بدیع الرحمنتازہ ترین

آنے والےالیکشن میں صحیح آدمی کے ہاتھ اپنے وطن عزیز کی حفاظت کی زمہ داری دینی ہوگی۔۔

…………تحریر: بدیع الرحمن چترالی،مرکزی انفارمیشن سکریٹری تحریک تحفظ پاکستان…………

الحمداللہ ہم سب مسلمان یں۔ ویسا بہی انسانی اعضاء کے قیمت لگانا کسی انسان کی بس کی بات نہیں۔اور نہ ہی اس کا کوئی نعمل برل ہے۔عام زندگی میں کوئی بھی انسان کروڑں روپوں کے عوض اپنا ناخن دینا پسند نہیں کرتا مگر اقتدار میں عزت دولت اور شہرت ملنے کے باوجود ایمان کے ساتھ خود کو بھی فروخت کر لیتے ہیں۔ پاکستان کی سیاست بھی عجیب، یا تو وزیراعظم بن کر پیراشوٹ کے ذریعے لینڈ کر لیتا ہے اور ہم گل دانستہ لیکر کھلے دل سے ویلکم کرتے ہیں اور ان کی ہر فیصلے پورے اطمنان کے ساتھ قبول کر تے ہیں اس کا نتیجہ جو بھی ہو۔دورانیہ ختم ہو نے کے بعد آج تک پتہ نہ چل سکا کہ کدھر سے آئے اور کدھر گئے۔یہ آئے گئے کی کہانی محتصراً ۔دوسرا پہلو جب تک صدر یا وزیراعظم کے عہدے پر رہے تو پاکستانی ۔اور پاکستان سے محبت کے دعوے، پاکستانی قوم کی خدمت کیلے دل سے دن رات حاضر ۔۔مگر افسوس سخت افسوس اپنے قابلیت باہر کے درسگاہوں میں فرائض منصبی فخر کے ساتھ انجام دیتے ہیں۔تسراپہلو۔۔۔الیکشن ہارنے کے بعد پاکستان سے رفو چکر نہ کسی کی غمی میں اور نہی کسی کی خوشی میں شریک۔بیرونی ممالک عیش وعشرت،پاکستان کی مستقبل کے سارے فیصلے باہر سے،اس قسم کے معاملات کے پہلے ہی ہم عادی تھے مگراب چوتھا پہلو بھی کھل کر سامنے آیا۔یہ کہ کسی عام سپاہیی کےاگر ہاتھ پاؤنکاٹے بی اپنا منہ نہیں کھولے گا۔مگر یہ لوگ اپنے سیاسی مفادات کی خاطرایک دوسرے کے خلاف اقبالی گواہ بنے کیلے دیر نہیں کر تے۔ان کی ان کرتوتوں کی وجہ ہم اپنے مذہبی تقدس کھو بیٹے۔ملکی سلامتی کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔دھشت گرد کے نام سےپہچانا جاتے ہیں۔اخلاقی معیار گر گیا۔چھ چھ سال کے بچے بچیوں کا ریپ ہونے لگا۔ رشوات رواج بن گیا ظلم بہادری کہلانے لگا انگریزی جاننے والا تعلم یافتہ اور قرآن پاک کا علم رکنے والا ناسمجھ سمجا جانے لگے۔انصاف نام کا کوئی چیز نظر نہیں آتی۔حفاظت کا سوچنا درکنار۔اورکئی انگینت برائیان جنم لے چکی ہیں۔ ان کو چولی بھر پانی میں دھوپ مر نا چاہے۔اگر ان کو شرم نہیں آتی تو پھر ہمیں خیرات کرنا ہو گا۔ آنے والےالیکشن میں صحیح آدمی کے ہاتھ اپنے وطن عزیز کی حفاظت کی زمہ داری دینی ہوگی۔۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
دوسروں کے ساتھ اشتراک کریں

متعلقہ خبریں/ مضامین

error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔
إغلاق