امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق اور امیر صوبہ مشتاق احمد خان کی ہدایت پر انہوں نے دونوں سیٹوں کیلئے کاغذات نامزدگی داخل کی۔مولانا عبدالاکبرچترالی کی پریس کانفرنس – Chitral Express

Premier Chitrali Woolen Products

امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق اور امیر صوبہ مشتاق احمد خان کی ہدایت پر انہوں نے دونوں سیٹوں کیلئے کاغذات نامزدگی داخل کی۔مولانا عبدالاکبرچترالی کی پریس کانفرنس

چترال (نمائندہ چترال ایکسپریس ) الیکشن 2018کیلئے ایم ایم اے اور جماعت اسلامی کے مشترکہ امیدوار مولانا عبد الاکبر چترالی نے جمعرات کے روز اپنے حلقہ احباب کی معیت میں نیشنل اسمبلی NA-1چترال اور صوبائی اسمبلی PK-1کیلئے کاغذات نامزدگی ریٹرننگ آفیسر ز این اے ون ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج چترال محمد خان اور ریٹر ننگ آفیسر پی کے ون سینئر سول جج چترال عابد زمان کے پاس داخل کی ۔ اس موقع پر لوگوں کی بڑی تعداد اُن کے ہمراہ تھے ۔ بعد آزان مولانا عبد الاکبر نے چترال پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا۔ کہ امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق اور امیر صوبہ مشتاق احمد خان کی ہدایت پر انہوں نے دونوں سیٹوں کیلئے کاغذات نامزدگی داخل کی ہے۔ تاہم چترال میں جماعت کی قیادت اور کارکنان صوبائی سیٹ پر کھڑے ہونے پر اصرار کرتے ہیں ۔ اس لئے اُن کی خواہش کا احترام کرتے ہوئے انہوں نے دونوں سیٹوں کیلئے کاغذات نامزدگی داخل کی ہے ۔ اور اُن کی بھر پور کوشش ہوگی ۔ کہ وہ ایم ایم اے کو ہر ممکن طریقے سے قائل کرکے صوبائی سیٹ پر الیکشن لڑ کر کارکناں کی خواہش پوری کریں گے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ اس حوالے سے وہ جماعت اسلامی کے صوبائی اور مرکزی قائدین اور حلیف جماعت کے قائد مولانافضل الرحمن سے بھی ملاقات کرکے بھی مطالبہ کریں گے ۔ مولانا چترالی نے کہا ۔ ہر پارٹی کے اندر اختلاف رائے موجود ہوتا ہے ۔ اور جماعت اسلامی ایک مکمل جمہوری جماعت ہے ۔ جس میں مثبت اختلا ف پر کوئی قدغن نہیں ہے ۔ اس لئے جماعت کے اختلاف رائے کو منفی پیش طور پر کرنا بالکل غلط ہے ۔ اورمیں تمام ضلعی قیادت کا احترام کرتا ہوں ۔ انہوں نے کہا ، کہ جماعت کے صوبائی ، مرکزی پارلیمانی بورڈ کے 99فیصد ممبران اُن کے حق میں ہیں ۔اور اُنہیں اللہ پاک سے اُمید ہے ۔ کہ گذشتہ الیکشن کی نسبت اس مرتبہ 50ہزار ووٹ لے کر کامیاب ہوں گے ۔ جبکہ کامیابی کیلئے اٹھائیس سے تیس ہزار ووٹوں کی ضرورت ہے ۔ مولانا چترال نے ایک سوال کے جواب میں کہا ۔ کہ وہ کرپٹ نہیں ہیں ۔ اپنے سابق پانچ سالہ دور نمایندگی میں انہوں نے سرکار کا ایک روپیہ ضائع نہیں کیا ۔ اور نہ سرکاری گاڑی استعمال کی ۔ لواری ٹنل کیلئے انہوں نے پرویز مشرف کے دور میں قر بانی دی ۔ اسمبلی میں لواری ٹنل کیلئے لابنک کی اور ہر ایک کی منت سماجت کرکے اسے ایک قومی پراجیکٹ کے طور پر منوانے میں کامیابی حاصل کی ۔ لاوی پاور ہاؤس ، ائر پورٹ روڈ ، بونی کالج کی تعمیر ، ڈگری کالج کیلئے بس کی فراہمی کو ممکن بنایا ۔ اور ٹمبر مافیا کی طرف سے پیش کش کو ٹھوکر مار کر جنگلات کے بچاؤ کیلئے اقدامت کئے ۔ جھوٹ نہیں بولا قوم کے ساتھ دھوکا نہیں کیا ۔ یہی میری کارکردگی ہے ۔ اور اسے میں قوم کے سامنے پیش کروں گا ۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا ۔ کہ ضلعی قیادت کو یہ اختیار حاصل نہیں ۔ کہ وہ کسی کو لائے اور کسی بھگائے ۔ایک سسٹم کے ذریعے فیصلے ہوتے ہیں ۔ جن پر ہم سب کو کاربند ہونا چاہیے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ میرا مقابلہ ضلع ناظم مغفرت شاہ اور مولانا جمشید سے نہیں ہے ۔ بلکہ میں ایک حکم کی تعمیل کررہا ہوں ۔ جو ہمارے صوبائی اور مرکزی قیادت نے دی ہے ۔ اگر وہ آج بھی یہ کہیں ۔کہ تم الیکشن میں حصہ نہیں لے سکتے ۔ تو میں بلا چون و چرا حکم کی تعمیل کروں گا ۔ انہوں نے کہا ۔ سب میرے بھائی ہیں ایک دو دن میں مسئلہ حل ہو جائے گا ۔ اور ایم ایم اے کے پلیٹ فارم سے چترال کے انتخابات کو جیتنے میں کامیاب ہو جائیں گے ۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
دوسروں کے ساتھ اشتراک کریں

یہ خبر بھی پڑھیں

رُموز شادؔ ۔۔ شہزادے کی عید۔۔۔۔۔

حضرت سیدنا عمرؓ نے ایک مرتبہ عید کے دن اپنے شہزادے کو پُرانے قمیص پہنے ...


دنیا بھر سے