شمس الحق قمر

دیوانوں کی باتیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ( ہمارے پرچم  کے ساتھ رقص ایک چھوٹی سی برائی )

میں نے آج سے تیس سال پہلے تاریخ کی ایک چھوٹی سی کتاب پڑی تھی اور میری سات راتیں مسلسل کروٹوں میں گزاریں تھیں نیندیں جب اُچاٹ ہوتی تھیں تو میں بستر میں اُٹھ بیٹھ کر سوچتا رہتا کہ میں  کسی نہ کسی طرح ہندوستان جا سکوں اور جاکر عین اُس جگہے میں ان سب کو جہنم واصل کرکے آؤں جہنوں نے ہماری ماؤں ، بہنوں اور بیٹیوں کی عزت پر وار کیا تھا ۔ جس کتاب نے میری نیندیں چھینی تھی اُس کتاب کا نام تھا ’’ جب امرتسر جل رہا تھا ‘‘اور مصنف کا نام خواجہ افتخار ۔ یہ کتاب شاید بہت کم جگہوں پر دستیاب ہو لیکن میری نئی نسل سے گزارش ہے یہ یہ کتاب خرید کر ضرور پڑھیں معلوم ہوگا کہ جس ملک میں ہم رہ رہے ہیں اس کی وقعت کیا ہے شان کتنی بلند ہے اور مٹی کتنی مقدس ہے ۔

            آذادی کے خون چکاں دنوں میں ہندوں پر جب یہ بات واضح ہو گئی کہ مسلمان قوم اپنےعظیم قائد محمدعلی جناح کی آنتھک کوششوں کے نتیجے میں اپنے دین کے زریں اصولوں کے مطابق زندگی گزرنے کی جنگ جیت چکی ہے تو بر صغیر کے کچھ دور افتادہ علاقوں کے پشتنی باشندوں کی قتل و غارت ، اُن کے گھروں میں لوٹ کھسوٹ اور اُن پر بے جا ظلم و تشدت کے پہاڑ گرانے کا سلسلہ شروع ہوا ۔ مصنف اپنی کتاب میں لکھتا ہے کہ امرتسر میں مسلمانوں کی ایک بڑی جماعت آباد تھی ۔ ان مسلمانوں پرایک وقت ایسا بھی آیا جو کہ اُن کے لئے حقیقی معنوں میں قیامت سے کم نہ تھا، نہتے جوان سال مسلمان مرد لوگ جوکہ ہندوں کے ہاتھوں شہید ہو کے ختم ہوئے تھے۔ ہندوں سرکار کے پیادے گھر گھر گھس کر مسللمانوں خواتیں کی آبرو ریزی شروع کی تھی ہندوں نے مرد حضرات پر ہاتھ صاف کرنے کے بعد خواتین کی عزت کو جب اپنی ناپاک اور وخشیانہ ہوس کا شکار بنانا چاہا تو وہ یتیم بچیاں اورجواں بیٹیاں جو ہندوں کے ہاتھوں اپنے ماں باپ اور بھائی کھو چکی تھی ںاپنی عزت اور آبرو کو بچانے کی خاطر احتجاجاً امرتسر کے بازار میں نکل آئیں ۔آگے مصنف ظلم کی تاریخ یوں بتاتے ہیں ’’ یہ وہ پاک دامن  اور پردہ دار دوشیزائیں تھیں جن کے جسموں پر سورج کی کوئی اوارہ شعاع بھی نہیں پڑی تھی اب ہندوں نے انہیں ننگا کر کے اُن کے جسم کے اعضا کاٹ ڈالنے کی کوشش کی تاکہ ائندہ کوئی الگ ملک مانگنے والا مسلمان ہندوں کی آںکھوں میں آنکھیں ڈالنے کی ہمت بھول کر بھی نہ کرے ‘‘ چونکہ اُس زمانے میں مسلمانوں کو بڑے عہدوں سے ہٹایا گیا تھا مسلمانوں کو کپڑے سینے، حجامت کرنے،سبزی بیچنے،دفتروں میں جھاڑودینےا ور زیادہ سے زیادہ دفتری منشی جیسے عہدوں سے آگے جانے کی قطعی طور پراجازت نہں تھی اگر کہیں خال خال  مسلمان اعلی عہدوں پر تھے بھی تو اُن سے بھی اختیارات چھین لیے گئے تھے (اس امر کا ذکر قدرت اللہ شہاب نےاپنی کتاب شہاب نامہ میں بڑی تفصیل سےکیا ہے )۔ امرتسر کے بازار میں کچھ مسلمان سبزی فروش،چھاڑو دینے والے، مزدور،جحام اورموچی وغیری موجود تھے۔ ہندو سرکار نے مسلمان خواتین پر جب یہ ظلم ڈھایا تو بازار میں موجود مذکورہ قبیل کے  مسلمانوں کی غیرت جوش میں آئی  یوں سبزی والوں نے اپنے چھرے ہندوں سرکار کے کتوں کے سینوں میں گھونپ دیے،حجاموں نے اپنی قینچیوں سےان مکار لومڑیوں کی آنکھیں نکال لیں اورجوتے گانٹھنے والے موچی مسلمانوں نے اپنی سوئیوں اور تیزدھار والے چاقوں سے اس بے ضمیر ہندو فوج کی آنتیں نکال کے گلی کوچوں کے کتوں کی ضیافت کی ۔ یہ سبق ہندوں کو آج تک یاد ہے ۔

