تازہ ترینمحمد شریف شکیب

یہ بھی تو پڑے ہیں راہوں میں

………..محمد شریف شکیب……….
25جولائی کوملک میں بالغ رائے دہی کی بنیاد پر ہونے والے گیارھویں عام انتخابات میں دس کروڑ بیالیس لاکھ ، سڑسٹھ ہزار پانچ سو اکیاسی رجسٹرڈ ووٹر اپنا حق رائے دہی استعمال کرسکیں گے۔ جن میں پانچ کروڑ چوراسی لاکھ ترسٹھ ہزار دو سو اٹھائیس مرد اور چار کروڑ اٹھاون لاکھ ، چار ہزار تین سو تریپن خواتین شامل ہیں۔الیکشن کمیشن کے مطابق ملک کے سب سے بڑے ضلع پنجاب میں رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد پانچ کروڑ ستانوے لاکھ چالیس ہزار ہے جو ملک کے مجموعی ووٹروں کی نصف تعداد سے زیادہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سیاسی جماعتیں پنجاب سے اکثریت حاصل کرنے کے لئے سردھڑ کی بازی لگاتی ہیں۔ خیبر پختونخوا میں رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد ایک کروڑ باون لاکھ انتالیس ہزار پانچ سو اکہتر،سندھ میں دو کروڑ بیس لاکھ چھیاسٹھ ہزار پانچ سو اٹھاون ، بلوچستان میں اکتالیس لاکھ چورانوے ہزار تین سو گیارہ، فاٹا میں بائیس لاکھ چھیانوے ہزار آٹھ سو انچاس جبکہ وفاقی دارالحکومت میں رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد سات لاکھ تیس ہزارہے۔ان رجسٹرڈ ووٹروں میں مسلمان، غیر مسلم، خواجہ سرا اور خصوصی افراد بھی شامل ہیں۔پاکستان میں خواتین کی تعداد مردوں سے تھوڑا زیادہ ہے لیکن ووٹروں میں ان کی تعداد مردوں سے کم بتائی گئی ہے۔ شاید بہت ہی کم لوگوں کو معلوم ہے کہ رجسٹرڈ ووٹروں میں ایک کروڑ سے زیادہ تعداد معذور افراد کی بنتی ہے۔ جن کی نشاندہی سے دانستہ طور پر احتراز برتا گیا ہے۔ عالمی ادارہ صحت کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کی بائیس کروڑ کی آبادی میں معذور افراد کی تعداد دوکروڑپچیس لاکھ سے زیادہ ہے۔ جن میں سماعت، بصارت ، گویائی سے محروم افراد، جسمانی طور پر معذور اور ذہنی معذور افراد شامل ہیں۔ جن کے لئے انگریزی میں Persons with Disabilitiesکا لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔عالمی ادارے کی رپورٹ کے مطابق خیبر پختونخوا میں معذور افراد کی تعداد35لاکھ ہے ۔قبائلی علاقوں کی خیبر پختونخوا میں شمولیت کے بعد یہاں معذور افراد کی تعداد چالیس لاکھ سے تجاوز کرجاتی ہے۔ محکمہ شماریات کا کہنا ہے کہ 1998کی مردم شماری کے مطابق پاکستان میں معذور افراد کی کل تعداد صرف 32لاکھ تھی جو مجموعی آبادی کا صرف اعشاریہ اٹھانوے فیصد بنتا ہے۔ اب ان کی تعداد پچاس لاکھ کے قریب ہوگی۔ دوسری جانب محکمہ سماجی بہبود نے خیبر پختونخوا میں معذور افراد کی تعداد 49ہزار 808بتائی ہے۔لیکن سرکاری اداروں کے یہ اعدادوشمار واضح طور پر حقائق کے برعکس لگتے ہیں۔ سرکار کے ادارے یا تو معذوری کی تعریف سے ناواقف ہیں یا وہ مکمل طور اندھے، گونگے، بہرے اورہاتھ پاوں سے محروم لوگوں کو ہی معذور سمجھتے ہیں۔ حالانکہ پاکستان میں ذہنی طور پر معذور افراد کی تعداد بھی پچاس لاکھ سے زیادہ ہے۔ہر دوسرے تیسرے گھر میں ذہنی یا جسمانی طور پر معذور فرد ضرور ہوتا ہے۔ پولیو کے مرض کا شکار ہونے والے،بم دھماکوں، ڈرون حملوں اوردہشت گردی کے واقعات میں جسمانی اعضاء سے محروم ہونے والے ان کے علاوہ ہیں۔ملک میں سوا دو کروڑ معذور افراد ہونے کا مطلب یہ ہے کہ ان کی تعداد 2013کے انتخابات میں وفاق میں بھاری مینڈیٹ کے ساتھ اقتدار میں آنے والی جماعت کے مجموعی حاصل کردہ ووٹوں سے دوگنا ہے۔ جسمانی یا ذہنی طور پر معذور افراد بھی اس معاشرے کا حصہ ہیں۔ ان میں سے بہت سے لوگ معاشرے میں قابل تقلید تعمیری کردار بھی ادا کر رہے ہیں۔ معذوروں میں اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگ بھی شامل ہیں۔ ملک میں اقلیتوں کی مجموعی تعداد کل آبادی کے تین سے چار
فیصد کے برابر ہے۔ ان کے لئے قومی و صوبائی اسمبلیوں اور بلدیاتی اداروں میں بھی نشستیں مخصوص ہیں۔ بائیس کروڑ میں سے اگرسوا دوکروڑافراد معذور ہیں تو ان کا تناسب مجموعی آبادی کا دس فیصد سے زیادہ بنتا ہے۔ آبادی کے اتنے بڑے حصے کو قومی اداروں میں نمائندگی سے محروم رکھنا زیادتی ہی نہیں۔ بلکہ سنگین اور مجرمانہ غفلت ہے۔ جب تک انہیں قومی وصوبائی اسمبلیوں اور بلدیاتی اداروں میں آبادی کے تناسب سے نمائندگی نہیں ملے گی۔ ان کے مسائل کبھی حل نہیں ہوسکتے۔ الیکشن کمیشن، موجودہ نگران وفاقی و صوبائی حکومتوں اور آنے والی منتخب حکومتوں کو اس اہم ایشو پرضرور غورکرنا چاہئے۔
اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
دوسروں کے ساتھ اشتراک کریں

متعلقہ خبریں/ مضامین

error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔
إغلاق