تازہ ترینعنایت اللہ اسیر

مجوزہ انتخابی منشور برائے چترال (بجلی کے نرخ میں80%سبسڈی کی کوشش)

عنایت اللہ اسیر

سماجی کا رکن
E.mail : aseerchitral@yahoo.com
…………….03469103996 ………………

۱۔ پاکستان میں اور صوبہ خیبر پختونخواہ میں صوبائی اسمبلی اور قومی اسمبلی کے ذریعے مکمل اسلامی قوانین کے نفاذ اور عملدارآمد کے لئے مواثر جدوجہد کرنا ۔ اور بُرائیوں کی نشاندہی کرکے ان کے خاتمے کی جدوجہد کرنا۔
۲۔ ضلع مستوج کے اصولی طور پر منظور شدہ اعلان شدہ وعدوں کے مطابق جلداز جلد قیام کرنے کے بھر پور کوشش کرنا اور پورے اسمبلی کے اراکین کو لیکر ضلع مستوج کے قیام پر عملدارآمد کرانا۔
۳۔ مرکزی حکومت اور صوبائی حکومت کے جاری منصوبوں کے جلد از جلد تکمیل کے لئے بھر پور تعاؤن کرنا۔ اور مرکزی حکومت کے اعلان کردہ 250 بستروں کے ہسپتال کے قیام کے لئے صوبائی حکومت سے بھر پور تعاون کرکے رکاوٹوں کو دور کرنا۔
۴۔ ضلعی حکومت کیلئے مرکزی حکومت کے اعلان کردہ وعدہ کے مطابق 20 کروڑ کی رقم کے حصول کے لئے جدوجہد کرنا اور مرکزی حکومت سے حاصل کرنا ۔
۵۔ چترال یونیورسٹی کے لئے گرانٹ کے طور پر اعلان کردہ وعدہ کے مطابق رقم کو مرکزی حکومت سے حاصل کرنا تا کہ چترال یونیورسٹی کو ریجینل یونیورسٹی کے طور پر ترقی دیاجاسکے۔
۶۔ CPEC کے سلسلے میں چکدرہ شندور ،گلگت روڈ کے اعلان شدہ منظور منصوبے پر عملدارآمد کو یقینی بنانا۔
۷۔ ضلع چترال کے اندر مرکزی حکومت کے اعلان کردہ تمام راستوں کے تعمیر کے لئے NHA سے رابطہ کرنا اور ان منصوبوں کو ٹنیڈر کرانا۔
تعلیم:
۱۔ چترال میں کیڈٹ کالج کے قیام کیلئے عملی جدوجہد کرنا۔
۲۔ چترال یونیورسٹی کو HEC سے منظور کرواکر یونیو رسٹی بورڈ کا قیام اس یونیورسٹی میں کروانا۔ تاکہ ہزاروں ڈگری لیویل اور ماسٹر لیویل کے طلباء و طالبات کو آسانی ہو۔
۳۔ صوبائی حکومت اور گورنر صوبہ خیبر پختونخواہ سے چترال میں انٹر میڈیٹ اور سکنڈری بورڈ کے قیام کی منظوری لینا۔
۴۔ چترال کے تمام نجی تعلیمی اداروں پر جو ناجائیز ٹیکسیز گذشتہ کئی سالوں سے صوبائی حکومت اور محکمہ تعلیم لے رہی ہے حالانکہ چترال ملاکنڈ ڈویژن کے ٹیکس فری زون کا علاقہ ہے اس کو قانونی طور پر ختم کرکے نجی تعلیمی اداروں کے قیام اور چلانے میں معاونت کرنا ۔ اور اس سلسلے میں مدرسہ اور نجی عصری تعلیمی اداروں کے قیام کی حوصلہ افزائی اور رجسٹریشن کے لئے ضلعی محکمہ ایجوکیشن اور انتظامہ کو بااختیاربنانا۔
۵۔ تمام سرکاری تعلیمی اداروں پرائیمری ۔ مسجد مکتب اور ہائی سکنڈری تک کے تعلیمی اداروں کو IMS ڈیٹا سے حاصل شدہ معلومات کے مطابق ان اداروں کو بلا واسطہ ڈائریکٹ PTC فنڈ ز کے جائنٹ اکاونٹس میں بے غیر کسی مطالبے اور قرارداد کے صوبے سے منتقل کرکے ضلعی ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کو اس فراہم شدہ فنڈز کے صحح استعمال کا نگران بنانا۔تاکہ ان کے ضروریات کو پورا کیا جاسکے۔
