تازہ ترینمحمد شریف شکیب

عوامی سیاسی اکھاڑہ

………………محمد شریف شکیب…………….
پتہ نہیں ہمارے لیڈروں کو خیبر پختونخوا میں اپنی یقینی کامیابی کی خوش فہمی کیوں ہے۔ سارے یہاں انتخاب لڑنے چلے آرہے ہیں۔ ماضی میں بھی قومی سطح کے لیڈر خیبر پختونخوا میں سیاسی طبع ازمائی کرچکے ہیں جن میں ذوالفقار علی بھٹو، بیگم نصرت بھٹو، محترمہ بے نظیر بھٹو اور عمران خان شامل ہیں ۔ اس بار بھی سیاست کے بڑے بڑے نام خیبر پختونخوا میں سیاسی پنجہ ازمائی کررہے ہیں۔ سنا ہے کہ سابق صدر پرویز مشرف این اے ون چترال سے قومی اسمبلی کا انتخاب لڑیں گے۔ گذشتہ انتخابات میں ان کی جماعت آل پاکستان مسلم لیگ نے چترال سے ایک قومی اور ایک صوبائی نشست پر کامیابی حاصل کی تھی۔ اور پورے ملک میں اے پی ایم ایل کی یہی دو نشستیں تھیں۔ان کی پارٹی کا سابق ایم این اے شہزادہ افتخار الدین مسلم لیگ ن اور حاجی غلام محمد پیپلز پارٹی کو پیارے ہوچکے ہیں۔اور دونوں اپنی نئی پارٹیوں سے ٹکٹ بھی حاصل کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔اگر پرویز مشرف چترال سے الیکشن لڑتے ہیں تو شہزادہ افتخار کے لئے مشرف کا سامنا کرنا ہی نہیں اپنے ووٹروں کو باور کرانا بھی مشکل ہوجائے گا۔پنجاب کے سابق وزیراعلیٰ اور مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف نے این اے 3سوات 2سے کاغذات نامزدگی جمع کروائے ہیں۔ عمران خان این اے 35بنوں میں جے یو آئی کے اکرم درانی کا مقابلہ کریں گے۔ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹوزرداری کے کاغذات نامزدگی ملاکنڈ میں جمع کرائے گئے ہیں۔ بلاول کو چترال سے الیکشن لڑانے کی بھی کوشش کی گئی تھی۔ مگر سلیم خان پر پارٹی کے صوبائی صدر ہمایوں خان کا پلڑا بھاری ثابت ہوا۔دلچسپ امر یہ ہے کہ 8سیاسی جماعتوں کے سربراہان بھی خیبر پختونخوا کے مختلف حلقوں سے الیکشن لڑرہے ہیں۔ جن میں سراج الحق، مولانا فضل الرحمان، بلاول، عمران خان، اسفندیار ولی، آفتاب شیرپاو، شہباز شریف اور پرویز مشرف شامل ہیں۔سیاسی جماعتوں کے قائدین کی جیت یا ہار کے بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہے۔ ممکن ہے کہ متعلقہ حلقے کے رائے دہندگان بڑے قد کاٹھ کے سیاسی لیڈر کی اپنے حلقے میں آمد کو اعزاز سمجھ کر سارے ووٹ ان کی جھولی میں ڈال دیں۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ لوگ اسے دراندازی سمجھ کر ووٹ کے ذریعے اپنے غم و غصے کا اظہار کریں۔ بے نظیر بھٹو کے ساتھ پشاور، بیگم نصرت بھٹو اور پیارعلی الانہ کے ساتھ چترال میں ایسا ہوچکا ہے۔ بات یہ نہیں کہ سیاسی رہنماوں کو خیبر پختونخوا کی سرزمین سے والہانہ روحانی یا جذباتی لگاو ہے اوروہ یہاں سے انتخاب لڑنے کو اپنے لئے اعزاز سمجھتے ہیں۔ بلکہ انہیں یہ فکر دامن گیر ہوتی ہے کہ اگر ایک ہی حلقے سے انتخاب لڑ کر شکست کھاگئے تو پھر کیا ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ مختلف صوبوں اور حلقوں سے قومی اسمبلی کے اور ایک سے زیادہ حلقوں سے صوبائی اسمبلی کے لئے کاغذات جمع کراتے ہیں کہ کسی نہ کسی حلقے میں تو تکا لگ جائے گا۔یہ بات طے ہے کہ اگر بلاول نے ملاکنڈ، شہباز شریف نے سوات اور عمران نے بنوں سے انتخابات میں کامیابی حاصل کربھی لی۔تو وہ تمام نتائج آنے کے بعد ان حلقوں سے دست بردار ہوں گے کیونکہ آئین اور قانون میں دس دس وزارتیں اپنے پاس رکھنے کی اجازت تو ہے لیکن ایک سے زیادہ حلقوں کی نمائندگی اپنے پاس رکھنے کی اجازت نہیں۔ الیکشن کے ایک مہینے کے دوران ہی یہ لوگ جیتی ہوئی نشستیں چھوڑ دیں گے۔ وہاں دوبارہ ضمنی انتخابات ہوں گے۔ ایک حلقے میں ضمنی انتخاب کرانے پر پانچ دس کروڑ کا خرچہ تو آتا ہی ہے۔ جو ان لیڈروں کے سروں کا صدقہ ہوتا ہے۔
مجھ سمیت قوم کی اکثریت کی یہ دلی خواہش ہے کہ کسی کو ایک سے زیادہ حلقوں سے الیکشن لڑنے اور قومی وسائل کے بار بار ضیاع کی اجازت نہ دی جائے۔ مگر نقار خانے میں بھلا طوطے کی آواز کون سنتا ہے۔مزے کی بات یہ ہے کہ یہ بڑے لیڈر الیکشن تو ہمارے صوبے میں آکر لڑتے ہیں لیکن یہاں آکر انتخابی مہم چلاتے ہیں اور نہ ہی جیت کر عوام کا شکریہ ادا کرنے کی زحمت گوارا کرتے ہیں۔تاہم یہ بھی غنیمت ہے کہ قومی سطح کے لیڈروں کے انتخابی دنگل کی وجہ سے ملکی اور غیر ملکی میڈیا میں ہمارے صوبے کا چرچا ہوتا ہے۔ منفی انداز میں چرچا ہی سہی۔ بدنام اگر ہوں گے تو کیا نام نہ ہوگا؟؟
اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
دوسروں کے ساتھ اشتراک کریں

متعلقہ خبریں/ مضامین

error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔
إغلاق