تازہ ترینڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

صدا بصحرا….نام ہی کافی ہے 

لائبریری اور عجائب گھرہمارے ہاں دو یتیم اور مظلوم جگہیں ہیں دونوں کے ناموں کو محکمہ تعلیم کے ساتھ لگا کر ایک ہی محکمہ بنا یا گیا ہے اور نام رکھا گیا ہے ’’ محکمہ اعلی تعلیم ،آثار قدیمہ اور لائبریریز ‘‘ مگر عجائب گھر اور لائبریری میں جاکر اندازہ ہوتاہے کہ ’’ نام ہی کافی ہے‘‘ آگے صفر ہی صفر ہے خیبر پختونخوا کا کوئی عجائب گھر ایسا نہیں جس کے اردگرد 5کلومیٹر کے فاصلے پر 4سکول اور دو کالج نہ ہوں یہاں کوئی ایسی لائبریری نہیں جس کے اطراف میں 10کلومیٹر کے فاصلے پر 15سکول اور چار کالج نہ ہوں مگر عجائب گھر یا لائبریری کے اندر جا کے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ کسی ویرانے میں واقع ہے اردگرد ان پڑھ یا نیم خواندہ لوگوں کی آبادی بھی نہیں سکول ، کالج اور تعلیمی ادارہ 400کلومیٹر کے فاصلے پر بھی نہیں استقبالیہ پر موجود اہلکار مکھیاں مارنے سے تنگ آکر اونگھ رہے ہیں دوسرا عملہ تاش، سکریبیحل یا شطرنج کھیل رہا ہے آ پ ان کو الزام بھی نہیں دے سکتے دو فرلانگ کے فاصلے پر جو کالج اورسکول ہیں ان کے اساتذہ اور طلبہ نے عجائب گھر یا لائبریری نہیں دیکھی تفریح کی گھنٹی کے دوران کوئی طالب علم بھٹک کر لائبریری کا رُخ کرے یاعجائب گھر میں قدم رکھنے کی کوشش کرے تو اس کو جرمانہ کیاجاتا ہے سکول یا کالج کا سٹاف ممبر یا طالب علم لائبریری کارڈ دستخط کے لئے اپنے افیسر کے پاس لے جاتاہے تو افیسر اس پر دستخط کرنے سے انکار کرتا ہے اور پالیسی بیان دیتا ہے کہ ’’ ہماری اپنی لائبریری ہے تم پرائی لائبریری کی ممبر شپ لے کر کیا کروگے؟ چھوڑو یہ فضول کام ہے اور افیسر معمولی آدمی نہیں گریڈ 20کا پرنسپل ہے اور پبلک لائبریری اُ س کی زمین پر اس لئے بنائی گئی ہے کہ محکمہ ایک ہے زمین اور عمارت ایک ہی محکمے کی ملکیت ہے مگر اس میں پرنسپل کا قصور نہیں محکمے کا اعلیٰ افیسرکہتا ہے تم اپنے دستخط پر پکڑے جاؤ گے پبلک لائبریری کی کتاب گم ہوئی تو تمہارا پنشن روک دیا جائے گا اس لئے وہ محتاط رہتا ہے محتاط رہنے کا پہلا تقا ضا یہ ہے کہ اس کا عملہ بھی لائبریری جانے سے پرہیز کرے اس کے طالب علم بھی لائبریری کا رُخ نہ کریں ایم فل کے ایک سکالر نے اپنی تحقیق کے دوران دلچسپ اعداد وشمار جمع کئے جہاں پبلک لائبریری واقع ہے اس کے ساتھ متصل کالج میں 2200طلباء زیر تعلیم ہیں 200گز کے فاصلے پر جو بڑا سکول اور کالج ہے اس میں طلباء و طالبات کی تعداد 1800 ہے دو فرلانگ کے فاصلے پر جو زنانہ اور مردانہ ہائی سکول ہیں ان میں طلباء و طالبات کی تعداد 4000سے اوپر ہے اگر 2کلومیٹر دور یا 5کلومیٹر دور کے تعلیمی اداروں کے اعداد و شمار کو حساب میں لایا جائے تو طلباء و طالبات کی کل تعداد 20ہزار بنتی ہے تعلیمی کیلنڈر میں عجائب گھر اور لائبریری کا دورہ طلباء وطالبات کے لئے لازمی قرار دیا جائے تو روزانہ ایک ہزار سے زیادہ طلباء و طالبات عجائب گھر اور لائبریری کا دورہ کریں گے عوامی جمہوریہ چین میں لائبریری کا دورہ ہر سکول اورکالج کے طلباؤ طالبات کے لئے لازمی ہے پاکستان میں آغا خان یونیورسٹی ایجوکیشن بورڈ سے منسلک سکولوں اور کالجوں کے طلباء اور طالبات کو روزمرہ کے ٹائم ٹیبل میں لائبریری کا گھنٹہ یعنی ’ ’ لائبریری آور‘‘ دیا جاتا ہے اس پیریڈ میں طلبہ کی رہنمائی کی جاتی ہے کہ لائبریری کیبنٹ کیا ہے کارڈ کو کس طرح ڈھونڈا جائے ، کتاب کس طرح ایشو کرائی جائے اور کون کون سی کتابیں لائبریری میں پڑھی جاتی ہیں کون کون سی کتابیں ایشو کی جاتی ہیں لائبریری کے دیگر وسائل کمپیوٹر ، اخبارات ، جرائد و رسائل سے کس طرح استفادہ کیا جاتا ہے لائبریری میں قبرستان جیسی خاموشی کیوں کر رکھی جاسکتی ہے یہ سب باتیں طلبہ کی عملی تربیت کا حصہ ہوتی ہیں مگر صوبائی سطح پر محکمہ اعلیٰ تعلیم ، آثارِ قدیمہ اور لائبریریز کے حکام نے ایک لمحے کے لئے عجائب گھر اور لائبریری کو اپنے محکمے کا حصہ نہیں سمجھا اس لئے طلبہ اوارہ پھرتے ہیں عجائب گھر کسی وزیٹر کے لئے ترستا ہے لائبریری کتاب پڑھنے والے کی راہ تکتی رہ جاتی ہے طلبہ اور اساتذہ کا ہجوم ہر روز لائبریری اور عجائب گھر کے دروازے کو دیکھتا ہے کبھی اندر داخل نہیں ہوتا کیونکہ’’ اوپر سے حکم نہیں ملتا‘‘ شاید ہمارے حکام بالا سمجھتے ہیں کہ کام کی ضرورت نہیں صرف نام ہی کافی ہے
اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
دوسروں کے ساتھ اشتراک کریں

متعلقہ خبریں/ مضامین

error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔
إغلاق