گرم چشمہ لٹکوہ کا سیاسی صورتحال۔۔۔۔ – Chitral Express

Premier Chitrali Woolen Products

گرم چشمہ لٹکوہ کا سیاسی صورتحال۔۔۔۔

 ان دنوں تحصیل لٹکوہ کے عوام شدت سے اس انتظار میں ہیں کہ لٹکوہ سے پارٹی ٹکیٹ میں کون کونسے امیدوار میدان میں اتریں گے، اس دوڑ میں سلیم خان جو کہ پیپلز پارٹی کا ضلعی صدر اور سابق صوبائی وزیر اور ایم پی اے رہ چکا ہے، سب سے آگے ہے اور دوسرے نمبر پر پارٹی ٹکیٹ کا امیدوار اسرارالدین صبور ہیں جو تحریک انصاف کے ضلعی جی ایس ہیں۔ ہمارے ذرائع کے مطابق سلیم خان اس انتظار میں ہیں کہ پی ٹی آئی کا ٹکیٹ کس کے حصے میں آتی ہے۔ اس کے بعد ہی موصوف اپنا فیصلہ واضح کر سکے گا۔ کیونکہ سلیم خان اسرار صبور سے خوفزدہ ہیں اور ذرائع یہ بھی بتا رہے ہیں کہ اسرار صبور صوبائی اسمبلی کے لئے بطور امیدوار سامنے آتے ہیں تو سلیم خان کسی صورت اس کے مقابلے میں آنے کو تیار نہیں ۔ اور اس بات کا اعلان موصوف اپنے دورہ کریم آباد میں کر چکا ہے کہ وہ اسرار صبور کے خلاف سامنے نہیں آئے گا۔ اس اعلان کے دو مقصد ہو سکتے ہیں ، اوّل یہ کہ موصوف لٹکوہ خصوصا کریم آباد کے عوام کو جذباتی کرکے سیاسی مقصد کے لئے استعمال کرنے کی کوشش کررہا ہے جو اسرار کے نہ آنے کی صورت میں کارآمد ہو گی۔ اور دوم یہ ہے کہ موصوف روز اوّل سے ہی لٹکوہ میں خدمت کے بجائے ہمدردی ، مسلکی اور علاقائی طور پر بلیک میل کرکے ووٹ حاصل کر رہا تھا اور اسرار صبور آنے کی صورت میں موصوف کے پاس کسی بھی قسم کی ہمدردی کے حصول کا اپشن نہیں بچتا ہے اورموصوف اس کے یعنی اسرار صبور کے مقابلے میں نہ آنے کو ہی آفیت قرار دیکراہلیان لٹکوہ کو پھر سے گمراہ کرنے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں مگر اس بار نوجوانان لٹکوہ یہ جان چکے ہیں کہ وہ جذبات سے زیادہ ہوش و حواس سے کام لیکر اپنا قیمتی رائے اہل امیدوار کے حق میں استعمال کریں گے۔ دوسری طرف سلیم خان کا یہ انتظارسے واضح ہو رہی ہے کہ اگر موصوف لٹکوہ میں خلوص اور میرٹ کے مطابق کام کر لیا ہوتا تو آج اسرار صبور سے خوفزدہ ہونے کی نوبت نہیں آتی۔ مگر اب پچھتاوے کیا جب چڑیاں چھک گئیں کھیت والی بات کا سامنا ہے۔ اور یہ دیکھنا باقی ہے کہ سلیم خان اب کے بار کونسا حربہ استعمال کرتے ہیں۔ مگر ہم مشکل کی اس گھڑی میں عافیت کیلئے ہی دعاگو رہیں گے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
دوسروں کے ساتھ اشتراک کریں

یہ خبر بھی پڑھیں

داخلے جاری ہیں

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ...


دنیا بھر سے

error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