محمد جاوید حیات

دھڑکنوں کی زبان…ہوس کا گھوڑا گھوڑی 

بات کسی سے کسی کا ضمیر مانگنے کی تھی ۔۔رشتے ناتے تعلقات سب اُڑے آگئے ۔۔امیدیں باندھی گئیں ۔۔آسمان کے قلابے ملائے گئے ۔
ہوس کو ہے نشاط کار کار کیا
نہ ہو مرنا تو جینے کا مزہ کیا
اقتدار کی صرف ایک کرسی تھی ۔تاج بھی صرف ایک تھا ۔اقتدار کے لئے پرندہ ہوا میں چھوڑا گیا ۔۔ہر ایک کی آرزو تھی کہ پرندہ اس کے سرپہ بیٹھے ۔اس لئے ہر ایک سر اونچا کرتا ۔۔فریادیں کرتا ۔۔مگر پرندہ تھا کہ اُڑتا جارہا تھا ۔۔کبھی اُوپر اُٹھتا ۔کبھی نیچے آتا ۔۔چکر کاٹتا ۔قلابازیاں کرتا ۔۔اے ہے دو دن کا اقتدار ۔۔پرندے کا کیا ۔۔دھوکہ دیتا ہے ۔۔زندگی کو رنگیں ترین بنا کردیکھاتا ہے ۔۔اس لئے دھوکہ ۔۔ہاں ہاں دھوکہ ۔۔دو دن کی زندگی کو رنگیں بنا کر پیش کرتا ہے ۔۔شیر کی دو دن کی زندگی ۔۔۔گیدڑ کی سو سالہ زندگی ۔۔۔یہ گیدڑ کیا بلا ہے ۔۔یہ ابھی بتاتا ہوں کہ کیا بلا ہے ۔۔یہ وہ ہے جو اقتدار کو اپنی صلاحیت سمجھتا ہے ۔۔اس کو یقین ہوتا ہے کہ یہ اقتدار کبھی ختم نہیں ہوتا ۔۔اس لئے خلق خدا کی خدمت کی جگہ فرغون وقت بن جاتا ہے ۔۔اس کے حصے میں ظلم و نا انصافی آتی ہے ۔۔بد دعائیں آتی ہیں ۔۔نفرت آتی ہے ۔۔کسی کے دل میں اس کے لئے محبت نہیں ہوتی ۔۔وہ ہر دل میں نفرت کا بیچ بوتا ہے ۔۔پھر وہ اکیلا ہو جاتا ہے ۔۔بالکل تنہا ۔۔ہوس کے گھوڑے پر سوار رہتا ہے ۔۔اس کو لگتا ہے ۔۔کہ اقتدار کا پرندہ واپس آکے اس کے سر پہ بیٹھے گا ۔۔اسی دھوکے میں عمریں گذرتی ہیں ۔۔لیکن جمہوریت تبدیلی کا نام ہے ۔ایک ٹرم صرف پانچ سال ۔۔پانچ تو ایک ہاتھ کی پانچ انگلیاں ۔۔اس کے لئے اتنی جدوجہد ۔۔سر کھپانا نیندیں حرام کرنا ۔۔نیت خدمت اور اخلاص کی ہو تو پرندہ چکر کاٹتے کاٹتے سر پہ آ بیٹھتا ہے۔۔ورنہ تو غریب عوام کی حمایت کے ساتھ دعائیں بھی ہوتی ہیں اور دلوں کا بھید اللہ جانتا ہے ۔۔ہوس انسان کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیتا ہے ۔۔وہ اپنا سب کچھ بھول جاتا ہے ۔جھوٹے وعدے وعید ۔۔دعوے ۔۔آگے زندگی کی روکاوٹیں کچھ کرنے دیتی بھی ہیں کہ نہیں ۔۔چمکتی کرسی خواب دیکھاتی ہے ۔۔اور خواب سے بیداری تک دو سیکنڈ کا فاصلہ ہوتا ہے ۔۔پھر محرومیاں جنم لیتی ہیں اور گذری ہوئی زندگی کے حسین لمحات عذاب بن جاتے ہیں ۔۔پھر انسان اس طلسم کدے میں بے چین سا رہتا ہے ۔۔ اگر خدمت سب کا مدعا ہو تو پرندے کا سر پہ بیٹھنے کی ہوس نہیں ہوتی ۔دوسروں کے حقوق کے بارے میں آخرت پر یقین رکھنے والوں کو پتہ ہے کہ اللہ کے سامنے جواب دینا ہوگا ۔یہ سوال جواب بڑا سخت ہوگا ۔۔اس لئے اقتدار کو امانت اور پھر آزمائش کہا گیا ہے ۔۔دیکھتی آنکھوں اور سنتے کانوں کوئی اپنے آپ کو آزمائش میں کیوں ڈالے ۔۔مگر ہوس پہ خدا کی مار ہو کہ آخرت بھلا دیتا ہے ۔۔نیندیں بھی حرام ہوتی ہیں ۔۔سکوں غارت ہوتا ہے ۔۔عافیت کا نام و نشان مٹ جاتا ہے ۔۔کوئی ہوس کا شکار نہ ہو ۔۔ہوس کا گھوڑا سر پٹ دوڑ تا ہے ۔۔منزل کا پتہ نہیں ہوتا ۔۔کہیں راستے ہی میں ڈھیر ہونا پڑتا ہے ۔۔یہی ہوس دشمنیاں جنم دیتا ہے ۔۔نفرتیں پھیلاتا ہے ۔۔معاشرے میں افرا تفری پھیلتی ہے ۔۔دوریاں بڑھتی ہیں ۔اگر لوگ زندگی کا مفہوم سمجھنے کی کوشش کریں تو پیچیدگیاں خود بخود مٹ جائیں گی ۔۔مگر ایسا نہیں ہوتا ۔۔دو دن کی زندگی کو سب کچھ سمجھا جاتا ہے ۔۔اس لئے ہوس کا گھوڑا گھوڑی ہمیں سوار کرکے بے منزل دوڑاتے ہیں ۔۔اب جب اقتدار کا پرندہ کسی کے سر پہ ویسے بھی بیٹھا ہے تو دوسرے متمنی اقتدار ملول ہیں نفرتیں دلوں سے جاتی نہیں ہیں ۔۔حالانکہ اقتدار بے چینیاں بھی بہت لاتا ہے ۔۔جس سر پہ تاج ہو وہ سر بہت بے سکوں ہوتا ہے ۔۔اللہ وطن عزیز سے بے سکونیاں مٹا دے محبت کی ہوا چلا دے ۔۔اقتدار کا پرندہ جس کے سر پہ سجا ہے اس کو خدمت کی توفیق عطا کرے ۔۔اس پاک سر زمین کی خوشحالی ہم سب کی خوشحالی ہے ۔۔اقتدار کا پرندہ یہاں سے کہیں نہ جائے ہر پانچ سال بعد اُڑان بھرے اور ایسے سر پہ بیٹھے جو دل و جان سے اس سر زمین پہ قربان ہونے کی صلاحیت رکھتا ہو ۔۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
دوسروں کے ساتھ اشتراک کریں

متعلقہ خبریں/ مضامین

error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔
إغلاق