تازہ ترین

وزیر اعظم کا انتخاب، تحریک انصاف کی صرف 106نشستیں شمار ہونگی

اسلام آباد (طارق بٹ )وزیر اعظم کے الیکشن کیلئے تحریک انصاف کی صرف 106نشستیں شمار ہونگی، تحریک انصاف نے عام انتخابات میں 115 نشستوں پر کامیابی حاصل کی ہے لیکن وزیرا عظم کے الیکشن کیلئے صرف 106 کو شمار کیا جائے گا کیونکہ اس کیلئے طریقہ کار عام عمل کے برعکس ہے اور اراکین اسمبلی کی کئی سیٹیں اس کیلئے معنی نہیں رکھتیں۔تفصیلات کے مطابق وفاقی اور صوبائی نشستوں پر بدھ کو ہونے والےپارلیمانی انتخابات جو دو گنا، تین گنا ،چار گنا اور پانچ گنا تک واپس ہورہے ہیں خواتین اور اقلیتوں کی مخصوص نشستوں کے انتخابات کیلئے شمار ہونگے ۔یہ عام عمل کے بالکل برعکس ہے کہ جب ایک سے زائد نشست پر جیتنے والوں کا حساب وزیر اعظم اور وزیر اعلی کے انتخاب کیلئے کیا جاتا ہے۔الیکشن کمیشن آف پاکستان کا حساب پاکستان تحریک انصاف کی براہ راست 115 نشستوں پر مقابلے کیلئے ہے لیکن حقیقت میں ایک سے زائد حلقوں سے واپس لوٹنے والوں کیلئے یہ سیٹیں 9 کم ہوکر صرف 106 رہ جاتی ہیں۔وزیرا عظم کے انتخاب کیلئے تحریک انصاف کے صرف 106 ووٹ ہی گنتی میں شمار کیے جائینگےکیونکہ اس عمل میں اراکین اسمبلی جانب سے لی گئی نشستوں کو نہیں دیکھا جاتااور صرف ہر ایک کی ایک نشست کو ہی دیکھا جاتا ہے ۔دوسری جانب جب تحریک انصاف کیلئے خواتین کے خصوصی ووٹ کو نشان زدہ کیا جائے تو پارٹی چیئرمین عمران خان کے پانچ ووٹ اور میجر (ر)طاہر صادق ،چودھری پرویز الہی اور غلام سرور ہر ایک کے دو ووٹ شمار کیے جائینگے۔خصوصی نشستوں کے پر ہوجانے کے بعد وزیر اعظم اور صوبائی چیف ایگزیکٹو کا انتخاب ہوگا ۔آئین کے تحت چھ مخصوص نشستیں خواتین اور دس اقلیتوں کیلئے ہیں ۔خواتین کی تین نشستیں بلوچستان کے 16 ایم این ایز سے پر ہونگی ،خیبر پختونخوا کے 39 اراکین پارلیمنٹ آٹھ خواتین نشستیں،پنجاب کے 141 ایم این ایز سے 35 خواتین نشستیں اور سندھ کے 61اراکین پارلیمنٹ 14 خواتین نشستوں کو پر کرینگے۔آئین کے آرٹیکل 51 کی شق 6(d)کے مطابق خواتین کی مخصوص نشستوں کیلئے قومی اسمبلی کے الیکشن کے مقصد کیلئے سیاسی جماعتوں کی براہ راست نمائندگی کے سسٹم کے تحت کی جائے گی ۔امیدواروں کی فہرست جنرل نشستوں کی مجموعی تعداد میں قومی اسمبلی میں صوبے کے تحت لی جائے گی ۔آرٹیکل 51 میں مزید آتا ہے کہ قومی اسمبلی میں نشستیں ہر صوبے کیلئے ہونگی ،فاٹا اور وفاقی دارالحکومت کیلئے سرکاری طور پر شائع مردم شماری کے مطابق ہوگی ۔قومی اسمبلی کے الیکشن کے مقصد کیلئے جنرل نشستوں کیلئے سنگل رکن کے طور پر ہوگی اور قانون کے مطابق ان پر اراکین براہ راست اور فری ووٹ کے ذریعے سے ہوگی ۔ہر صوبہ خواتین کی مخصوص نشستوں کیلئے الگ حلقہ ہوگا ۔سیاسی جماعتوں کی طرف سے جیتی گئی جنرل نشستوں کی مجموعی تعدادجس میں تین روز میں کوئی بھی پارٹی میں شمولیت کرنے والے آزاد ارکان بھی شامل ہونگے اور غیرمسلموں کی مخصوص نشستوں کیلئے ارکان سیاسی جماعتوں کی براہ راست نمائندگی کے سسٹم کے ذریعے قانون کے مطابق منتخب ہونگے ۔قومی اسمبلی میں ہر سیاسی جماعت کی جانب سے جیتی گئی جنرل نشستوں کی مجموعی تعداد کی بنیاد پر امیدو اروں کی فہرست ہوگی ۔الیکشن ایکٹ 2017 کے مطابق قومی اسمبلی میں نشستیں ہر صوبے ،اس؛ا، آباد اور فاٹا کیلئے مختص کی جائینگی او ر آئین کے مطابق یہ خواتین او ر غیر مسلموں کیلئے ہیں ۔الیکشن کمیشن آف پاکستان قومی اسمبلی کے انتخابات کیلئے حد بندی کرینگے۔الیکشن کمیشن آف پا کستا ن ہر مردم شماری کے بعد حلقہ بندیا ں کرے گا ۔

بشکریہ جنگ اخبار

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
دوسروں کے ساتھ اشتراک کریں

متعلقہ خبریں/ مضامین

error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔
إغلاق