دادبیداد..ایف سی آر ۔ سدا بہار – Chitral Express

Premier Chitrali Woolen Products

دادبیداد..ایف سی آر ۔ سدا بہار

2013ء میں بنی ہوئی اسمبلیاں 29مئی کو اپنی آئینی مدت مکمل کر کے تحلیل ہوجائیں گی اس کے بعد نگران حکومتیں قائم ہونگی اور نئے انتخابات کی تاریخ دی جائے گی موجودہ اسمبلی کا ایک ایجنڈا یہ تھا کہ فاٹا (FATA) کے نام سے انگریزوں کے کالے قانون ایف سی آر کے تحت زندگی گذارنے والے مجبور ، محکوم اور مظلو م قبائل تک سول عدالتوں کا دائرہ کار بڑھانے کا قانون پاس کیا جائے گا قبائل کو آزاد صوبہ بنانے یا خیبر پختونخوا میں ضم کر نے کا بل پاس کیاجائے گا5 سالوں میں دونوں کام نہ ہوسکے وجوہات بہت سی تھیں لیکن حکمران جماعت نے اتحادیوں کو خوش کر نے کے لئے اپنے چہرے پر کالک مَل دی اوراپنے دامن کو بھی داغدار کیا بقول فیض احمد فیض ؂
دونوں جہاں تیری محبت میں ہار کے
وہ جارہا ہے کوئی شبِ غم گذار کے
یہ ماننا پڑے گا کہ ایف سی آر (FCR) ایک سدا بہار قانون ہے نہ مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر اس قانون کو چھیڑ سکتا ہے نہ منتخب پارلیمنٹ اپنے اختیارات استعمال کرکے اس میں ترمیم کرسکتی ہے اس قانون کے مقابلے میں قبائل کے ایک کروڑ عوام ہیں غریب لوگ ہیں ان میں بیوہ ، معذور اور بوڑھے بھی ہیں ان میں معصوم بچے بھی ہیں ان میں تعلیم اور روزگار کے لئے سرگردان نوجوان بھی ہیں دوسری طرف ایف سی آر کی حمایت میں 200با اثر لوگوں کا طاقتور ٹولہ ہے جو ہر ماہ 10ارب روپے ایف سی آر کے ذریعے کماتا ہے یہ ٹولہ کسی بھی حالت میں ایف سی آر کو ختم ہونے نہیں دیتا کیونکہ ان لوگوں کا غیر قانونی کاروبار ایف سی آر سے وابستہ ہے ایک عارف اور ولی نے بڑے پتے کی بات کہی ہے ان کا کہنا ہے کہ مشرف کو لال مسجد کے شہیدوں کی بد دعا لگ گئی اور نواز شریف کو ایک کروڑ قبائلی مظلوموں کی بد دعائیں لگ گئیں فاٹا کے منتخب اراکین نے شاہ جی گل آفریدی کی سربراہی میں اپنے ذاتی مفادات کی قربانی دے کر ایف سی آر کے خاتمے کی غیر مشروط حمایت کی تھی ان کی قربانی کے ساتھ 5سالوں کی محنت بھی رائیگان گئی فاٹا کے پارلیمنٹیرین گروپ کی حمایت بھی رائیگان گئی فاٹا سے ایف سی آر کو ختم کرنے کا بل پاس نہیں ہوا سول عدالتوں کا دائرہ اختیار فاٹا تک بڑھانے کا قانون پاس نہیں ہوا 2008ء میں بننے والی اسمبلی اس اعتبار سے بے حد کامیاب اسمبلی تھی اُس وقت کی اسمبلی نے اٹھارویں ترمیم کا بل پاس کر کے کنکرنٹ لسٹ کو ختم کیا صوبوں کو خود مختاری دی سرحد کا نام تبدیل کر کے خیبر پختونخو ا رکھنے کا بل پاس کیا کالا ڈھاکہ کے نام سے ہزارہ کی قبائلی تحصیل کا نام تورغر رکھ کر اُس کو ضلع کی حیثیت سے خیبر پختونخوا کی عملداری میں دینے کا بل پاس کیا حالانکہ یہ اس قدر آسان کام نہ تھا ’’ اگر مگر‘‘اس کام میں بہت زیادہ تھے اسمبلی نے مصلحتوں کی پرواہ نہیں کی قانون سازی میں کسی گروہ کے ذاتی مفادات کو رکاوٹ بننے نہیں دیا یہاں فلیش بیک (Flash Back ) کے طور پر ایف سی آر کا پس منظر اور پیش منظر دہرانا بے جا نہ ہوگا ؂

