میری ڈائری کے اوراق سے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔( ذاکرمحمد ذخمیؔ ایک ا لحامی شاعر ) – Chitral Express

Premier Chitrali Woolen Products

میری ڈائری کے اوراق سے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔( ذاکرمحمد ذخمیؔ ایک ا لحامی شاعر )

اس تحریر سے پہلے میں نے ذاکرمحمد زخمیؔ صاحب کی زندگی کے حالات پر اپنے توٹے پھوٹے الفاظ ازمایا تھا۔ عادت رہی کہ جب کوئی شعردل کو بھاتا ہے تو نہ چاہتے ہوئے بھی مہینوں سوچ میں ڈوب جاتا ہوں نیندیں اُچاٹ ہو جاتی ہیں کہ آخر اس شعر کے خالق نے یہ خیال کہاں سے لایا جو دل کو چیر کر اندر گھس جاتا ہے اور پھر تیرنیم کش بن کے دل میں کھٹکتا رہتا ہے  ۔ پچھلے دنوں ایسا ہی ہوا،ذاکر ذخمی کے صرف دو اشعار سماعتوں سے ٹکرا گئے موصوف کے ہر لفظ کےاندرایک کائینات آباد تھی یا شاید مجھے ایسا لگا بہرحال میں نے نتیجہ یہ اخذ کیا کہ زندگی کی ناہمواریوں کو دوسروں کے لئے ہمواربنا کرانہیں ڈھارس بندھوانے کا نام شاعری ہے ۔ سنگلاخ زمین کی چٹٰیل سطح پر پانی بہایا جائے تو پانی اپنی فطرت کی پاسداری کرتا ہے اور اپنی گزرگاہ کی سطح کو برابر رکھتے ہوئے آگے سفرکرتا ہے، یہ شاعری ہے۔پانی اُس وقت تک آگے سفرنہیں کرتا جب تک اپنےراستے میں حائل تمام گڑھوں کو ڈھانپ نہ دے، یہ شاعری ہے۔شاعری آسمان سے بارش کے قطروں کی صورت میں پہاڑوں پر ٹپک کر آبشارروں اورندی نالوں کی صورت میں پہاڑوں سے گرتے اور پتھروں سے سر ٹکراتے سمندر کی جانب رو بہ سفر پانی کی مثال ہے ۔ پانی یہ دیکھے بغیر محوِ سفر ہوتا ہے کہ  خشک زمین پر زہرکا بیچ زندگی کے لئے ٹرپ رہا ہے یا تریاق کا دانہ چمشم براہ ہے،پانی ہر نیک و بد کو سیراب کرتا ہے زندگی کی رمق عطا کرتا ہے۔ یہی کچھ شعرأ کے ساتھ بھی ہے۔ اُن کے زہنوں میں رحمتوں کے بادل ہمیشہ منڈلاتے رہتے ہیں اوربلا تفریق ہر کس نا کس پر برستے ہیں اور خوب برستے ہیں ۔ شاعری کا فن جاننے والا ہرشاعراپنے زمانے کا نبص شناس ہوتا ہے وہ جب کسی خیال سے ٹکراتا ہے باقی شعرا کے ٹکراؤ کے لئے گنجائش قطعی طور پر نہیں چھوڑ تا ۔ غالب ؔ  نے کہا تھا

؎  آتے ہیں غیب سے یہ مضامین خیال میں

                                                                             غالبؔ صریر خامہ نوائے سروش ہے

غیب سے اگر کسی انسان کو کوئی خیال آجائے اور خیال بھی ایسا ہو کہ سننے والا انگشت بدندان رہ جائے ، شاید عام انسان کی بس کی بات نہیں ہو سکتی ۔ ذاکر زخمیؔ صاحب کی شاعری میں ایسی ہی روانی پائی جاتی ہے۔موصوف کے اشعار کو سن کر بعض مرتبہ شک گزرتا ہے کہ کیا واقعی موصوف ہمارا جیسا بشرہے یا کوئی اورمخلوق۔ ایسا معلوم ہوتا ہے گویا آپ کی زبان سے کوئی اور بولتا ہے ۔ اوروہ بولنے والاعام لوگوں سے قدرے مختلف ہے۔مثال کے طور پر یہ خیال ملاحظہ کیجئے