۶۔ تمام سرکاری اسکولوں کے معزز اساتذہ کرام کو ان کی بہتر کارکردگی کی بنیاد پراضافی الاؤنس ، گرانٹ اور ترقی دینا اور ان کی حوصلہ افزائی نتائج کی بنیاد پر کرنا۔
۷۔ نجی تعلیمی اداروں اور سرکاری تعلیمی اداروں کے اساتذہ کرام کو میرٹ کی بنیاد اور ضرورت کے مطابق مشترکہ ٹریننگ نئے کورسز کے مطابق سرکاری طور پر کرانا۔ تاکہ یکسان تعلم کا خواب شرمندہ تعبیر ہو۔
۸۔ چترال یونیورسٹی کے طلباء، و طالبات کو پاکستان کے دیگر اعلیٰ یونیورسٹیوں اور تاریخی شہر اور صحت افزآمقامات کی سیر کرنا تاکہ جو بچے ، بچیان اسکول کالج اور یونیورسٹی تک چترال میں پڑھائی کئے ہوں ان کو پاکستان کے دیگر شہروں اور تعلیمی اداروں کا مطالعاتی دورہ کرایا جاسکے۔
۹۔ سرکاری طور پر منعقدہ تمام ہم نصابی سرگرمیوں میں نجی تعلیمی اداروں کے طلباء کو بھی سرکت کا موقع دینا ۔ اور مدارس کے طلباء کو بھی یکسان شمولیت کا موقع دینا تاکہ دارلعلوم اور اسکولوں کے طلباء میں ہم اہنگی پیدا کیجاسکے۔
۱۰۔ تمام مدارس میں زیر تعلم طلباء سے میٹرک اور ایف ایس سی بھی پاس کرانے کے لئے ان مدارس کو صوبائی وا ضلعی محکمہ تعلیم سے بھی رجسٹرڈ کرانے کی درخواست کرنا تاکہ طلباء ایف ایس سی اور میٹرک سائنس میں بھی کرلیں اور ISSB ، میڈیکل اور انجینئرنگ PCS ، CSS کے لئے تیار ہوسکیں۔اور یہ کام مدرسوں کے طلباء کو صرف چار گھنٹہ عصری تعلیم کیلئے اُسی مدرسہ میں اہتمام کرنے سے عین ممکن ہوگا۔ اس سلسلے میں سرکاری طور پر بھی ان دین دنیاکے تعلیم سے آراستہ مدارس کی مالی معاونت اور آساتذہ کرام کی فراہمی میں مدد بھی کریگا۔ تاکہ دیندار افراد کو ملک کے ہر شعبے میں کردار کے قابل بنایا جاسکے ۔ مثبت تبدیلی اس سے حاصل ہوگی۔
صحت:
۱۔ ہر BHU میں ہر قسم کے ٹسٹ لبارٹریز کا قیام اور ٹیکنیشن مقررکرکے بیماری کی تشخیص کا بندوبست اور علاج کی سہولت فراہم کرنا اور چترال ہیڈکوارٹر ہسپتال کو Ctty skain،MRI اور دیگرتمام لبارٹریز کی سہولت فرہم کرنا۔
۲۔ دل کے امراض کے وارڈ کو تما م ضروریات سے آراستہ کرکے ہارٹ اسپشلیٹ کو چترال میں مقرر کرنا ۔ جو ضررویات میسرنہ ہونے کی بنا پر چترال میں ملازمت سے کتراتے ہیں۔
۳۔ ماہر نفسیات کو چترال میں تعین کرکے خودکشی کے عوامل پر کام کرنا ۔ جو ٹینشن اور معمولی ، مسائل پر کثرت سے ہورہے ہیں۔
۴۔ نیوروسرجن کے سہولیات سے اراستہ اپریشن تھیٹر قائم کرکے اس پیچیدہ مرض کے علاج کی سہولت فراہم کرنا۔
۵۔ چترال ہیڈکوارٹر ہسپتال کے اپریشن تھیٹر کو جدید ضروریات سے آراستہ اور پر سہولت کر کے ڈاکٹر صاحبان کو آسانی پہنچانا۔ (جان ہے تو جہان ہے)
تجارت:
