تازہ ترین

چیف جسٹس،وفاقی اورصوبائی حکومت چترال کے گلیشیئرز اورجنگلات کو بچانے کے لئے فوری اقدامات اُٹھائے۔سرتاج احمد خان

چترال (نمائندہ چترال ایکسپریس) چترال کمیونٹی ڈیویلپمنٹ نیٹ ورک(سی سی ڈی این )کے چیرمین سرتاج احمد خان نے چیف جسٹس آف پاکستان،وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ گلوبل وارمنگ کے نتیجے میں چترال کے گلیشیر وں کو پگھل کر ختم ہونے اور یہاں پانی کا بدتریں بحران رونما ہونے سے بچانے کے لئے سوختنی لکڑی کے حصول کے لئے جنگلات کی کٹائی فی الفور روک دی جائے جس کے لئے گولین گول ہائیڈرو پاؤر پراجیکٹ سے اہالیان چترال کو فی یونٹ پیدوار پر آنے والی خرچ کے مطابق بجلی فراہم کی جائے جوکہ ایک روپے بنتی ہے ۔ پیر کے روز چترال چیمبر آف کامرس کے صدر اتالیق حیدر علی شاہ، ضلع نائب ناظم مولانا عبدالشکوراور سول سوسائٹی کے نمائندوں رحمت غفور بیگ، عبدالناصر خان، حیات الرحمن، سبحانودین، عنایت اللہ اسیر، فاروق احمد، عیسیٰ علی اور دوسروں کی معیت میں چترال پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے خبردار کیاکہ اگر سوختنی لکڑی کے حصول کے لئے جنگلات کی کٹائی کا مسئلہ سنگین صورت اختیار کرتا جارہا ہے جس پر قابو نہ پانے کی صورت میں ضلعے میں موجود گلیشیرز کا ذخیرہ ختم ہونے والا ہے جن میں ٹوٹ پھوٹ کا سلسلہ پہلے ہی شروع ہوچکا ہے او ر سنوغر، بریپ، گوہکیر سمیت کئی دیہات اس کے زد میں آچکے ہیں ۔ انہوں نے سرکاری طور پر حاصل شدہ اعدادوشمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ ہر سال چترال کی مقامی مارکیٹ میں مجموعی طور پر 26ہزار ٹن سے ذیادہ سوختنی لکڑی فروخت ہوتی ہے جبکہ اس کے برابرمقدارمیں لکڑی مارکیٹ آئے بغیر استعمال ہوتی ہے اور اتنی بھاری مقدار میں لکڑی کی کٹائی کا براہ راست بوجھ گلیشیروں پر پڑرہا ہے ۔ سرتاج احمد خان کا کہناتھا کہ کئی سال پہلے انہوں نے “چترال بچاؤ، پاکستان بچاؤ”تحریک کا آغاز کیا تھا جس کے ذریعے ا س خطرے سے ایوان اقتدار میں اور سول سوسائٹی میں لوگوں کو اس خطرے سے آگاہ کرنا تھا ۔ انہوں نے کہاکہ اگر سوختنی لکڑی کے لئے درختوں کی کٹائی کا سلسلہ ہم فوری طور پر نہ روک سکے تو وقت ہمارے ہاتھ سے نکل جائے گا اور چترال میں دریائے چترال کے خشک ہونے پر پانی ناپید ہوگا اور دریائے کابل کا منبع ختم ہوگا جس سے پاکستان کے وسیع وعریض میدان بنجر ہوں گے اور ملک کی معیشت کو ناقابل تلافی نقصان لاحق ہوگا۔انہوں نے کہا کہ اس مسئلے کا فوری حل یہی ہے کہ گولین گول ہائیڈرو پاؤر پراجیکٹ سے ایک روپے فی یونٹ بجلی سبسڈائزڈ ریٹ پر فراہم کیا جائے ۔ اُنہوں نے چیف جسٹس آف پاکستان کو چترال کا دورہ کرنے کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ وہ خود چترال آکر حالات کا جائزہ لے۔
اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
دوسروں کے ساتھ اشتراک کریں

متعلقہ خبریں/ مضامین

error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔
إغلاق