اسلام میں خودکشی گناہ کبیرہ اور حرام ہے۔ – Chitral Express

Premier Chitrali Woolen Products

اسلام میں خودکشی گناہ کبیرہ اور حرام ہے۔

…….تحریر: مولانا خلیق الزمان خطیب شاہی مسجد چترال…..

انسان بعض اوقات کسی اچانک صدمے یا اپنے مقصد میں ناکامی کے باعث اپنے ہاتھوں سے اپنی زندگی کا خود خاتمہ کر ڈالتا ہے۔اسے خودکشی کہتے ہیں۔خودکشی کا مسئلہ آج کی نام نہاد مہذب دنیا کا بڑا اہم مسئلہ ہے مغرب میں خودکشی کی شرح خوفناک حد سے بڑھ چکی ہے۔وہاں ہرسال ہزاروں کی تعداد میں لوگ خودکشیاں کرکے اپنے مہذب ہونے کا ثبوت دیتے ہیں۔بلکہ ان ترقی یافتہ ملکوں میں ذرائع ابلاغ کے ذریعے لوگوں کو خودکشی کرنے کے آسان اور کامیاب طریقے سکھائے جاتے ہیں۔
اسلام میں خودکشی حرام ہے) کوئی انسانی جان کسی انسان کی اپنی تیار کردہ نہیں ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کا عطیہ ،اس کی امانت اور اس کی طرف سے ایک عظیم نعمت ہے۔چونکہ انسان نے اپنی جان کو خود پیدا نہیں کیا۔اس لئے وہ اس کامالک نہیں ہے۔اسے یہ حق اور اختیار حاصل نہیں کہ اپنی جان کا خود خاتمہ کردے۔اگر وہ ایسا کرتا ہے تو یہ نہایت درجے کی بداخلاقی،امانت میں خیانت ،اللہ تعالیٰ کی نعمت کی ناشکری اور خسارے کا سودا ہے۔بالکل جس طرح ملازم ڈرائیور کو گاڑی کے مالک کے اجازت کے مطابق گاڑی استعمال کرنا درست ہوتا ہے،مگر اُسے از خود اس گاڑی کو بیجنے یا تباہ کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ اسلام نے جو کہ دین فطرت ہے۔خودکشی کو حرام ٹھہرایا ہے۔چنانچہ اللہ تبارک وتعالیٰ کا ارشاد ہے ۔’’اور اپنی جانوں کو قتل نہ کرو بیشک اللہ تم پر بڑا مہربان ہے‘‘
احادیث میں بھی خودکشی کرنے کی مذمت اور ممانت ہے اور اس کا ارتکاب کرنے والے کو دوزخی قرار دیا گیا ہے۔حضرت جندب بن عبداللہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا’’تم سے پہلے دور میں ایک شخص زخمی ہوگیا۔اُس نے گھبرا کر چھری سے اپنا ہاتھ کاٹ ڈالا اور خون نہ رکنے سے وہ مرگیا اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا میرے بندے نے(مرنے کیلئے) مجھ سے جلدی کی(طبعی موت کے بجائے خودکشی کرلی)‘‘
دوسرے حدیث میں فرمان نبویؐ ہے۔حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا جس نے اپنے آپ کو نیزے سے ہلاک کیا تو قیامت کے دن وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے دوزخ کی آگ میں اپنے پیٹ میں وہی نیزہ مارتا رہے گا۔فرمایا جو شخص اپنا گلا گھونٹ کر خودکشی کرتا ہے وہ دوزخ میں اسی طرح اپنا گلا گھونٹتا رہے گا‘‘
قرآن وسنت کی ان تصریحات کی روشنی میں علماء اسلام کا اس پر اجماع ہے کہ اسلام میں خودکشی گناہ کبیرہ اور حرام ہے۔یہی نہیں بلکہ اسلام اس سے بھی منع کرتا ہے کہ کوئی شخص اپنے لئے موت کی ارزو کرے۔صحیح حدیث میں موت کی تمنا کرنے سے منع فرمایا گیا ہے۔
حضرت انس بن مالکؓ نے ایک جگہ کہا کہ اگر میں نبیؐ سے یہ نہ سنا ہوتا کہ موت کی تمنا نہ کرو تو میں ضرور موت کی تمنا کرتا۔اس کے علاوہ اسلام میں جان کی حفاظت اتنی ضروری ہے کہ جان بچانے کیلئے حرام چیز کھالینے کی بھی اجازت ہے۔
بدقسمتی سے حالیہ دنوں میں چترال کے اندرخودکشی کی کافی واقعات رونما ہوئی۔اسی خطرناک مسئلے کو ختم کرنے کیلئے معاشرے کے ہرفرد کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیئے۔حکمرانوں سے لیکر مذہبی لیڈروں تک سیاسی قائدین سے لیکر عوام تک تعلیمی اداروں کے سربراہان سے لیکر عوام تک تعلیمی اداروں کے سربراہان ،این جی اوز وغیرہ سب کی یہ زمہ اری بنتی ہے کہ وہ اس مسئلے کو سنجیدہ لیں۔اس حوالے سے والدین اور اساتذہ کی بہت زیادہ زمہ داری بنتی ہے کہ وہ اپنے بچوں کی خصوصی تربیت کریں۔ہمارے ہاں فیملی سسٹم تباہی کی طرف جارہی ہیں۔تعلیمی ادارے سکول،کالج اور مدرسے کے سربراہان صرف تعلیم ہی نہیں بلکہ اپنی اداروں کو تربیت گاہ بھی بنادیں۔
خطباء،شعراء،صحافی،ذرائع ابلاغ اس حوالے سے معاشرے میں اگاہی پیدا کریں۔انشاء اللہ ممکن ہے اس مسئلہ پر قابو پایا جاسکے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
دوسروں کے ساتھ اشتراک کریں

یہ خبر بھی پڑھیں

امتحانی نتائج کا آن لائن سسٹم

…….محمد شریف شکیب……… مشتاق یوسفی اپنے دوست مرزاکے بارے میں کہتے ہیں کہ مرزا منفرد ...


دنیا بھر سے

error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