۱۔ لواری ٹنل کے تکمیل سے ٹرک اور ٹریلرز چترال بازار تک آسانی سے آنا شروع ہوگئے ہیں۔ اور جو ٹرک 200 اور 180 من لے کر لواری کے اوپر سے آتے تھے اب 400 سے 500 من لیکر ٹنل سے آرہے ہیں اور ٹریلرز اس سے بھی زیادہ لوڈ لیکر آنا شروع ہو جائیں گے۔ لہذہ پشاور ، بٹ خیلہ راولپنڈی تیمرگرہ سے ٹرکوں کے فی من کرائے میں معقول حد تک کمی کرنا۔ تاکہ چیزیں ارزان نرخ پر دوکانداروں کو مل سکیں اور ہر خریداروں کو سہولت ہو۔
۲۔ چترال چمبر آف کامرس کی سرپرستی میں چترال مارکیٹ کو ارندو سے مستوج ، گرم چشمہ تک کے بازاروں کو جائز تجارت کیلئے چین ، تاجکستان اور افغانستان کیلئے کھول دینا ۔ اور اس سلسلے میں چترال چمبر آف کامرس اینڈ انڈ سٹر یز کے تعاون سے نمائندہ تجار یونین ، ڈرائیو رز یونین کے منتخب کردہ تاجر برادری کو چین، تاجکستان اور افغانستان کے تجار برادری کو سرکاری طور پر وفد کی شکل میں دورے کرانا اور ان ممالک کے تجار برادری کو چترال مارکیٹ کے وزٹ کے لئے دعوت دینا۔
۳۔ ایک ریجینل بین علاقائی تجارتی تعاؤن کے موضوع پر چترال یونیورسٹی کے تعاؤں سے تاجرز کانفرنس سہ روزہ منعقد کرانا۔ جس میں تجارت کے راہیں تلاش کرکے وزٹ ویزے پر ضلعی حکومت کے پر مٹ پر جائز تجارتی سامان کی تجارت دو طرفہ شروع کرانا۔
ابادکاری عبادت گاہیں:
۱۔ مساجد کے الئمائے کرام / دیگر مسلک کے پیش واؤں کے لئے مقررکردہ سرکاری وضائف کو اس کے روح کے مطابقEasy پیسہ کے ذریعے ان تک پہنچانا تاکہ ان الئمائے کرام کو کسیدقت کا سامنا نہ ہو
۲۔ مساجد کی آبادکاری اور عبادت گاہوں کی سرپرستی میں ہاتھ کھلا رکھنا۔ اور ان میں ہر قسم کی سہولیات فراہم کرنا۔
۳۔ اپنی عبادت گاہوں سے امن واشتی ، اتحاد و اتفاق اور ہم اہنگی درس کو رواج دینا۔
۴۔ نظام زکواۃ کو اپنی مساجد اور عبادت گاہوں اور دینی پیشواوں کے ذریعے صحح مستحقین تک پہنچانا۔
۵۔ مساجد کیلئے مفت بجلی کی فراہمی کو یقینی بنانا۔
صلع و صفائی:۔
تمام مساجد میں اصلا حی کمیٹیاں بناکر ان مساجد کے مقتدیوں کو مقدمہ بازی ۔ جنگ جھگڑا اور بے اتفاقی سے نکالنا اور اس کمیٹی کے ذریعے زکواۃ صدقات کے جمع کرنے کا اہتمام کرکے اسی مسجد سے ملحقہ آبادی کے یتیموں، بیواؤں اور مستحق گھرانوں اور افراد کی مستقل آباد کاری اور کفالت کا بندوبست کرنا۔
معمر اور معززشہری:۔
ان کی کفالت کے وضائف بھی بذریعہ مساجد ان تک پہنچانا اور Easy paisa کی سہولت پہنچانا ۔
کھیل کود وغیرہ:۔
۱۔ پولو چترال پولوگراونڈ، بونی پولوگراونڈ اور شندور میں انتہائی پرسہولت پولو کمپلیکس کی تعمیر کرکے پولو پلیرز اور ان کے گھوڑوں کے لئے ہر قسم کے سہولیات سے اراستہ رہایش گاہیں بناکر ٹورنامنٹس کے دوران ان کھلاڑیوں کو بے منت رہائش پراسائیش فراہم کرنا۔
۲۔ کرکٹ، فٹ بال ، ولی بال، ہاکی وغیرہ کے دستیاب سرکاری اور غیرسرکاری کھیل کے تمام میدانوں میں باتھ رومز، ڈرسینگ رو مز تعمیر کرکے ان گراونڈزتک لنک روڈز تعمیر کرکے کھلاڑیوں کے لئے آسانی پیدا کرنا۔
جہاز:
