پی ٹی آئی کی شاندار کامیابی کی بدولت اُس کے حصے میں آنے والی خواتین مخصوس نشستوں سے چترال کو محروم نہ رکھا جائے ۔ سفینہ بی بی – Chitral Express

Premier Chitrali Woolen Products

پی ٹی آئی کی شاندار کامیابی کی بدولت اُس کے حصے میں آنے والی خواتین مخصوس نشستوں سے چترال کو محروم نہ رکھا جائے ۔ سفینہ بی بی

چترال ( محکم الدین ) بونی سے پاکستان تحریک انصاف کی معروف خاتون رہنما آواز خواتین ڈسٹرکٹ اسمبلی چترال کی سپیکر و چیر پرسن ویمن ڈویلپمنٹ چترال سفینہ بی بی نے قائد پاکستان تحریک انصاف عمران خان و صوبائی قیادت سے پُر زور مطالبہ کیا ہے ۔ کہ صوبہ خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کی شاندار کامیابی کی بدولت اُس کے حصے میں آنے والی خواتین مخصوس نشستوں سے چترال کو محروم نہ رکھا جائے ۔ اور ایک سیٹ چترال کو دی جائے ۔ اپنے ایک اخباری بیان میں انہوں نے کہا ۔ کہ چترال کی خواتین کو الیکشن میں سب سے زیاد ووٹ دینے کا اعزاز حاصل ہے ۔ اور چترال اس صوبے کا واحد ضلع ہے ۔ جس میں خواتین سیاسی امور میں سب سے زیادہ حصہ لیتی ہیں ۔ تاکہ سیاسی نمایندگی کی بنیاد پر خواتین کو درپیش مشکلات کم کرنے میں مدد مل سکے ۔ سفینہ بی بی نے کہا ۔ کہ ایسے حالات میں جبکہ چترال میں تعلیم یافتہ خواتین روزگار نہ ہونے کی وجہ سے معاشی تنگدستی سے دوچار ہیں ۔ اور محرومیوں نے خود کُشی کا دروازہ کُھول دیاہے ۔ چترال کی خواتین کو صوبائی اسمبلی میں نمایندگی دینا از بس ضروری ہے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ پاکستان تحریک انصاف نے خواتین میں سیاسی روح پھونک دی ہے ۔ اور خواتین کا یہ قافلہ قائد تحریک انصاف کے شانہ بشانہ ملک میں ناا نصافی اور کرپشن کو جڑ سے اُکھاڑ پھینکنے پر یقین رکھتی ہے ۔ اور ا س حوالے سے ہر حکم پر لبیک کہنے کو تیار ہے ۔ انہوں نے شاندار کامیابی پر قائد تحریک انصاف عمران خان اور صوبائی قیادت کو مبارکباد دی ۔ اور مطالبہ کیا ۔ کہ ایک خواتین نشست چترال کو دے کر اس کی محرومیوں کا ازالہ کیا جائے ۔
اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
دوسروں کے ساتھ اشتراک کریں

یہ خبر بھی پڑھیں

’’پرتشدد انتہا پسندی کی روک تھام‘‘کے موضوع کے حوالے سے یونیورسٹی آف چترال میں ورکشاپ کا انعقاد

چترال (نمائندہ چترال ایکسپریس) یونیورسٹی آف چترال میں سنٹر فار ریسرچ اینڈ سیکورٹی اسٹڈیز کے ...


دنیا بھر سے

error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