چترال یونیورسٹی کا قیام لاکھوں چترالیوں کے لئے ایک خواب تھا جسے شرمندہ تعبیر کرنا ان کی پانچ سالہ دور کا ایک کارنامہ ہے جس پر وہ ہمیشہ فخر کرتی رہے گی۔بی بی فوزیہ – Chitral Express

Premier Chitrali Woolen Products

چترال یونیورسٹی کا قیام لاکھوں چترالیوں کے لئے ایک خواب تھا جسے شرمندہ تعبیر کرنا ان کی پانچ سالہ دور کا ایک کارنامہ ہے جس پر وہ ہمیشہ فخر کرتی رہے گی۔بی بی فوزیہ

چترال (نمائندہ چترال ایکسپریس) 2013ء کے عام انتخابات میں پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر خواتین کی خصوصی نشست پر ایم پی اے بننے والی بی بی فوزیہ نے کہا ہے کہ بحیثیت ممبر رکن اسمبلی اور حزب اقتدار پارٹی سے تعلق رکھنے کی وجہ سے انہوں نے تعلیم، صحت اور ابنوشی کے منصوبوں پر سب سے ذیادہ توجہ دی اور ان شعبوں میں کروڑوں روپے کے کام کروانے میں کامیاب ہوگئی جن میں چترال یونیورسٹی کا قیام لاکھوں چترالیوں کے لئے ایک خواب تھا جسے شرمندہ تعبیر کرنا ان کی پانچ سالہ دور کا ایک کارنامہ ہے جس پر وہ ہمیشہ فخر کرتی رہے گی۔ چترال پریس کلب کے پروگرام “مہراکہ”میں اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ 2013ء کے عام انتخابات کے فوراً بعد دھرنوں کا سلسلہ شروع ہوا جوکہ دو سالوں پر محیط رہا اور 2015ء میں تباہ کن سیلاب اور پھر زلزلہ نے چترال میں انفراسٹرکچر کی اینٹ سے ا ینٹ بجادی اور ترقی پر خرچ کی جانے والی فنڈز کو ان تباہ شدہ انفراسٹرکچر کی بحالی پر خرچ کرنا پڑا لیکن ان سب کے باوجود نئی ترقیاتی منصوبہ جات پر نگاہ ڈالی جائے تو انہیں ایک تاریخی ریکارڈ قرار دی جاسکتی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ میں اس پروگرام میں ان کاموں کا ذکر بالکل نہیں کروں گی جوکہ پارٹی کی پالیسی کے تحت انجام پذیر ہوئی تھیں اوران کاموں کا ذکر ہوگا جن کے لئے ذاتی طور پر دلچسپی لی اور ان کے لئے جدوجہد کی اور انہیں کامیابی حاصل ہوئی۔ بی بی فوزیہ کا کہنا تھاکہ انہوں نے تعلیم ، صحت اور پینے کے صاف پانی کے سیکٹروں کو اپنے لئے ٹارگٹ بناتی ہوئی کام شروع کردی جن پر ماضی میں کماحقہُ توجہ نہیں دی گئی تھی۔ انہوں نے کہاکہ چترال یونیورسٹی وہ تعلیم کے سیکٹر وہ قابل فخر کام ہے جوکہ یہاں اعلیٰ تعلیم کی ترقی کے لئے بنیاد فراہم کرتی ہے جس کے ثمر سے چترال بھر کے عوام بالواسطہ اور بلاواسطہ دونوں طرح سے فیضیاب ہوتے رہیں گے ۔ا نہوں نے کہاکہ اس یونیورسٹی میں کالاش اقلیتوں کو تعلیم حاصل کرنے کے قابل بنانے کے لئے وزیر اعلیٰ سے 50لاکھ روپے سالانہ وظائف کی منظوری دلوائی اور گزشتہ دنوں یہ سکالرشپ یونیورسٹی کے کالاش طلباء وطالبات کو دے دئیے گئے۔ انہوں نے کہاکہ ایون میں گرلز کالج کا سنگ بنیاد بھی انہوں نے رکھ لیا جبکہ چترال ٹاؤن میں ایک اور گرلز ڈگری کالج کی منظوری دلوادی جبکہ اپر چترال میں نشکو کے مقام پر ایک ہائیر سیکنڈری سکول بھی قائم کردیا جس سے تورکھو اور تریچ کے دیہات سے طالب علم استفادہ کرسکیں گے کیونکہ نشکو ان وادیو ں کے سنگھم میں واقع ایک گاؤں ہے۔ انہوں نے برنس میں یاسر اللہ شہید کے نام پر ہائی سکول، گھوس دروش، ارندو، شیخاندہ رمبور میں پرائمری سکول، وریجون موڑکھو میں گرلز ہائر سیکنڈری سکول ، رمبور، جغورمیں ہائی سکول اور جنجریت کوہ ، دروش میں مڈل سکولوں کے قیام کا ذکر کرتے ہوئے کہاکہ مجموعی طور پر تعلیم کے سیکٹر میں ایک یونیورسٹی ، 16سکول اور 2ڈگری کالج قائم کرنے میں کامیاب ہوگئی۔ ہیلتھ کے سیکٹر میں انہوں نے کہاکہ اس علاقے میں علاج معالجے کی سہولیات کی شدید فقدان کا احساس کرتے ہوئے انہوں نے تحصیل ہیڈکوارٹرز ہسپتال بونی اور دروش کی اپ گریڈیشن اور ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتال میں مختلف ضروریات کی کمی پوری کرنا ان کی کامیابیوں میں شامل ہیں جن میں بعض شارٹ ٹرم منصوبے تھے جبکہ کئی ایک لانگ ٹرم منصوبے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ چترال میں ڈیزاسٹر وں اور قدرتی آفات کی تعدد کی وجہ سے ریسکیو 1122کی یہاں شدید ضرورت کو محسوس کرتی ہوئی انہوں نے گزشتہ سال یہاں اس ایمرجنسی سروس سنٹر کا قیام عمل میں لانے میں کامیاب ہوگئی جوکہ اب اپریشنلائز بھی ہوگئی ہے۔ انہوں نے کہاکہ لوکل گورنمنٹ سیکٹر میں دروش اور موڑکھو میں تحصیل میونسپل ایڈمنسٹریشن کا قیام ان کی کوششوں سے ممکن ہوئی جبکہ چترال کو دو اضلاع میں تقسیم کرنے کی کاغذی کاروائی مکمل ہوچکی ہے۔ انہوں نے سی اینڈ ڈبلیو ڈیپارٹمنٹ کے زیر اہتمام ضلعے کے نومختلف مقامات پر ٹرک ایبل آر سی سی پلوں کے قیام کا ذکرکیاجن کی کوئی مثال چترال کی تاریخ میں نہیں ملتی۔ ابنوشی کے سیکٹر میں شاگرام ، نشکو، سنگور، دروش، اورغوچ میں ڈرنکنگ واٹر سپلائی اسکیموں کا ذکر کیا جہاں پینے کے صاف پانی کی شدید قلت تھی جبکہ اپنی صوابدیدی فنڈ سے پبلک ہیلتھ انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ سے 17مختلف مقامات پر ہینڈ پمپ بھی نصب کروادی۔ انہوں نے کہاکہ سوشل ویلفئیر ڈیپارٹمنٹ کے ذریعے انہوں نے چترال میں ورکنگ ویمن کے لئے ہاسٹل کے لئے زمین کی خریداری کی ڈیڑھ کروڑ روپے کی فراہمی اور تین مختلف مقامات موردان، مستوج اور جنجریت میں سلائی سنٹر قائم کروالی۔ انہوں نے اپنی صوابدیدی فنڈز کے حوالے سے کہاکہ انہوں نے چترال میں پولیس لائنز میں خواتین کنسٹیبلوں کے لئے ویمن بارک کی تعمیرکے ساتھ مختلف مقامات پر انتظار گاہ کی تعمیر ، حفاظتی پشتوں کی تعمیر اور مغلاندہ، چیو ڈوک، مستجپاندہ، دروش، شاگرام اور موڑکھو میں مختلف ترقیاتی منصوبے عمل میں لائے جن سے مقامی عوام استفادہ کرتے رہیں گے۔ پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان کا اپنے اوپر عائد الزام کا جواب دیتے ہوئے اُنہوں نے کہاکہ پارٹی نے انہیں اپنی صفائی پیش کرنے کا کوئی موقع نہیں دیا بلکہ یکطرفہ کاروائی کی گئی جوکہ انصاف کا قتل ہے۔ انہوں نے کہاکہ پارٹی کے ہائی کمان نے ان الزامات کی چھان بین کے لئے جوکمیٹی بنائی تھی، اس کمیٹی کا اجلاس کبھی نہیں بلایا گیا اور یہی وجہ ہے کہ انہوں نے سیشن کورٹ چترال میں عمران خان کے خلاف ہتک عزت کا کیس دائر کردیا ہے اور اگر ان کے ہاتھ صاف نہ ہوتے تو وہ یہ جراء ت ہرگز نہ کرتی۔ انہوں نے کہاکہ مستقبل میں کسی پارٹی میں شمولیت کے بارے میں وہ بعد میں فیصلہ کرے گی لیکن ان انتخابات میں ایم ایم اے کی سپورٹ کا اعلان کردیا ہے ۔ پروفیسر فداء الرحمن نے مہمان کے خطاب اور حاضرین کے سوالات کا تقابلی جائز ہ پیش کرتے ہوئے کہاکہ اگرچہ بی بی فوزیہ سے پہلے بھی چترال سے مخصوص نشستوں پر کئی خواتین اسمبلی پہنچ گئیں تھیں لیکن ان میں بی بی فوزیہ کی کامیابی نمایان ہے اور سیشن کے آخری دوسالو ں میں ان کی بطور پارلیمانی سکرٹری تقرری ان کی کارکردگی اور حکمران پارٹی کا ان پر اعتماد کا مظہر ہے۔ ان کا کہنا تھاکہ انہوں نے بجا طور پر تعلیم اور ہیلتھ کے شعبوں کا انتخاب کرکے ان پر توجہ دی اور ان میں ترقی کے وہ کام کئے جوکہ یادرکھنے کے قابل ہیں۔ انہوں نے بی بی فوزیہ کی طرف سے صوابدیدی فنڈ کی درست سمت میں استعمال کی بھی داد دی ۔ انہوں نے کہاکہ بی بی فوزیہ پر لگی الزام کے بارے میں بہترین جج وقت ہے جوکہ ان کی بے گناہی یا ملوث ہونے کے بارے میں فیصلہ سنادے گا۔ چترال پریس کلب کے صدر ظہیرالدین نے کہاکہ چترال سے جنرل سیٹوں پر منتخب ہونے والے ممبران صوبائی اور قومی اسمبلی کو مہراکہ پروگرام میں وقت دیا گیا تھا لیکن بی بی فوزیہ کو اس فورم میں پیش ہوکر گزشتہ پانچ سالوں کے دوران اپنے کارنامے بیان کرنے کا وقت نہیں ملا تھا ۔ انہوں نے کہاکہ مہراکہ پروگرام میں منتخب نمائندوں کو برابری کی بنیاد پر موقع فراہم کرنے کا سلسلہ جاری رہے گا تاکہ جہاں ان کے کاموں کو عوام کو سامنے لایاجائے تو وہاں ان کے بارے میں پائی جانے والی سوالات کو بھی سامنے لاکر ان کو جوابدہ بنایا جاسکے۔ انہوں نے مہراکہ پروگرام کی کامیابی کے لئے سول سوسائٹی کا شکریہ ادا کیا۔
اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
دوسروں کے ساتھ اشتراک کریں

یہ خبر بھی پڑھیں

’’پرتشدد انتہا پسندی کی روک تھام‘‘کے موضوع کے حوالے سے یونیورسٹی آف چترال میں ورکشاپ کا انعقاد

چترال (نمائندہ چترال ایکسپریس) یونیورسٹی آف چترال میں سنٹر فار ریسرچ اینڈ سیکورٹی اسٹڈیز کے ...


دنیا بھر سے

error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