صد ابصحرا…قدیم سکول کی خدمات  – Chitral Express

Premier Chitrali Woolen Products

صد ابصحرا…قدیم سکول کی خدمات 

چترال خاص ، ضلعی ہیڈ کوارٹر اور قدیم ریاستی پائیہ تخت کے قلب میں شاہی قلعہ اور شاہی بازار کے درمیاں وسیع و عریض سبزہ زار پر 1938ء میں ریاست کا پہلا باقاعدہ سکول ریاستی حکمران ہز ہائنس سر محمد ناصر الملک نے قائم کیا۔ چترال کی تاریخ میں اس کی مثال ایسی ہے جیسے سوات میں ودودیہ ہائی سکول ، پشاور میں اسلامیہ کالج ، لاہور میں گورنمنٹ کالج ، کراچی میں سندھ مدرستہ الاسلام ، بہاول پور میں صادق پبلک سکول اور ایبٹ آباد میں برن ہائی سکول کی ہے۔ یہ ایسے سکول ہیں جن سے ایک تعلیم یافتہ نسل پہلی بار تیارہوئی اور زندگی کے مختلف شعبوں میں کارہائے نمایاں انجام دیے اورمستقبل پر انمٹ نقوش مرتب کئے۔ ناصر الملک کو چترال کا میاں عبد الودود، صاحبزادہ عبد القیوم ، سید امیر علی اور سرسید کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ جس طرح علی گڑھ اور اسلامیہ کالج سے فارغ التحصیل ہونے والے طلباء نے غیر منقسم ہندوستان میں مسلمانوں کی خدمت کی ۔ سندھ مدرستہ الاسلام کے فارغ ہونے والوں نے سندھ میں مسلمانوں کی رہنمائی کا فریضہ انجام دیا اور اسلامیہ کالج پشاور کے طلباء نے صوبے کی خدمت کا بیڑا اُٹھایا۔ بالکل اسی طرح سٹیٹ ہائی سکول چترال کے طلباء نے سابق ریاست اور موجودہ ضلع چترال کے اندر زندگی کے مختلف شعبوں میں اپنی خدمات کے ذریعے مستقبل پر دوررس اثرات مرتب کئے ۔ ریاستی دور میں سر ناصر الملک کے بعد سول سروس کے جن چار افسروں نے سابق ریاست کے اندر تعلیم پر توجہ دی اور سکول کی سرپرستی کی۔ ان میں میر عجم خان (مئی 1958ء تا نومبر 1952ء) سید عمران شاہ ( دسمبر 1958ء تا مارچ 1964ء ) کے نام نمایاں ہیں ۔ میر عجم خان خود سکول میں کلاس بھی لیتے تھے۔ ہفتے میں 3دن سکول کو ضرو ر دیتے تھے۔ انہوں نے نہ صرف اس کو سٹیٹ ہائی سکول کا درجہ دیا۔ بلکہ تعلیم کا باقاعدہ محکمہ قائم کر کے ریاست کے اندر 70مقامات پر نئے سکول بھی قائم کئے۔ میر عجم خان کا نقطہ نظر یہ تھا کہ چترال میں کوئی اور دولت نہیں ہے ۔ یہاں کی آبادی اور افرادی قوت چترال کی بڑی دولت ہے۔ اس دولت کے ذریعے چترال کو ترقی دی جاسکتی ہے۔ انہوں نے سکول کی عمارت میں نیا بلاک اور سکول کیلئے ایک لائبریری بھی قائم کی۔ سائنس لیبارٹری بھی بنوائی ۔ دور دراز سے آنیوالے طلباء کے لئے بورڈنگ
ہاؤس بھی قائم کیا۔سید عمران شاہ نے طلباء کے لئے وظائف مقرر کئے۔ نصرُٗ من اللہ اور سردار حزب اللہ خان نے وظائف میں اضافہ کیا۔ زنانہ سکول قائم کئے اور تعلیم نسواں پر بھی توجہ دی۔
تاریخ کے اس تناظر میں سٹیٹ ہائی سکول چترال سے پرائمری ، مڈل اور میٹرک پاس کرنے والوں نے سابق ریاست کے اندر تعلیم، صحت ، دفتری نظم ونسق ، فوجی خدمات ، پولیس سروس اور دیگر شعبوں میں قابل اور ہونہار افرادی قوت فراہم کی۔ یہ بات سب کو معلوم ہے کہ سٹیٹ ہائی سکول چترال سے پرائمری پاس کرنے والا زبان دانی،خط و کتابت اور لائف سکلزکے اعتبار سے آج کل کے میٹریکولیٹ سے 10گنا زیادہ قابل اور ایم اے کے برابر ہوتا تھا۔ یہ لوگ فوج ،پولیس اور انتظامیہ میں خدمات انجام دیتے تھے۔ سٹیٹ ہائی سکول چترال سے مڈل پاس کرنے والوں کو مدرس بھرتی کیا جاتا تھا۔ 1938ء سے 1946ء تک چترال دروش اور بونی کے سکولوں کیلئے جو اساتذہ بھرتی کئے جاتے تھے وہ بھوپال ، ممبئی ، آگرہ ، دہلی ،لاہور ، نوشہرہ اورپشاور کے سکولوں سے پڑھ کر آئے ہوئے نوجوان تھے۔ قدیم اساتذہ میں فیض العزیز اور حمید اللہ آگرہ سے پڑھ کر آئے تھے۔ غلام محمد المعروف استا ریکی استاد بھوپال کے پڑھے ہوئے تھے۔ جناب شاہ، امیر شاہ ، عبد الحنان ، عمر حیات اور محمد شریف خان نوشہرہ اور پشاور کے پڑھے ہوئے تھے۔ جناب شاہ ریاستی نظم ونسق میں پہلے سیکرٹری تعلیم مقرر ہوئے۔ ذاتی قابلیت کے ساتھ ساتھ ڈسپلن کے پابند اور سخت گیر افیسر تھے۔ ناصر الملک کے بعد اُن کی بڑی خدمات ہیں ۔ چنانچہ 1950 ء کے عشرے میں چترال کے طول و عرض میں قائم ہونے والے سکولوں کیلئے اساتذہ اورمدرسین اسی سکول نے مہیا کئے۔ دوسرے نمبر پر دروش کا سکول تھا۔ آج اگر چترال شرح خواندگی کے لحاظ سے صوبے میں تیسرے نمبر پر ہے تو اس میں سٹیٹ ہائی سکول کا بڑا ہاتھ ہے۔ اس طرح محکمہ تعلیم ، محکمہ صحت، محکمہ تعمیرات ،محکمہ انتظامیہ کو بھی ماتحت عملے سے لیکر افسروں کی سطح تک افرادی قوت تک اس سکول سے مہیا ہوگئی۔ پروفیسر اسرار الدین ، سبحان الدین ، عبدالواسع، غلام عمر ، معراج الدین ، فدا محمد خان ، شہزادہ محی الدین ، شہزادہ فخر الملک ،شہزادہ نظام الدین، شہزادہ جلال الدین،ریاست کے ابتدائی افیسروں میں سے تھے۔ جو اس سکول سے آئے۔ ان کے ہم عصروں کی بہت بڑی تعداد ہے۔ بعد کے ادوار میں اس سکول کے طلبہ نے صوبے میں اہم عہدے سنبھال لئے۔پروفیسر اسرار الدین ، ڈاکٹر فضل قیوم، رحمت غازی ، انجینئر عبد القاسم ،انجینئر خالد جمیل ، محمد سعید خان لال ،غلام سید علی، مسلم الحق او ر بیشمار افیسر ایسے پیدا ہوئے۔جنہوں نے صوبے اور ملک کی سطح پر اس سکول کا نام روشن کیا۔ اس سکول کے کئی طلباء نے ملک سے باہر عالمی سطح پر بھی چترال کا نام روشن کیاہے۔ ان میں سے دو نام ڈاکٹر
طارق اللہ خان اور ڈاکٹر میر بائز خان کے ہیں۔ ایک کو اقتصادیات میں دوسرے کو تعلیم میں عالمی شہرت حاصل ہوئی ہے۔ آکسفورڈ ، ہارورڈ ، سٹین فورڈ اور دیگر عالمی یونیوورسٹیوں میں لیکچر کے لئے بلائے جاتے ہیں۔ اس موضوع پر باقاعدہ ریسرچ کی ضرورت ہے۔ایم فل اورپی ایچ ڈی کا کوئی طالب علم اس پر تحقیقی مقالہ تیار کرے ۔ تو چترال کی سماجی اور معاشی ترقی میں سٹیٹ ہائی سکول چترال کی خدمات کا احاطہ اعداد وشمار اور ذرائع ومنابع کے حوالوں کے ساتھ ممکن ہوسکے گا۔ سٹیٹ ہائی سکول چترال کے طلبائے قدیم کے کہکشاں میں کرنل سردار محمد خان ، کرنل اکرام اللہ خان ، کرنل محمد اکرم جیسے نامور فوجی بھی شامل ہیں ۔ پروفیسر عبد السمیع ، سید شمس النظر فاطمی ، محمد عرفان عرفان ، امیر خان میر جیسے ادیب اور دانشور بھی ہیں۔ جہانگیر جگر ، ظہیر الدین اور فخر عالم جیسے صحافی بھی ہیں۔ بقول فیض احمد فیض ؂
ہم پرورش لوح و قلم کرتے رہیں گے
جو دل پہ گذرتی ہے رقم کرتے رہیں گے
اسبابِ غم عشق بہم کرتے رہیں گے
ویرانی دوران پہ کرم کرتے رہیں گے
اک طرز تغافل ہے سو وہ ان کو مبارک
اک غرض تمنا ہے سو ہم کرتے رہیں گے

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
دوسروں کے ساتھ اشتراک کریں

یہ خبر بھی پڑھیں

ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن کے زیر اہتمام “ملکی کپ”پولو ٹورنامنٹ بدھ کے روز اختتام پذیر ہوا،چترال سکاؤٹس نے فائنل جیت لیا

چترال (نمائندہ چترال ایکسپریس) ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن کے زیر اہتمام “ملکی کپ”پولو ٹورنامنٹ بدھ کے روز ...


دنیا بھر سے