چنکہ پی ائی اے کی فلائٹ نہایت خسارے میں چترال راولپنڈی پشاور کی فلائیٹیں چلا رہی ہے۔ جس سے چترال ایجنسی کے ملازمین Hand to Mouth ملازمت کرنے پر مجبور رہیں۔ لہذہ اس فلائیٹ کو گلگت اور تاجکستان کے خروک اور بدخشان کے فیض آباد تک ایکسٹنڈ کرکے ہفتے کے تمام دنوں میں شیڈول بنا کر چلاکر فائیدہ مند فلائیٹ میں تبدیل کرکے ایجنسی کے مالک اور ملازمیں کو معقول معاوضہ دینے کاقابل بنایا جائیگا۔ جس سے قومی ائیر لائین کو بھی کثیر زرمبادلہ ملے گا ۔ اور چینی انجینئرزاور ٹیکنیشن کو بھی گلگت سے محفوظ پر سہولت فلائیٹ میسر آئیگی ۔ جو CPEC کے تعمیر میں ملوث ہونگے۔
ڈرائی پورٹ:۔
چترال میں ڈرائی پورٹ اور کولڈ اسٹوریج کا قیام کرکے سنٹرل ایشیا کی ممالک اور افغانستان کے بد خشان اور نورستان اور دیگر تمال مغربی دوردراز علاقوں کے لئے قریب سے سپلائی کی سہولت فراہم کرنے کی جدوجہد کی جائیگی جو پورے پاکستان کے مفاد میں ہوگا۔
تاجکستان لنک روڈ:۔
چترال گرم چشمہ اشکشیم ہائی وے کے چترال سے گرم چشمہ اور ڈورا پاس شاہ صلیم تک روڈ پر کام کا ٹینڈر ہوگیا ہے لہذا دڑورہ پاس سے براستہ بدخشان ، افغانستان سے معاہدہ کرکے تعمیر کرنے تک موجودہ زمین ٹرک ایبل ٹرک کو تجارت اور آنے جانے لئے قانونی دستاویزات کے ساتھ بذریعہ وزٹ ویزہ اورپر مٹ کے چالو کیا جائیگا۔ اور جائزتجارت کی راہیں کھولی جائیگی۔ جس سے کراچی کے طرح چترال بھی پاکستان کے لئے کثیر زرمبادلہ کمانے کا زریعہ ہوگا۔ ۔؂
لواری ٹنل کی تعمیر:۔
گیٹ وے ٹو سنٹرل ایشیا
۱۔ لواری ٹنل پر 30 ارب کے کثیراخراجات کی واپس وصولی بھی چترال وادی سے سنٹرل ایشاء کیلئے زمینی راستے جلداز جلد کھولنے سے ممکن ہوگی۔ لہذہ کراچی، گوادر ، لاہور ، راولپنڈی ، پشاور، بٹ خیلہ ، تمرگرہ چترال سے جائیز تجارتی سامان تمام لازمی دستاویزات کے ساتھ بدخشان ، تاجکستان تک زمینی راستے سے لانے اور لیجانے کی راہیں ہموار کرنے ہی سے لواری ٹنل پرآئے ہوے اخراجات کی جلد واپسی اور پھر فائیدہ شروع ہوجائیگا۔ صرف اس صورت میں پاکستان چترال کے اصل جعرافیائی حیثیت سے بھر پور فائدہ اُٹھاسکتا ہے۔
کلاش اقلیت اور ان کی تاریخی اہمیت:۔
۱۔ کلاش اقلیت کو صوبائی اسمبلی میں ایک میل اور ایک فیمل کی الگ نمائندگی مرکز میں صرف قانونی اور دستوری طور پر بالکل الگ حاصل کرنے کی کوشش کرنا۔
پانی سے پانی:۔
چترال کے تیز بہاؤ والے دریا چترال کے تمام مقامات مثلاً نیردید ، چیوپل، تورکہوسے موڑکہو،کے آخری حدودتک چترال ٹاون سے اور غوچ کے حدود تک ؂ ایون کے آخر سے اوسیک تک اور جنجریت سے ارندو تک لاسپور سے مستوج اور کوراغ تک ہر مقام پر اور ہر پل کے نیچے اسی دریا کے بہاؤ پرٹربائین چلا کر ٹیوب ویلز نصب کرکے تمام دریا چترال کے قرب وجوار کے زرعی زمینات کو دریا چترال سے پانی اور بجلی پہنچانے کے منصوبے پر کام کیا جائیگا۔
چیک ڈیمنگ:۔
