تازہ ترین

پولٹر ی سپلائرز ایسوسی ایشن چترال ڈیجیٹل ترازو کے ذریعے تول کر پرچون فروشوں کو چکن سپلائی کریں ایک کلو گرام سے کم مرغی فروشی پر پاپندی ۔ڈی سی چترال

چترال (نمائندہ چترال ایکسپریس) پولٹر ی سپلائرز ایسوسی ایشن چترال نے گزشتہ 15دنوں سے جاری ہڑتال کو ختم کرتے ہوئے پیر کے دن سے چترال کے لئے چکن کی فراہمی شروع کرنے کا اعلان کردیا جسے انہوں نے تحصیل میونسپل ایڈمنسٹریشن چترال کی طرف سے 2روپے فی چکن صفائی چارجز عائد کرنے کے خلاف شروع کیا تھا ۔ ہفتے کے روز ڈپٹی کمشنر چترال خورشید عالم کے ساتھ ایک اجلاس میں ایسوسی ایشن کے عہدیداروں اور تجاریونین کے صدر شبیر احمد کے ساتھ ڈی ایف سی چترال فضل باری ، ایڈیشنل ڈی ایف سی ارشد حسین اور صدر چترال پریس کلب ظہیر الدین کی موجود گی میں منعقدہ اجلاس میں اس بات کا فیصلہ کیا گیا ۔ ڈپٹی کمشنر چترال نے ایسوسی ایشن کو یقین دہانی کرائی ایک ماہ کے اندر صفائی چارجز کے بارے میں ان کے تحفظات پر غور کیا جائے گا جبکہ اس سے قبل انہوں نے ایسوسی ایشن عہدیداروں کوصاف صاف بتادیاکہ ان کی طرف سے ہڑتال سراسر غیر قانونی اور نامناسب ہے کیونکہ صفائی چارجز کی مد میں فی چکن دو روپے کو چترال کے لئے مقرر کردہ فی کلوگرام نرخ میں شامل کیا گیا ہے جبکہ شہر کو چکن کی غلاظتوں اور الائش سے پاک کرنے کے لئے ناگزیر ہے۔ڈی سی نے ایسوسی ایشن کے نمائندوں کو سختی سے ہدایت کی کہ وہ ڈیجیٹل ترازو کے ذریعے تول کر پرچون فروشوں کو چکن سپلائی کریں جس میں ایک ہزار گرام (ایک کلوگرام ) سے کم وزن کی چکن ہرگز شامل نہ ہو۔ انہوں نے ڈی ایف سی کو ہدایت کردی کہ ہر پرچون فروش کے پاس بھی ڈیجیٹل ترازو کی موجودگی کو لازمی بنایا جائے تاکہ صا رفین کو صحیح وزن کے ساتھ چکن کی دستیابی ممکن ہو۔ اس موقع پر یہ بھی فیصلہ ہوا کہ محکمہ فوڈ ہر ہفتے چکن مارکیٹ تلہ گنگ میں چکن کی فی کلوگرام ریٹ کو سامنے رکھتے ہوئے چترال کے لئے ریٹ مقرر کریں گے اور اس ریٹ سے ذیادہ وصولی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔ اس سے قبل ڈی ایف سی کے دفترمیں بھی پولٹری سپلائرز ایسوسی ایشن، پرچون فروشوں اور تجاریونین کے عہدیداروں کے ساتھ اجلاس منعقد ہوا جس میں ڈی ایف سی فضل باری نے ہڑتال کے خاتمے کے سلسلے میں ابتدائی گفت وشنید کی۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
دوسروں کے ساتھ اشتراک کریں

متعلقہ خبریں/ مضامین

error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔
إغلاق