تازہ ترینڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

داد بیداد…سرائیکی صوبہ

جولائی 2018ء میں انتخابات ہوں یا نہ ہوں ، اگلی حکومت کے ساجھے دار جو بھی ہونگے ان کو سرائیکی صوبہ بنا نا پڑے گا یہ بات طے ہوچکی ہے کہ جنوبی پنجاب کا اپنا صوبہ بنے گا 1960ء کے عشرے سے سرائیکی و سیب کی جو تحریک چلتی آرہی ہے وہ کامیابی سے ہمکنار ہوگی مگر سو ملین ڈالر کا سوال یہ ہے کہ کیا بات سرائیکی صوبے تک ٹھہر جائے گی یا اور بھی آگے بڑھے گی ؟ اس کا جواب آسان نہیں ہے آئین کی اٹھارویں ترمیم نے کنکرنٹ لسٹ ختم کرکے صوبوں کو خودمختاری دی ہے الفاظ اور اصطلاحات کے تھوڑے سے فرق کیساتھ یہ وہی خودمختاری ہے جس کو 1990ء کی انتخابی مہم میں سابق وزیر اعظم شہید بے نظیر بھٹو نے نیا عمرانی معاہدہ یا ’’ نیو سوشل کونٹریکٹ ‘‘ کا نام دیا تھا سابق صدر آصف زرداری اور آئینی ترمیم کی خصوصی کمیٹی کے اُس وقت کے چیئرمین میاں رضا ربانی نے 2008ء کی اسمبلی کے ذریعے اس کو حقیقت میں بدل دیا گویا خواب کو تعبیر مل گئی اس وقت ملک میں 6نئے صوبے خواب کی صورت میں سر اُٹھائے ہوئے ہیں سرائیکی صوبہ ان میں سب سے پرانا خواب ہے دیگر 5صوبوں میں شہری سندھ ، بلوچ عوام کا الگ صوبہ ، قبائلستان کا صوبہ، ہزارہ صوبہ اور ملاکنڈ صوبہ بھی خواب کی
صورت میں راکھ کے اندر دبے ہوئے ہیں دانشوروں کے ایک معتبر اور موثر گروہ کا یہ بھی خیال ہے کہ پنجاب کے دو صوبے بننے سے طاقت کا توازن چھوٹے صوبوں کے حق میں نہیں جھکے گا سرائیکی صوبے میں قومی اسمبلی کی 45نشستیں ہونگی وزیر اعظم پنجاب کی مرضی کا ہی آئے گا حکومت پنجاب کی اشیر باد کے بغیر نہیں بنے گی مسلم لیگ (ن) اور نواز شریف کو سیاست سے باہر نکالنے کیلئے وسطی پنجاب کے دو الگ الگ
صوبے بنانے ہوں گے خطہ پھوٹوہار کا الگ صوبہ بنانا پڑے گا اس وقت سرائیکی صوبہ میں وزیر اعلیٰ بننے کے 5مضبوط اُمیدوار میدان میں ہیں خطہ پھوٹوہار سے 4اُمیدوار ہیں وسطی پنجاب سے 10اُمیدوار ہیں کراچی کی نئی سیاسی فضا میں پاک سرزمین پارٹی کو اقتدار میں لانے کے لئے جناح پور کا صوبہ ناگزیر ہوچکا ہے ہزارہ ڈویژن اور ملاکنڈ کے پہاڑی اضلاع میں دو صوبے وقت کی آواز بن چکے ہیں ؂
ہوش کب آیا انہیں جب ہوچکا ناکا م دل
عقل کب آئی ہمیں جب ہوچکے برباد ہم