؎          محرم راز ریکو تہ غیچ بیگانہ   ہورو کیہ بوسہ نو؟ انوازو گانئے

                                                            حیاتو حال تتے معلوم مہ بو جام  لوؤ ہوت دوسہ نو؟ انوازو گانئے

            باد سحر کی خصوصیت یہ ہے کہ وہ طراوت و تازگی کا پیامبرہوتی ہے۔ باد صبا کے جھونکے قسمت کے دھنی لوگوں کوہی چھوکر نکلتےہیں ۔ ذاکر زخمی کے یہاں ’’انوازو گان ‘‘اگرچہ محرم راز ہے تاہم کون جانے کہ آتے ہوئے راستے میں کتنے  اور پھولوں کو چھو کراُن کے کانوں میں سرگوشیاں کرتے ہوئے آئی ہوگی ۔ شک کی نگاہ سے دیکھنا عشق کے فطری اصولوں کے عین مطابق ہے یہی وجہ ہے کہ ’’انوازو گان‘‘ کی زبانی اپنا پیغام بھیجتے ہوئے شاعرمخمصے کا شکار ہے ۔ زندگی کے طویل اورمشکل مسائل کو اپنی علامتی شاعری کے ذریعے مختصر الفاظ کے جامے میں پیش کرنا ذاکر ذخمی ؔ کی شاعری کا خاصہ ہے ۔خیالات کا مثبت الجھاؤ، پیچ و خم اور مد وجزر آپ ہی پر جچتی ہیں ۔ شاعر نے یہ ثابت کیا ہے کہ دنیا میں رازداری کا معاملہ دلچسپ مگرپر پیچ ہے رازداری کی اس پچیدگی کےاندر بے شماراورنکتے موجود ہیں ۔ موصوف کی شاعری میں وہ خیالات بھی جگہ پاتے ہیں جنہیں نثر میں بیان کرنے اور دوسروں کے ذہنوں میں بٹھانے کے لئے زمانے کو ایک عمر کی ضرورت ہوگی ۔ ذخمیؔ کو سمجھنے کےلئے  ہمیں اُتنا زمانہ لگے گا جتنا غالب کو اپنے محبوب کی ذلفوں کو سر کرنے میں لگا تھا ۔  دوسرا شعر جو میں نے سنا اور سن کے خیالوں کی وادی میں دور تک  نکل گیا وہ یہ ہے :

