تازہ ترینمحمد شریف شکیب

قبائلی عوام کو آزادی مبارک

…………محمد شریف شکیب……
قیام پاکستان کے 71سال بعدفاٹا کے نام سے جانے پہچانے سرزمین بے آئین کو شناخت مل گئی۔ پارلیمنٹ نے آئین میں 31ویں ترمیم کے ذریعے قبائلی علاقہ جات کو خیبر پختونخوا میں ضم کرنے کا بل دوتہائی سے زیادہ اکثریت سے منظور کرلیا۔ 31ویں ترمیم میں آئین کی شق نمبر ایک،51،59،62،106،155،246اور247میں ترامیم کی گئی ہیں۔اور بعض شقوں کو حذف کیاگیا ہے۔ آئینی ترمیم کے تحت قبائلی علاقوں سے متعلق صدر اور گورنر خیبر پختونخواکے اختیارات اور بدنام زمانہ قانون فرنٹیئر کرائمز ریگولیشن کا خاتمہ کردیا گیا ہے۔ آئینی ترمیم کے تحت فاٹا کے لئے مختص سینٹ کی آٹھ نشستیں ختم کردی گئی ہیں۔سینٹ کے ممبران کی تعداد 104سے کم ہوکر96رہ گئی۔قومی اسمبلی میں فاٹا کی 12نشستوں میں سے 6ختم کردی گئیں اور باقی ماندہ چھ نشستیں خیبر پختونخوا کو ملنے کے بعد اس صوبے کی قومی نشستیں 39سے بڑھ کر 45اور صوبائی نشستیں 124سے بڑھ کر 145ہوجائیں گی۔خیبر پختونخوا اسمبلی میں قبائلی علاقوں کے ایم پی ایز کا انتخاب ایک سال کے اندر کیا جائے گا۔ ترمیم کے ذریعے آئین سے قبائلی علاقوں کا نام ختم کردیاگیا۔سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کا دائرہ سماعت اب خیبر، مہمند، باجوڑ، اورکزئی، کرم ،شمالی اور جنوبی وزیرستان کے علاوہ چھ نیم قبائلی علاقوں تک بڑھایاگیا ہے۔ اب وہ خیبر پختونخوا کا جزولاینفک ہوں گے۔ پارلیمنٹ میں جے یو آئی اور پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے سوا تمام پارٹیوں نے بل کی حمایت کی۔1901میں قبائلی علاقوں کو اپنے تسلط میں لانے کے بعدانگریزوں نے ایف سی آر کا قانون وضع کیا تھا۔ جس کے تحت قبائلی عوام سے اپنے حقوق سلب کئے جانے کے خلاف آواز اٹھانے کا حق چھین لیا گیا۔ پولے ٹیکل ایجنٹ کسی بھی قبائلی شہری کو حفظ ماتقدم کے طور پر کئی کئی سالوں تک قید رکھنے کا مجاذ تھا۔ کسی قبیلے کا ایک شخص جرم کرکے فرار ہوجائے تو پورے قبیلے کواجتماعی ذمہ داری کے تحت سزا دی جاتی تھی۔ قبائلی علاقوں کو علاقہ غیر قرار دے کر وہاں کے مکینوں سے اپنے ہی ملک میں غیروں جیسا سلوک کیا جاتا رہا۔ مالکان اور پولے ٹیکل انتظامیہ سیاہ و سفید کے مالک تھے۔ایف سی آر کے کالے قانون کے خلاف قبائلی عوام نے ایک صدی تک جدوجہد کی۔آج قبائلی عوام کو غلامی کی زنجیروں سے اگر نجات ملی ہے تو اس کا کریڈٹ بھی قبائلی عوام کو ہی جاتا ہے۔جنہوں نے اپنی شناخت کے لئے طویل اور صبرآزما جدوجہد کی۔ انہوں نے سات عشروں تک ملک کی مغربی سرحدوں کی حفاظت کی۔ جس کا انہیں کوئی معاوضہ دیا گیا نہ ہی ان کی خدمات کا اعتراف کیاگیا۔افغانستان پر سوویت یونین کی فوجی یلغار کے بعد قبائلیوں کی زندگی مزید اجیرن ہوگئی۔ امریکی سرپرستی میں دنیا بھر سے جہادیوں کو بلاکر نام نہاد افغان جہاد کے لئے افغانستان بھیجا جاتا رہا۔ انہی جہادیوں کو قبائلی علاقوں میں لاکر بسایاگیا۔بندوق اور گولی کی زبان میں بات کرنے والے ان جہادیوں کے راستے جب مسدود کردیئے گئے۔تو انہوں نے ریاست پاکستان کے خلاف ہی ہتھیار اٹھالئے۔دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کو ناقابل تلافی جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا۔پے درپے ڈرون حملوں، دہشت گردی کی کاروائیوں اور دہشت گردی کے خاتمے کے لئے فوجی آپریشنز کے نتیجے میں قبائلی علاقوں کا نقشہ ہی بدل گیا۔ لاکھوں قبائل اپنے گھر بار چھوڑ کر اپنے ہی ملک میں مہاجر بننے پر مجبور ہوگئے۔ اتنی قربانیوں کے باوجود مملکت کے ان بے تنخواہ سپاہیوں کو دوسرے درجے کا شہری ہی گردانا جاتا رہا۔انہیں تعلیم، صحت، روزگار اور بنیادی انسانی سہولیات سے بھی محروم رکھا گیا۔اب جبکہ ملک کی تمام بڑی پارٹیوں نے قبائلی عوام کو پاکستان کا شہری تسلیم کرلیا ہے۔ انہیں وہ مراعات اور حقوق بھی دیئے جائیں جن سے گذشتہ سات عشروں سے انہیں محروم رکھا گیا۔ انہیں کم از کم دس سال تک خصوصی توجہ کا علاقہ ڈکلیئر کرکے وہاں انفراسٹرکچر کے قیام پر توجہ مرکوز رکھنی ہوگی۔ قبائلی علاقوں کو قدرت نے معدنی ذخائر سے نہایت فیاضی سے نوازا ہے۔ ان ذخائر سے استفادہ کرکے نہ صرف قبائلی عوام کی زندگی بدلی جاسکتی ہے بلکہ پاکستان کی معیشت کو بھی مضبوط سہارا مل سکتا ہے۔ توقع ہے کہ آئندہ منتخب حکومت محب وطن قبائلی عوام کی محرومیوں کا ازالہ کرنے کے لئے ٹھوس اور جامع منصوبہ وضع کرے گی۔
اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
دوسروں کے ساتھ اشتراک کریں

متعلقہ خبریں/ مضامین

error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔
إغلاق