کہنے والے یہ بھی کہتے ہیں کہ 1971ء میں شیخ مجیب کے 6نکات تسلیم کئے جاتے تو سقوط ڈھاکہ اور پلٹن میدان کے واقعات آج یوٹیوب کی زینت نہ بنتے تاریخ میں ہمارے نام پر دھبہ نہ لگتا مگر میڈیا کے ذریعے شیخ مجیب کو غدار اور ان کے 6نکات کو ملک دشمنی کا نام دیا گیا مخصوص طرز فکر کے اخبارات نے شیخ مجیب اور ان کے نکات پر مسلسل گولہ باری جاری رکھی مارچ 1971ء سے دسمبر 1971ء تک اخبارات کی وہی کیفیت تھی جو آج کل نواز شریف اور مسلم لیگ(ن) کے خلاف نظر آرہی ہے اب ٹیلی وژن چینلوں کا نیا طوفان بر پا ہے سوشل میڈیا کا الگ سیلاب آیا ہوا ہے دولت کے زور پر سفید کو سیاہ اور کالے کو سفید ثابت کرنے پر زور دیا جاتاہے اخبارات کی فائلیں کھول کر دیکھیں مشرقی پاکستان میں فوجی آپریشن کی تیاریوں پر بات شروع ہوئی تو پاک فوج کی ایسٹرن کمانڈ کے بہت ہی قابل افیسر اور کمانڈر لفٹننٹ جنرل صاحبزادہ یعقوب علی خان نے فوجی اپریشن کی مخالفت کی انہوں نے شیخ مجیب کو ان کے 6نکات کے ساتھ قبول کر کے قائد ایوان نامزد کر نے کی تجویز دی جنرل یحییٰ خان نے اس تجویز سے اتفاق نہیں کیا تو مشرقی کمان کے کمانڈر نے لفٹننٹ جنرل کے رینک اتار کر میز پر رکھ دیے اپنا کیرئیر قربان کر کے پنشن اور مراعات واپس کر کے استعفیٰ دے دیا انہوں نے نہایت حساس میٹنگ میں وہ ساری باتیں پیش گوئی کے انداز میں پیش کیں جو 10ماہ بعد حقیقت بن کر سامنے آئیں اور تاریخ کا حصہ بن گئیں جنرل ٹکا خان اور جنرل اے نیازی کو ہیرو کا درجہ دے کر مشرقی کمان دے دی گئی مگر دونوں بری طرح ناکام ہوگئے اُس وقت ہماری کوشش یہ تھی کہ شیخ مجیب کے اقتدار کا راستہ روکا جائے اس معصوم سی خواہش نے تاریخ کا حلیہ بگاڑ دیا 1980ء کی دہائی میں ہم نے بھٹو کے اقتدار کا راستہ روکنے کیلئے کراچی اور جنوبی پنجاب میں لسانی اور فرقہ ورانہ سیاست پر سرمایہ لگایا بھٹو کا سحر تو نہیں ٹوٹا ہمیں ایم کیو ایم اور فرقہ ورانہ تنظمیوں کو غیر مسلح کرنے میں برسوں لگ گئے ہماری توانائی فضول کام میں ضائع ہوگئی ہمارے مالی وسائل ایک فضول کام میں ضائع ہوگئے آج ہمیں ایک بار پھر وہی سفر درپیش ہے ؂
لیتا ہوں مکتبِ غم دل میں سبق ہنوز
مگر یہ کہ ’’ رفت ‘‘ گیا اور ’’ بود‘‘ تھا
سوال یہ ہے کہ خسرو بختیار کو سرائیکی صوبے کا وزیر اعلیٰ بنانے کے بعد بھی مسئلہ حل نہیں ہوا تو ہم کیا کریں گے ؟ گُھما پھرا کر وہی بات دہرانے کی جگہ سیدھے طریقے سے کیوں نہ کہیں کہ پنجاب کے 4 صوبے بننے چاہیئیں ان کے علاوہ 5نئے صوبے اور بنیں گے تو طاقت اور سیاست کا توازن ایک بار پھر پنجاب کے حق میں ہوگا ہم اپنی توانائیاں اور اپنے وسائل ایسے منصوبوں پر کیوں خرچ کر رہے ہیں جس کا انجام بھیانک ہوتاہے

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
دوسروں کے ساتھ اشتراک کریں

متعلقہ خبریں/ مضامین

error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔
إغلاق