محمد شریف شکیب

امتحانی نتائج کا آن لائن سسٹم

…….محمد شریف شکیب………
مشتاق یوسفی اپنے دوست مرزاکے بارے میں کہتے ہیں کہ مرزا منفرد قسم کے طبیب ہیں۔ کوئی مریض ان کے پاس جائے تو اس کے مرض کو اپنے علاج کے ذریعے جڑسے ختم کردیتے ہیں لیکن چاردیگر امراض اس مریض کو لاحق ہوجاتے ہیں اور ہرمرض کے علاج کے لئے انہی سے رجوع کرنا پڑتا ہے اور وہ اپنے علاج سے ہر مرض کو چار سے ضرب دیتے چلے جاتے ہیں۔ مرزا کے علاج کی وجہ سے جب کوئی شخص پانچ چھ مختلف امراض میں مبتلا ہوتا ہے۔ تو اسے اپنے ابتدائی مرض کے مرحوم جراثیم بے طرح یاد آتے ہیں اور اکثرمرحوم جراثیم کی یاد میں اس کے نین چھلک پڑتے ہیں۔ہمارے تعلیمی بورڈ والے بھی شاید یوسفی کے طبیب مرزا سے بہت متاثر لگتے ہیں ۔ انہوں نے عوام کے وسیع تر مفاد کر پیش نظر رکھتے ہوئے گزٹ شائع کرنے کا سلسلہ ختم کرکے سب کچھ آن لائن کردیا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ ان کی لائن کبھی کبھار ہی آن ملتی ہے۔ اسی عوامی مفاد کے جذبے کے تحت انہوں نے امتحانات کے نتائج بھی موبائل سے معلوم کرنے کی ’’ سہولت ‘‘ مہیا کردی ہے ۔کہتے ہیں کہ اب اپنا نتیجہ جاننا اور مارکس سرٹیفیکیٹ حاصل کرنا آپ کے فنگر ٹپس پر ہے۔بورڈ کی ویپ سائٹس پر ہر خاص و عام کو یہ خوش خبری دی گئی کہ کسی بھی موبائل نیٹ ورک کے زریعے ساٹھ روپے بورڈ کے کھاتے میں جمع کرکے اپنے موبائل پر ہی ڈی ایم سی حاصل کی جاسکتی ہے۔ ہم بھی خوشی خوشی اپنے بچے کا ڈی ایم سی حاصل کرنے ایک نجی موبائل کمپنی کے سائن بورڈ لگے دکان پر پہنچے۔ پوچھنے پر بتایا گیا کہ یہ سہولت چھوٹی دکانوں پر میسر نہیں۔ کسی بڑی دکان سے پتہ کریں۔ پشاور صدر میں موجود نصف درجن دکانوں کی یاترا کرنے کے بعد پتہ چلا کہ پیسہ جمع کرنے کی سہولت صرف ایک نجی موبائل کمپنی کے مرکزی دفتر میں میسر ہے۔ شہر کی خاک چھاننے کے لئے مرکزی دفتر پہنچے تو وہ بند ہوچکا تھا۔ اگلی صبح نئے جذبے سے ڈی ایم سی کی تلاش میں نکل پڑے۔ متعلقہ مرکزی دفتر پر پہنچے تو کاونٹر پر موجود اہلکار کے پہلے ہی سوال سے سارے جذبوں پر اوس پڑگئی۔ موصوف کا کہنا تھا کہ یہ سہولت صرف انہی صارفین کو بہ آسانی دی جاسکتی ہے۔جو ہمارا نیٹ ورک استعمال کرتے ہوں۔میں نے شرمسار شرمسار ہوکر کہا کہ میں تو نیم سرکاری نیٹ ورک استعمال کرتا ہوں۔ دوست، رشتہ دار آپ کا نیٹ ورک استعمال کرتے ہیں۔ ان کا نمبر، ولدیت ، شناختی کارڈ نمبر اور شناختی علامت بتادوں تو مسئلہ حل ہونے کی کوئی امید ہے؟ میرے لٹکے ہوئے منہ اور مایوسی دیکھ کر شاید ان کو ترس آیا۔ کہنے لگا کہ پیسے دیدو۔ اللہ کا نام لے کر بھیج دیتا ہوں۔ اگر آپ کے فون پر پیغام آگیا تو آپ کی قسمت۔تھوڑی ہی دیر میں مجھے بورڈ کی طرف سے بھیجا گیا خود کار ایس ایم ایس مل گیا۔ مرکزی دفتر کی ہدایت کے مطابق میں ڈ ی ایم سی کا پرنٹ نکالنے نیٹ کیفے پہنچا تو انہوں نے اطلاع دی۔ کہ جس نے پیسے لئے ہوں، پرنٹ بھی وہی نکال کر آپ کو دیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ بورڈ والے ہمیں کوئی سہولت نہیں دیتے ۔ نہ ہی پیسے بھیجنے پر کوئی کمیشن ملتا ہے۔ مفت میں ان کی خاطر مدارت کرنے سے کونسا دس نیکیوں کا ثواب ملتا ہے۔انہوں نے مشورہ دیا کہ بورڈ کی ویپ سائٹس پر جاکر کوشش کریں شاید تمہاری امید بر آئے۔ دو دنوں کی محنت مشقت کے بعد آخر کار بیٹے کے ڈی ایم سی کی کاپی مل گئی۔ اب تعلیمی بورڈ والے ہی اس سوال کا جواب دے سکتے ہیں کہ یہ سہولت ہے یا مصیبت؟ امتحانی فارم جمع کرتے وقت بچوں سے امتحان کے سوالنامے، ڈی ایم سی ، پرووژنل سرٹیفیکیٹ اور اصلی سند کی فیس بھی یکمشت وصول کی جاتی ہے۔ پھر مزید ساٹھ روپے وصول کرکے ڈی ایم سی کی نقل بھیجنے کا آخر کیا جواز ہے۔پشاور بورڈ کے زیر اہتمام انٹرمیڈیٹ کے حالیہ امتحانات میں ایک لاکھ چار ہزارسے زیادہ امیدوار شریک تھے۔بورڈ والوں نے دانستہ طور پر نتائج کے اعلان کے تیسرے دن تک اوریجنل ڈی ایم سی کالجوں کو نہیں بھجوائے تاکہ ہر ایک سے ساٹھ روپے اضافی وصول کئے جاسکیں۔یوں عوام سے مفت میں ساٹھ لاکھ روپے سے زیادہ وصول کئے گئے۔ تعلیم کا حصول روز بروز مشکل بنایا جارہا ہے۔ کالجوں اور یونیورسٹیوں میں صبح کی کلاسوں کے لئے الگ فیس مقرر ہے اور شام کی کلاس کو سیلف فنانس کا نام دے کر ڈبل فیس وصول کی جاتی ہے۔ غریب عوام مرزا طبیب کے مریض بن گئے ہیں۔انہیں مفرد نظام کے آسان اور آزمودہ راستے بے طرح یاد آرہے ہیں۔
اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
دوسروں کے ساتھ اشتراک کریں

متعلقہ خبریں/ مضامین

error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔
إغلاق