؎   اوا ڑائی فیزی بوئیک تو کہ پشیس مہ ماڑو، کیہ ذایلہ سے کورا بویان

                                                            چیچیق چھونچھیر بیچھیکو پوچھ اُوژورین  نیسیکو گان ہے گانو پھورا بویان

            ڑائی فیزی یا ڑائی ہیسی بوئیک وہ پرندہ ہے جو قد کاٹھ کے حساب سے بہت چھوٹا ہوتا ہے تاہم دوراندیش اتنا کہ جب گھونسلا بناتا ہے تو بید مجنون کی شاخوں کی اُن چوٹیوں پر بناتا ہے جہاں ٹہنی یکدم زمین کی طرف جھکی ہوتی ہیں ۔ اس مشکل جگہے پر گھر بنانے کا مقصد اپنے نونہالوں کوزندگی کے تمام خطرات سے محفوظ رکھنا ہوتا ہے تاکہ وہاں تک کسی سانپ یاکسی اور درندے کی پہنچ نہ ہو ۔عمر بھی کی مشقت کے باوجود ڑائی فیزی پرندے کی یہ تدبیر کارگر نہیں ہوتی کیونکہ بعض مرتبہ پرندوں کے شکاری غلیل بردار بچوں کے لئے ڑائی فیزی کے یہی گھونسلے ہدف بنانے کے لئے بڑے آسان ہوتے ہیں ۔ بچوں کو یہ معلوم نہیں ہوتا کہ ان گھونسلوں پر کتنی عرق ریزی سے محنت ہوئی ہے ۔ بچے ازراہ تفنن غلیل چلا ہی دیتے ہیں ڑائی فیزی کی عمر بھر کی محنت کے ساتھ اُن کے ننھے ننھے بچوں تک ہوا میں اچھالے جاتے ہیں ۔ غلیل سے شکار کرنے والے بچوں کی نظر میں اس سے بڑا تماشا اورنہیں ہوتا

( یاد رہے کہ غلیل سے پرندوں کا شکار چترال کی پرانی بے رحم روایات میں سے ایک ہے ، ہم بھی جب چھوٹے تھے تو سکول سے آتے ہیں غلیل نکال لیتے اورہرطرح کے پرندوں کا پیچھا کرتے۔ہم میں سے بعض بچے اپنے غلیل اپنی شلوار کے نیفوں میں سمیٹے سکول جایا کرتے تھے ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ بہت ہی غیر مہذب رواج زندگی تھا ۔ آج کے بچے ہم سے مہذب ہیں اس لئے وہ اس حرکت کو معیوب سمجھتے ہیں )

            ذاکر ذخمی صاحب نے اسی روایت کی روشنی میں انسانی زندگی کی ایک تلخ حقیقیت سے بجا طور پردہ اُٹھانے کی کوشش کی ہے ۔ یہاں ڑائی فیزی بوئیک ایک استعارہ ہے  جو کہ انسانی زندگی اوراس زندگی سے وابستہ منصوبوں،خوشیوں اور شادمانیوں کے لئے مستعار لیا گیا ہے جبکہ چیچیق یعنی بچے اصطلاحاً انسان کو دبوچنے والے وہ ناگہانی مصیبتں آلام اورآفات ہیں جن کے واقع ہونے کا انسان کو گمان تک نہیں ہوتا۔ایک ناگہانی واقعہ ہو جاتا ہے اور ایک لمحے کے اندر ہوا میں اڑنے والے پرندوں کے پرخچے اڑ جاتے ہیں اورانسان لپک جھپکنے میں صفحہ ہستی سے ہمیشہ کے لئے مٹ جاتا ہے ۔ پھر دوسرا پرندہ آتا ہے منصوبے بناتا ہے ، گھر بناتا ہے ، بچے جنتا ہے اور یہ سلسلہ جاری و ساری رہتا ہے ۔ انسانی زندگی کی اس بے بسی پر بولنا اور لکھنا جگر جوکھوں کا کام ہے ۔اگر یہ خیالات غیب سے بھی آتے ہیں تو یوں ہی نہیں آتے ان کے پیچھے انسان کی بصیرت کار فرما ہوتی ہے تب جاکے ایسی باتیں الہام ہو جاتی ہیں۔ مختصر یہ کہ ذاکرمحمد ذخمی پر خیالات کا الہام ہوتا ہے اور  نظر میں  ذاکرمحمد زخمی ایک الہامی شاعر ہیں ۔ اللہ تعالی قلم میں برکت فرمائے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
دوسروں کے ساتھ اشتراک کریں

یہ خبر بھی پڑھیں

پاکستان زندہ باد فٹ بال ٹورنمنٹ کا فائنل جوٹی لشٹ فٹ بال کلب نے جیت لیا۔

چترال (نمائندہ چترال ایکسپریس)پاکستان زندہ باد فٹ بال ٹورنمنٹ کا فائنل ڈگری کالج فٹ بال ...


دنیا بھر سے

error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