد خان کی پریس کانفرنس  – Chitral Express

Premier Chitrali Woolen Products

مولانا گُل نصیب اور اُس کے بھائی زرنصیب نے دھوکا دہی سے اُن کے فرم کو استعمال کرکے اُنہیں بڑے پیمانے پر مالی نقصان پہنچایا ۔ناصر احمد خان کی پریس کانفرنس 

چترال ( نمائندہ چترال ایکسپریس ) چترال کے معروف گورنمنٹ کنٹریکٹر ناصر احمد خان نے چیف جسٹس آف پاکستان سے اپیل کی ہے ۔ کہ جمیعت العلماء اسلام کے صوبائی امیر مولانا گُل نصیب اُس کے بھائی زرنصیب اور فرنٹ مین اسرار الدین کے اثاثہ جات کی چیکنگ کیلئے سومو ٹو ایکشن لے کر اُنہیں انصاف دلایا جائے ، جنہوں نے دھوکا دہی اور فراڈ کے ذریعے اُن کے فرم کو بوگس طورپر استعمال کرکے اُنہیں بڑے پیمانے پر مالی نقصان پہنچایا ہے ۔ چترال پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا ۔ کہ اسلام کا لبادہ اوڑھ کر اپنے سابقہ سنیٹر شپ کے دوران مولانا گُل نصیب نے اپنے فنڈ اپنے بھائی کے ذریعے میرے جعلی دستخطوں اور میرے فرم کے نام کو استعمال کرکے حکومت کو کروڑوں کا نقصان پہنچایا ۔ اور میری ساکھ کو بھی مجروح کیا ۔ ناصر احمد نے مطالبہ کیا ۔ کہ محکمہ پاک پی ڈبلیو ڈی میں مجھ سے منسوب تمام دستخطوں کی فرنزک لیبارٹری ٹیسٹ کی جائے اور اصل مجرمان کو کٹہرے میں لا کر اُن کو دھوکا دہی کی کڑی سزا دی جائے ۔ انہوں نے امیر جمعیت العلماء اسلام مولانا فضل الرحمن اور جملہ شوری کے ممبران سے اپیل کی ۔ کہ مولانا گل نصیب جیسے افراد کو الیکشن میں ایم این اے اور ایم پی ایز کی نامزدگی کی ذمہ داریوں سے دور رکھا جائے ۔ جو کرپٹ لوگوں کو ہی سپورٹ کرکے آگے لائے گا ۔ اور جمعیت کی بدنامی کے علاوہ کرپشن کو فروغ ملے گا ۔ انہوں نے اُن کی جگہ سلیکشن کے اس عمل کیلئے بے داغ ، نیک اور خدا ترس افراد کے تعین کا مطالبہ کیا ۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
دوسروں کے ساتھ اشتراک کریں

یہ خبر بھی پڑھیں

پاکستان تحریک ا نصاف کے ضلعی رہنماء رضیت با اللہ کااپنے تمام ساتھیوں اور رفقاء سمیت متحدہ مجلس عمل کو سپورٹ کرنے کا اعلان

چترال ( محکم الدین) پاکستان تحریک ا نصاف کے ضلعی رہنماء رضیت با اللہ اپنے ...


دنیا بھر سے

error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