تازہ ترینمحمد شریف شکیب

شعبہ تعلیم کی تطہیر ناگزیر

………..محمد شریف شکیب………..

پشاور تعلیمی بورڈ سمیت صوبے کے بیشتر بورڈز نے میٹرک کے سالانہ امتحانات کے نتائج کا اعلان کردیا ہے۔ حسب سابق تمام تعلیمی بورڈ میں ٹاپ تھری اور ٹاپ ٹونٹی پوزیشنیں پرائیویٹ سکولوں کے حصے میں آئیں۔ اس بار بھی نمبر لینے کی دوڑ میں لڑکیاں بازی لے گئیں۔ پشاور بورڈ کے سالانہ امتحان میں مجموعی طور پر ایک لاکھ 54ہزار 511طلبا و طالبات نے شرکت کی تھی۔بورڈ کا نتیجہ 65فیصد رہا۔ نویں کے امتحان میں 80ہزار126طلبا نے شرکت کی تھی۔ جن میں سے 43ہزار 176طلبا پاس قرار دیئے گئے دسویں جماعت کے امتحان میں 74ہزار385طلبا نے شرکت کی جن میں سے 58ہزار 532کو کامیاب قرار دیاگیا۔ نویں جماعت کے 36ہزار 950جبکہ مجموعی طور پر 52ہزار803بچے فیل قرار دیئے گئے جن میں 98فیصد سرکاری سکولوں کے طلبا تھے۔ اس بار بھی کسی سرکاری سکول کا کوئی بچہ کسی بھی بورڈ میں ٹاپ ٹونٹی میں جگہ نہ پا سکا۔بعض حلقوں نے میٹرک کے امتحان میں سرکاری سکولوں کی مایوس کن کارکردگی کو تحریک انصاف حکومت کی تعلیمی پالیسی کی ناکامی سے تعبیر کیا ہے۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ پرچے ناتجربہ کار لوگوں سے چیک کرائے گئے جس کی وجہ سے باون ہزار طلبا کا تعلیمی نقصان ہوا۔ کچھ لوگوں نے سرکاری سکولوں کے اساتذہ اور کچھ نے تعلیمی بورڈز کی پالیسیوں پر لعن طعن کی ہے۔ گذشتہ سال پشاور بورڈ کے امتحان میں ایک طالبہ نے 1048نمبر لے کر ٹاپ کیا تھا۔ اس بار1062نمبر لے کر ایک طالبہ نے بورڈ ٹاپ کیا۔ دو طالبات نے 1060نمبر لے کر دوسری جبکہ دو طالبات نے 1058نمبر لے کر تیسری پوزیشن حاصل کی۔نگراں وزیراعلیٰ دوست محمد خان نے تقسیم انعامات کی تقریب میں سرکاری سکولوں کی کارکردگی پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے تجویز دی ہے کہ ملک میں تعلیم کے فروغ کے لئے اعلیٰ اختیاراتی تعلیمی کمیشن قائم کیا جائے۔ اور بجٹ کا 40فیصد تعلیم کے لئے مختص کرنا چاہئے انہوں نے اساتذہ اور طلبا کے درمیان احترام کا رشتہ ٹوٹنے کو تعلیمی انخطاط کی بنیادی وجہ قرار دیا۔پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے اپنی پانچ سالہ دور حکومت میں تعلیم کو اپنی اولین ترجیح قرار دیا تھا۔ حکام کی طرف سے یہ دعوے بھی کئے گئے تھے کہ سرکاری سکولوں کا معیار بہتر ہونے کی وجہ سے ڈیڑھ لاکھ بچے پرائیویٹ سکولوں سے سرکاری سکولوں میں شفٹ ہوگئے ہیں۔سرکاری سکولوں کے نتائج دیکھ کر شفٹ ہونے والے بچے اور ان کے والدین اپنے فیصلے پر سرپیٹتے ہوں گے۔اس میں شک نہیں کہ گذشتہ دور حکومت کے دوران تعلیم کے شعبے میں کافی اصلاحات ہوئی ہیں۔ بھوت سکولوں کا تقریبا خاتمہ ہوگیا۔ گھر بیٹھ کر تنخواہیں لینے والے اساتذہ اب بائیو میٹرک حاضری سسٹم اور نگرانی کے موثر نظام کی وجہ سے روزانہ سکول جانے پر مجبور ہوئے ہیں۔سرکاری سکولوں میں اضافی کمروں کی تعمیر، چاردیواری بنانے، فرنیچرز اور سٹیشنری کی خریداری اور اساتذہ کی تنخواہوں اور مراعات میں اضافے پر قومی خزانے سے اربوں روپے خرچ کئے گئے۔اس کے باوجود اگر معیار بہتر نہیں ہو پارہا۔ تو ثابت ہوتا ہے کہ نقص سرکاری سکولوں کے نصاب اور اساتذہ میں ہے۔ سرکار کے زیرانتظام چلنے والے سکولوں میںآج بھی دقیانوسی طریقہ تدریس پر عمل کیا جاتا ہے۔ جس کی وجہ سے سرکاری سکول کے بچے ذہین اور محنتی ہونے کے باوجود ایک ادنیٰ درجے کے پرائیویٹ سکول کے بچوں کا بھی مقابلہ نہیں کرپاتے۔سرکاری سکولوں میں آج بھی جسمانی تشدد کو بچوں کو قابو میں رکھنے کا مجرب نسخہ سمجھا جاتا ہے۔حالانکہ سرکاری سکولوں کو بعض بہترین ماہرین تعلیم کی خدمات حاصل ہیں۔ان میں سے بہت سے اساتذہ کو اکیڈمی کا درجہ دیا جاتا ہے۔ اور ان کے سامنے زانوئے تلمیذ تہہ کرنے والے سینکڑوں افراد آج اعلیٰ ترین عہدوں پر فائز ہیں۔ لیکن سیاسی رشوت اور سفارش کے بل بوتے پر محکمہ تعلیم میں بھرتی ہونے والے نالائق اور نااہل اساتذہ نے نہ صرف استاد کا مقام گرادیا ہے بلکہ یہ گروہ قوم پر بوجھ بنا ہوا ہے۔ پی ٹی سی ، سی ٹی کے فرسودہ نظام نے بھی ہزاروں کی تعداد میں نااہل لوگوں کو درس و تدریس کے شعبے سے وابستہ کردیا۔ گذشتہ حکومت نے پروفیشنل ٹریننگ کا طریقہ کار ختم کرکے این ٹی ایس کے ذریعے اساتذہ کی بھرتی کا اچھا فیصلہ کیا تھا۔اس نظام سے اگر سرکاری سکولوں کے تمام اساتذہ کو گذارا جائے تو 80فیصد فیل ہوجائیں گے۔ وقت آگیا ہے کہ قومی وسائل پر نااہل لوگوں کو پالنے کا سلسلہ اب بند ہونا چاہئے۔ قومی کمیشن برائے تعلیم کا قیام ناگزیر ہے تاکہ درس و تدریس جیسے مقدس پیشے سے گندے انڈوں کو نکال باہر کرکے اس شعبے کی مکمل تطہیر کی جاسکے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
دوسروں کے ساتھ اشتراک کریں

متعلقہ خبریں/ مضامین

error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔
إغلاق