تازہ خواہی داشتن گر زخم ہائے سینہ را
گاہے گاہے باز خواں ایں قصۂ پارینہ را
1870ء کے بعد آنے والے دور میں قبائلی عوام نے مُلّاپاوندہ ، فقیر آ ف ایپی ، عجب خان افریدی اور حاجی صاحب ترنگزئی کی قیادت میں انگریزوں کے خلاف مسلح بغاوت کا راستہ اختیار کیا تھا اس کے جواب میں انگریزو ں نے قبائلی عوام سے چار حقوق چھین لئے اظہار رائے کی آزادی کا حق ، انصاف تک رسائی کا حق ، تعلیم اور صحت کی سہولیات کا حق ، ترقی اور روزگار کا حق ان چار حقوق کو چھیننے کے لئے ایک قانون بنایا جو نو آبادیاتی دور کے غلام قوموں کے لئے مخصوص تھا اس کا نام فرنٹیر کرائمز ریگولیشن (FCR) رکھا گیا اس قانون کے تحت قبائلی علاقوں میں سول عدالتوں کی اجازت نہیں تحریر و تقریر ، میڈیا اور اخبارات کی اجازت نہیں قبائلی لوگوں کو تعلیم اور صحت کی سہولیات مانگنے کی اجازت نہیں معاشی ترقی اور روزگار کے ذرائع تلاش کرنے کی اجازت نہیں 14اگست 1947 ء کو پاکستان قائم ہوا 15اگست 1947ء کے دن ایف سی آر کو ختم کرنا چاہیئے تھا قبائل نے مطالبہ کیا بااثر شخصیات نے رکاوٹ ڈال دی ان کا غیر قانونی کاروبار خطرے میں تھا اس کے بعد چار اہم مواقع آئے اکتوبر 1958ء میں فیلڈ مارشل محمد ایوب خان کا مارشل لاء مئی 1969 ء میں جنرل یحییٰ خان کے حکم سے ملاکنڈ اور دیگر علاقوں کو آزاد ریاستوں کا خاتمہ ، اپریل 1978ء کا انقلاب ثوراور اکتوبر 1999ء میں جنرل مشرف کا مارشل لاء چار سنہرے مواقع تھے جب ایف سی آر کو ختم کیا جاسکتا تھا ان مواقع کے بعد اٹھارویں ترمیم کے بل کی تیاری کے وقت بھی سابق صدر آصف علی زرداری کی توجہ اس طرف مبذول کرائی جاتی اخونزادہ چٹان اور منیر اورکزئی اپنا مثبت کردار ادا کرتے تو انگریزوں کا بنایا ہوا کالاقانون ختم ہوسکتا تھا موجودہ اسمبلی میں شاہ جی گل افریدی اور ان کے ساتھ دیگر اراکین اسمبلی نے ایف سی آر کو ختم کرنے کے لئے جدوجہد کی مگر مسلم لیگ (ن) کی قیادت نے مصلحتوں کا شکار ہوکر یہ موقع ضائع کردیا ایک کروڑ قبائلی پھر ہار گئے 200 افرادکا کرپٹ اور مفاد پرست ٹولہ پھر جیت گیا ایف سی آر کا سدا بہار قانون اپنی جگہ رہا
یہ داغ داغ اجالا یہ شب گزیدہ سحر
یہ وہ سحر تو نہیں کہ جس کا انتظار تھا

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
دوسروں کے ساتھ اشتراک کریں

یہ خبر بھی پڑھیں

جنگلاتی علاقوں کے عوام کا دشمن شہزادہ سراج الملک ہیں،ہوٹل کی تعمیر میں لاکھوں فٹ لکڑی کہاں سے حاصل کیا۔جنگلاتی علاقوں کے عمائدین کی پریس کانفرنس 

چترال (نمائندہ چترال ایکسپریس) چترال کے جنگلاتی علاقوں شیشی کوہ، ارندو، ارسون اور دمیل کے ...


دنیا بھر سے