            یوں بے شمار قربانیوں کے نتیجے میں پاکستان بنا تھا اور اس کا قومی پرچم صرف سفید اور سبز رنگ کے کپڑے کے ٹکڑے کا نام نہیں بلکہ یہ کپڑا مسلمانوں کی قربانیوں کے خون میں نہلائی ہوئی قوم کی عزت، وقار،آبرو اور جان و مال کا امین ہے۔ وہ خطہ جسے ہم پاکستان کہتے ہیں کے اندر رہنے والے ہر ذی روح  اس پرچم کو اپنی جان اور مال سے بھی زیادہ اہمیت دیتے ہیں  کپڑے کے اس چھوٹے سے ٹکڑے کو جان  اور مال سے عزیر رکھنا  تاریخ کےخون آلود داستان کی ایک علامت ہے  ۔ آج پاکستان میں ایک طیارے کے اندرے پاکستانی پرچم کی جس انداز سے بے حرمتی کی گئی وہ قابل صد افسوس ہے۔اگرچہ اُس عورت نے تضحیک کی نیت سے سب کچھ نہیں کیا تھا بلکہ یہاُس عورت کی پاکستان سے محبت کے جنون کا نتیجہ تھا جسے  ہماری نظر میں جچنا مشکل ہے ۔لیکن بات یہیں ختم نہیں ہوتی ۔ یہ تو غیر ملکی خاتون تھیں اور شاید اُں کی تہذیب میں  یہ اس کی محبت کے اظہار کا بہتر طریقہ تھا لیکن پاکستان میں اس سے کئی گنا زیادہ خطر ناک حرکات و سکنات  آپ کی اںکھوں کے سامنے ہیں ۔ یہاں پاکستانی انسانوں کا خون باہر کے ممالک کے بنکوں میں اپنی محنت اور مشقت کا رونا رو رہا ہے۔ یہاں بے شماربے قصور اور معصوم انسانوں کو کاروباری چوزوں کی طرح  بے دریغ زبح کیا گیا ہے ہمارے ملک میں سماجی ناچاقی اور معاشی نا ہمواریوں پر قابو پانا اس وقت بہت مشکل ہے کیوں کہ اس وقت ملک طرح طرح کے مسائل کے سممندر میں ڈوبا جا رہا ہے اور برائیاں سیلاب کی طرح ہمارے ذہنوں پرپھیلی ہوئی ہیں ۔

رات کو سرہانے پر سر سررکھ کے اپنی ناقص زندگی پر سوچنے لگتے ہیں تو  پھر وہی چھوٹی چھوٹی باتیں نظر آتی ہیں جنہیں ہم جان بوجھ کر نظر انداز کرتے گئے اور وہ چھوٹی باتیں قطرہ قطرہے کی مانند مل کر سمندر بن گئیں۔ یہ برائیاں بھی پیدا ہونے کے بعد ایک جیسی نہیں رہتیں بلکہ انسان کی طرح پلتی اور بڑھتی رہتی ہیں اور ایک دوسرے کے ساتھ ملک کر مذید مضبوط اور مستحکم بھی ہوتی ہیں ۔ ہم نے ایک جگہے پر ایک چھوٹی سی برائی کا ذکر کیا تھا جو کہ دوبارہ گوش گزار کر رہا ہوں ۔ آُ پ نے دیکھا ہو گا ہم راستہ چلتے چلتے کئی ایک ایسی حرکتیں غیر مرئی طریقے سے کر جاتے ہیں جوکہ تہذہب یافتہ اقوام کی نظر میں ایک نازیبہ حرکت یا ایک جاہلانہ حرکت گرانی جاتی ہے مثال کے طور پر ناک صاف کر کے راستے میں چھوڑے جانا، کھانس کھانس کے بلغمی لغاب سرراہ چھوڑ کے چلےجانا ،عوامی جہگوں جیسے بس اڈھوں وغیرہ کی بیت الخلا میں رفع حاجت کے بعد پانی ڈالنے کو تکلف سمجھنا،سگریٹ بجھا کربغیر دیکھے جس سمت ہاتھ چلے چھوڑ کے چلے جانا، بغیر کھٹکھٹائے کسی کے گھر،یا دفتر میں جھانکنا،کوئی موبائیل یا کمپوٹرمیں کام کر رہا تو بلا وجہ اور بغیر اجازت نہ صرف جھانکنا بلکہ ٹکٹکی باندھ کے برابر دیکھے جانا، بکسٹ یا جوس پی کر ڈبے اور بوتل راستے میں چھوڑ کے چلے جانا،کپڑے بدل کے شلوار وہیں چھوڑ کے جانا،صبح آٹھ کے بسترتہہ نہیں کرنا یا راستے میں رفع حاجت کر کے ناڑے کو دانت سے پکڑ کر کھڑے کھڑے طہارت کی زندہ تصویر بن کے رہنا وغیرہ وہ سماجی برائیاں ہیں جو جنم لینے کے بعد خود بخود پنپتے رہتے ہیں اور یوں یہ برائیاں اںڈے سے لاروا  اور پیوپا  تک آتے آتے رائی کا پہاڑ بن کر ہمارے اوپر گرتی ہیں اور ہم ان کے نیچے دب جاتے ہیں۔ ان میں سے کچھ بڑھ کر  قتل و غارت کا روپ دھار لیتے ہیں، کچھ ڈاکہ و چووری کی صورت میں سر اُتھاتے ہیں اور کچھ سیاست کے نام پر کرپشن وغیرہ کے خطوط پر استوار ہوتے ہیں۔ اگر ہم ان چھوٹٰی چھوٹٰی باتوں کو درخور اعتنا سمجھ کے ان پر غور کریں گے تو شاید ہمارے حالات آہستہ آہستہ بہتر ہوں گے ۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
دوسروں کے ساتھ اشتراک کریں

متعلقہ خبریں/ مضامین

error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔
إغلاق