ڈیزاساسٹر منیجمینٹ کے ذریعے برساتی تباہی سے دیہات اور سڑکوں کو بچانے کیلئے ہر مناسب اور ضرورت کے جگہوں پر چیک ڈیمنگ دیہات کے تنظیمات کی مدد سے کرایا جائیگا۔
حفاظی بند RCC :
دریا چترال کے تباہی سے بچاؤ کیلئے حفاظتی RCC بندوارڈ بنک کی مدد سے جنجریت ، گنگ، ایون، بلچ ، گرین لشٹ، ریشن، بونی، اوی، بومباغ، مولکہو، تورکہو، اور مستوج تک قسط وار کام کیا جائیگا۔
ہائیڈرل پاور:۔
چترال میں موجودہ کیسو ڈیم ، ایون بروز ڈیم، میرکنی ڈیم ،ارندو ڈیم، کشمہ ڈیم ، اور مستوج کے پرواک ڈیم کے علاوہ بھی گرم چشمہ ، لاسپور اور موزون مقامات پر ہائیدرل پراجیکٹ پر فیزبیلٹی بنوایا جائیگا۔ اور کاری ڈیم پر کام کے رفتار کو تیز کیا جائیگا تاکہ اس پراجیکٹ کو لگا تار فنڈز فراہم کروا کر جلد از جلد پائیہ تکمیل تک پہنچایا جاسکے۔
زرعی پانی:۔
کاغ لشٹ ، دولومچ ، اور اورغوچ ، بروز، گہریت ، گنگ، کیسو، شیدی، وارڈپ ، لڑاوی ، اوسیک ، کو سائیفن ایری گیشن اور دریا چترال سے محفوظ پائیپ لائینز کے زریعے زرعی پانی پہچانے کی منصوبہ بندی کیا جائے گی۔
جنگل بانی:۔
جنگل بانی کے تمام کام چترال کے ہر گاؤں میں اس گاؤں کے مقامی باشندوں کے زریعے ان کے شاملات قبرستانون ، ریوربیڈز اور ان کے اپنے گھروں میں فی گھر دس پودے میوہ دار اس شرط پر فراہم کی جائیگی کہ وہ ان پودوں کو کامیاب کر یں گے۔ اور پودہ کامیاب کرنے پر بستی والوں کو اور افراد کو نقد انعامات دیئے جائیں گے۔
جنگل بانی کے تمام منصوبے ،پودوں کو پانی کی فراہمی کے منصوبے کابندوبست ڈراپ ائیرگیشن اور بجٹ کے ساتھ کیا جائیگا۔ جنگل بانی کیلئے زمین کو ہموار کرنے کے بجائے جس حال مین ہورنڑ کے پائمپس کے زریعے ڈراپ ائیریگیشن کے ذریعے ہر پودے پر پانی کا قطرہ مسلسل پہنچایا جائیگا۔ جبکہ بجلی وافر مقدار میں دستیاب ہے لہذا چھوٹے بڑے ٹیوب ویلز لگاکر پودوں کو پانی فراہم کرکے ان کو ضائع ہونے سے بچایا جائیگا۔
ڈونرز کانفرنس:
چترال میں کام کرنے والے NGO’S کے زریعے بین القوامی ڈونرز کانفرنس چترال میں بلاکر چترال کے ان خوبصورتیوں کو بچانے اور امن کے اس گہوارے جنت نظیر چترال کو سہولیات سے اراستہ کرنے اور اس کے قدرتی حسن ، خوبصورتی اور ماحول کو بچانے کیلئے بھر پور تعاون کی اپیل کی جائیگی۔
دریائے چترال گو گذارنے کا منصوبہ:
چنکہ سالانہ نالہ ایون کے تیز بہاؤ سے دریا چترال ایون کے سامنے جھیل بنکرہزاروں ایکڑ زرعی اراضی اور رہایشی گھروں کو تباہ کرتا ہے لہذا بروز سائیڈ پر دریاہ چترال کو ٹنل سے گزار کر پھردریا کے راستے میں ڈھالنے سے دریا کا ڈیم بنناختم ہوجائیگااور ایون کی خوبصورتی دوبارہ بحال ہوکر مستقل آباد ہوجائیگا۔ اس پر حکومتی سطع اور ڈونرز کے زریعے کام کیا جائیگا۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
دوسروں کے ساتھ اشتراک کریں

متعلقہ خبریں/ مضامین

error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔
إغلاق