تبدیلی آگئی – Chitral Express

Premier Chitrali Woolen Products

تبدیلی آگئی

                                                                                                                        ادارے کا مراسلہ نگار سے متفق ہونا ضروری نہٰیں

……..عنایت اللہ اسیر 0346910399……..

پیارے ملک پاکستان میں اس سے پہلے کی بار بلکہ بار بار الیکشن ھوتے رھےخلائی مخلوق کے پسند نا پاسند کے ہم پابند رہے عدالتیں بھی انہی غیر اۤیینی غیر قانونی اقدامات کو تحفظ اور ساہ ہوسفید کے مالک حکمرانی کے شخصی حکومت کے اختیارات دیکر 12 ,12 سال بلکہ تاحیات اور پھر 7 سال تک نہایت تابعیدار بیٹے کی طرح ان کے احکامات پر نچھاور ھوتے رہےحتہ کہ پاکستان کے دو ٹکڑے بھی محظ ایک اقلیتی لیڈر کو تخت حکمرانی پر بیھٹانے کےلیے نہایت بے دردی سے اپریشن کے ذریعیے کیا گیا پھر حسب دستور کمیشن برائے تحفظ مجرمیں بنا کراسغم کو بھلایا گیا بہت ہی حیران کن کردار ہمارے میڈیا کا رہا اس مغربی اور غیرقانونی غیراۤئینی غیر اخلاقی جرم عظیم کو تقویت پہنچانے کے لیے مشرقی پاکستان میں سیلاب ایے نہ ایے ہمارے میڈیا پر شب وروز مشرقی پاکستان میں سیلاب ہی آتا رہا حتہ عوام الناس کے دلوں میں ایک بے زاری پیدا کی گئی اور جب بد قسمتی سے مشرقی پاکستان الگ ہوا تو نہ سیلاب نہ اور کوئی تباہی بلکہ اب تک مشرقی پاکستان مین کوئی سیلاب اۤیا ہی نہیں.
اور نہ اس جرم کے مجرمین پر کوئی ٹیبل ٹاک JIT اور نیپ یا احتساب کا کوئی عمل یا مطالبہ ہمارے میڈیا والوں کی طرف سے کوئی مہم یا ہلکی سی سھٹ بھی سنائی نہیں دیتی.جن قوتوں نے میڈیا ٹرائل کرکے یا کرواکے غیر قانونی طور پر جس شخصیت کو تخت شاہی پر.مشرقی پاکستان کی قربانی دیکر بٹھایا تھا اور ہماری انصاف کے علمبردار عدالتوں نے جس کے سول مارشل لا کو جائزاور قانونی قرار دیکر جس طرح اسکو سیاہ و سفید کا مالک بناکر اس کا ذہن جمہوری سے شخصی بنایا تھا خود انہی قوتون نے اس کے خلاف عالم بغاوت بلند کیا اور پھر پوری دنیا نے دیکھا کہ دنیا کی تاریخ کا ظلم عظیم بھی کجھ اس طرح برپا ہوا کہ اسلام اباد میں بیھٹے ہوے ادمی کو لاھور کے چوراہے پر دن دھاڑے قتل ہونے والے خون ناحق کے بدلے مجرموں کوخون بخشی کے وعدے کے بدلے وعدہ معاف گواہ بنا کر اپنے ہی بنایے ہوے قلعے کو سپریم کورٹ کے سرعت سے فیصلے کے نتیجے میں برباد کی گیا جس کا خمییازہ ابھی تک ہم بگت رہے ہیں ا گیا اور 12 سال تک اس غیر آیینی مارشل لا کو قانونی تحفظ دیکر جمہوریت کا گلا گھونٹا گیا جمہوری قوتوں کو توژنے اور کمزور کرنے کے لیے MQM کو معرض وجود میں لایا گیا جس نے کراچی جیسے شھر کو خون میں نہلا رکھدی شھید ذولفقارعلی بھٹو کو پھانسی پر چھڑانے کے لیے اس وقت کی عدلیہ نے جس طرح فعالیت کا مظاہرہ کیا تھا اۤج پھر ہماری عدلیہ اس سے بھی دوگنی سرعت سے ایک اورعوامی لیڈر کو سیاسی طور پر میدان سے اوٹ کرنے پر تلا ہوا ھے جس کے پیچے پھر 1970 والی تاریخ نظر اۤرہی ہے اور ایک ہر دلعزیز مگر اقلیتی رہنماء کو پاکستان پر مسلط کرنے کی جدوجہد بذریعہ میڈیا زور شور سے جاری ہےغیرفطری مصنوعی اکثریت سے اقتدار میں اۤنے کو عوام الناس کبھی تسلیم نہیں کرینگے جو خود اس لیڈر کے لیے بھی مناسب نیہں ہوتا
جس طرح سے میڈیا کوریج. PTI کے جلسون کو دیا جارہا ہے اس کا عشرے عشیر بھی MMA اور دیگر جماعتوں کے جلسوں کو نہین دیا جارہا ھے
جس سے یہ پات ثابت ہو جاتی ہے کہ اس تبدیلی کے پیچے کوئی خفیہ قوت ضرور ہے
بات تبدیلی سے شروغ ھوکر کہاں نکل گی
ہم نے پاکستان میں ایلیکشن دیکھے ہیں اپنی پارٹی کے امیدواروں کا استقبال شانداراورجاندار طریقے سے کرتے دیکھا ہے جو ہر ایک کا بنیادی حق اور قانونی اخلاقی طور پر جائز ہے مگر جو سلسلہ دوسرےپارٹی کے امیدوارون کے ساتھ بے عزتی ذیادتی اور بد تہزیبی کا مظاہرہ اس الیکشن کے اغاز سے شروع کیا گیا ہے یہ تبدیلی کے دعواداروں کا کمال لگتا ھے
اور اسی متشددانہ طرزعمل کا نتیجہ ہم نےعراق,شام,لیبیا,افغانستان اور دیگرکئی ایک ممالک میں دیکھا ھے
اس رویے کا روک تھام نہایت ضروری ہے یہ لوگ کون ہیں ان کو اس حرکت پر اکساتا ہے اگر ایسے غیر اخلاقی اقدام چلتا رہا تو اس کا انجام کسی کے لیے بھی مناسب نہ ہوگا کیونکہ بربادی کے لیے کسی بڑے جلسہ جلوس کی ضرورت نہیں ہوتی صرف چند ایکMotivated اشخاص بہت بڑے تباہی بھرپھا کرسکتے ہیں ہر عمل کا رد عمل تو ہوگا اگر اس طرح کے رویوں سے اس ملک کو تباہی تک پہنچایا گیا تو پھر نہ رہیگا بانس نہ رھیگا بانسری 

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
دوسروں کے ساتھ اشتراک کریں

یہ خبر بھی پڑھیں

’’پرتشدد انتہا پسندی کی روک تھام‘‘کے موضوع کے حوالے سے یونیورسٹی آف چترال میں ورکشاپ کا انعقاد

چترال (نمائندہ چترال ایکسپریس) یونیورسٹی آف چترال میں سنٹر فار ریسرچ اینڈ سیکورٹی اسٹڈیز کے ...


دنیا بھر سے

error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