محمد شریف شکیب

جس کی لاٹھی ، اس کی بھینس

………..محمد شریف شکیب……..
جس کی لاٹھی اس کی بھینس والا محاورہ ہمارے اساتذہ نے یہ سمجھایاتھا کہ جو شخص جتنا زور آور ہوگا۔ وہ اپنی بات اتنی آسانی سے منوا سکتا ہے۔ اساتذہ کا پڑھایا ہوا یہ سبق بھی آج تک یاد ہے کہ ریاست سے زیادہ طاقتور ریاست کے اندر کوئی شئے نہیں ہوتی۔ ریاست کی رٹ کو کوئی چیلنج نہیں کرسکتا۔ قانون سے کوئی بالاتر نہیں ہوتا۔ ہم نے ان باتوں کو پلو سے باندھ لیا تھا۔ لیکن جب عملی زندگی کے تجربات سے گذرے تو یہ ساری باتیں کتابی نکلیں۔ یہاں جس کے پاس لاٹھی ہے وہ ریاست، حکومت اور قانون سے بھی بالاتر ہے۔ اس تمہید کا مقصد پرائیویٹ سکولز ریگولیٹری اتھارٹی کے نام سے قائم ایک حکومتی ادارے کی بے بسی کا تذکرہ کرنا ہے۔ جس نے تین ماہ قبل قوم کو یہ خوش خبری سنائی تھی کہ پرائیویٹ تعلیمی ادارے بچوں سے گرمائی تعطیلات کے دوران نصف ٹیوشن فیس لینے کے پابند ہوں گے جبکہ کوئی سکول ٹرانسپورٹ فیس نہیں لے گی۔ سگے بہن بھائیوں میں سے ایک کی فیس پوری، دوسرے کی نصف اورتیسرے کی مفت ہوگی۔اس فیصلے کو عوامی سطح پر سراہاگیا۔ پشاور ہائی کورٹ کے اس فیصلے کی کاپیاں صوبے کے تمام پرائیویٹ تعلیمی اداروں کو بھجوادی گئیں۔ پرائیویٹ سکولوں نے بادل نخواستہ فیصلے پر عمل درآمد تو کردیا تاہم پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کرلیا۔ عدالت عظمیٰ نے پرائیویٹ سکول مالکان کی درخواست سماعت کے لئے تو منظور کرلی۔ تاہم کیس کو واپس پشاور ہائی کورٹ منتقل کردیا اورحکم دیا کہ درخواست گذار عدالت میں نئی یا ترمیمی درخواست دائر کریں اور عدالت عالیہ چھ ہفتوں کے اندر قانون کے مطابق تازہ آرڈر جاری کرے۔پرائیویٹ سکول مالکان نے عدالت عظمیٰ کے فیصلے کو اپنی فتح قرار دیا ۔اور والدین کو فوری طور پر اپنے بچوں کی پوری فیس جمع کرانے کا حکم دیا۔اوراکثر سکول ’’ سالانہ ترقیاتی فنڈ‘‘ کے نام پر ہر بچے سے تین سے پانچ ہزار روپے بٹورنے لگے ۔ بعض اخبارات میں بھی یہ خبر شائع کروادی گئی کہ سپریم کورٹ نے پشاور ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیا ہے۔ حالانکہ سپریم کورٹ کے 16جولائی2018کے عبوری حکم میں ایسی کوئی بات درج نہیں۔ پشاور ہائی کورٹ کو 28اگست تک عدالت عظمیٰ کے فیصلے کی روشنی میں کیس سے متعلق تازہ آرڈر جاری کرنا ہے۔ کیس عدالت میں زیرسماعت ہے اس دوران پرائیویٹ سکول مالکان نے بچوں کے والدین سے گرمائی تعطیلات کی پوری فیس وصول کرلی۔ ثبوت کے طور پر اخبارات میں شائع کرائی گئی خبر لوگوں کو دکھا کر ان کی آنکھوں میں دھول جھونکتے رہے۔ اس سارے عمل میں والدین کا موقف کسی نے معلوم نہیں کیا۔ اپنے بچوں کو معیاری تعلیم دلوانا والدین کی خواہش اور مقصد حیات ہوتاہے۔ جو لوگ اس کی استطاعت نہیں رکھتے وہ اپنے بچوں کو سرکاری سکولوں یا دینی مدرسوں میں بھیجتے ہیں۔ اور جولوگ اپنے بچوں کو پرائیویٹ سکولوں میں پڑھا رہے ہیں وہ اپنا پیٹ کاٹ کر بچوں کی تعلیمی ضروریات پوری کرتے ہیں۔ وہ ایک وقت کا کھانا چھوڑ دیتے ہیں زندگی کی دیگر سہولیات کو بھی بچے کی تعلیم پر قربان کرتے ہیں۔ وہ اس امید پر قرضوں کا بوجھ بھی اٹھاتے ہیں کہ ان کے بچے اچھی تعلیم حاصل کریں گے تو قرضے بھی اتر جائیں گے اور ان کی باقی ماندہ زندگی سکون سے گذرے گی۔عدالت عالیہ کے فیصلے اور ریگولیٹری اتھارٹی کے اعلامیے سے والدین کو تھوڑا سا ریلیف مل گیا تھا۔ تاہم بدلتی صورتحال دیکھ کر والدین یہ سوچنے پر مجبور ہوگئے ہیں کہ اس معاشرے میں قانون، عدالتیں اور حکومتیں صرف بااثر لوگوں کو سہولت پہنچانے
کے لئے ہیں۔ غریب ، متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والوں اور سفید پوشوں کا کوئی پرسان حال نہیں۔ اعلیٰ حکام اور انصاف فراہم کرنے والے ادارے صرف خبروں میں آنے کے لئے فیصلے صادر کرتے ہیں ۔پھر جب دباو آتا ہے تو اپنے ہی فیصلوں سے پہلو تہی کرتے ہیں۔لوگوں کا یہ گمان اب یقین میں بدلنے لگا ہے کہ قانون، عدالتیں، سزائیں اور جیلیں صرف غریبوں کے لئے ہیں۔ امیراور بااثر لوگ ہر قاعدے قانون سے بالاتر ہوتے ہیں۔ تبدیلی آنے کے سارے دعوے ڈھکوسلے ہیں یہ صرف نعروں کی حد تک خوشنما لگتے ہیں ۔ان کا حقیقت سے دور دور کا بھی واسطہ نہیں ہوتا۔ واقعی یہاں جس کی لاٹھی اس کی بھینس ہے۔
اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
دوسروں کے ساتھ اشتراک کریں

متعلقہ خبریں/ مضامین

error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔
إغلاق