فرہاد خان

نیا پاکستان…. فکروخیال

پاکستان کے عام عوام کی خاصی بڑی تعداد حالیہ انتخابات میں عمران خان کی جیت کو منٹو کے افسانہ نیا قانون کے مرکزی کردار منگو کوچوان کے نظریے سے دیکھ رہے ہیں جس کاخیال تھا کہ انگریز سرکار کی جانب سے ہندوستان میں نئے قانون کے نفاذ کے بعد سب کچھ بد ل جائیگا ، انگریزی فوج سمیت سارے غیرملکی برطانوی جھنڈے اُتار کر رفو چکر ہوجائینگے اسی خیال میں وہ خود کو طاقتور سمجھنے لگتا ہے اور نئے قانون کے نفاذ کا بڑی خوشی سے انتظار میں بیٹھ جاتاہے ۔موجودہ حالات کے تناظر میں بھی رائے عامہ یہی ہے جس کے مطابق عمران خان کی جیت کے ساتھ ہی شایدسب کچھ ٹھیک ہونے والا ہے ان کی نظر میں تحریک انصاف کے جیت کے ساتھ ہی پاکستان کو ائی۔ایم۔ایف سے چھٹکارا مل جائیگا ، قرضوں تلے ڈوبا ملک آ ج ہی سے اپنے پاوں آپ کھڑا ہوجائیگا ، ملک میں بیرون ملک سے سرمایہ کاری کا سیلاب آئے گا ، بیرون ملک سے لوگ نوکریوں کی تلاش میں پاکستان اُمڈ آئیں گے ، ہر طرح خوشحالی کا دور دورہ ہوگا ،برسوں سے بگڑا فرسودہ نظام انکھ جھپکتے ٹھیک ہوجائیگا اور اگلی صبح ہی منگو والا خواب پورا ہونے والا ہے مگر، ٹھہرئے جناب ،۔ ۔ ۔ سفر کا ابھی آغاز ہوا چاہتا ہے اور ابھی تو عشق کے امتحان اور بھی ہیں ۔بخشو کی خوش فہمیان اور ان کی تعبیر ہونے میں ابھی خاصا وقت درکار ہے اور دعا ہے کہ یہ سارے خواب تعبیر کو پہنچ جائیں ،ملک میں سب کچھ ٹھیک ہوجائے اور عوام کو خوشحالی نصیب ہو ۔سب سے بڑا مسلہ یہ ہے کہ ہر لحاظ سے بگڑے نظام کو مہینوں اور چند سالوں میں ٹھیک کرنا بھی صرف اور صرف بخشو کی طرح کا خواب ہوسکتا ہے اور عملا ایسا ممکن نہیں ۔ اس کے لئے بقول عمران وہ جہاد کرنے آئے ہیں اور اس جہاد میں خاصا وقت لگے گا ۔ ہم ایک ایسے ملک میں رہ رہے ہیں جہاں ہر چارہ دست نے اپنے سے مظلوم و محکوم کا پوری چالاکی اور عیاری سے خون چوسا ہوا ہے ۔یہاں کا ظالم اتنا طاقتور ہے کہ اسے راہ راست پر لانا آسان نہیں ،اس نظام کو راہ راست پر لانے کے لئے بڑی قربانی درکار ہے ۔ جس طرح کینسر کی بیماری انسان کو اندر سے کھوکھلا بنا دیتی ہے اسی طرح کا حال ہمارے پیارے ملک کا ہے اسے اس کینسرجیسی موزی مرض سے نجات دلانے کے لئے لازم ہے کہ پوری تیاری اور انتظامی مہارت کے ساتھ میدانِ کارِ زار میں اُترا جائے اس کے لئے لازمی ہے کہ انکھیں بند کرکے دل پر ہاتھ رکھ کر انتہائی بے رحمی سے مرض کی ہر جڑ کو کاٹا جائے اور یوں نئے سرے سے تشخص کے عمل کا آغاز ہو ،یقین محکم اور عمل پیہم اور جہدوجہد ہی سے ایسا کیا جاسکتا ہے اور یقیں جانئے ایسا کر نامشکل توضرور ہے مگر ناممکن نہیں۔ جس طرح سے عمران خان اور اس کی ٹیم نے پچھلے پانچ سالوں میں صوبہ خیبر پختونخواہ میں اپنی بساط کے مطابق نظام کو بدلنے کی کوشش کی ہے اور جس طرح کے۔پی۔کے۔ کے عوام نے اس تبدیلی کو محسوس کرتے ہوئے ان پر دوبارہ اپنے اعتماد کا بھرپور اظہار کیا ہے اس سے شنید یہ ہے کہ ائندہ اگلے پانچ برسوں میں وفاق میں آنے والا انصافی حکومت پورے ملک میں نظام کو بدلنے اور لوگوں کے معیار زندگی کو سدھارنے کی ہر ممکن سعی کرے گی اور جس طرح نظام کی درستگی اور ملک کی موجودہ ابتر حالت بدلنے کے لئے خان صاحب نے ابھی سے جہاد کا اعلان کیا ہے اس سے بظاہر یہ لگتا ہے کہ شاید نظام کا کچھ نہ کچھ بھلا ہوجائے گا ۔اس بات میں بھی کچھ شک نہیں کہ عمران خان کے پاس تجربہ کار اور قابل لوگوں کی خاصی اچھی تعداد موجود ہے ، عمران کے روشن پاکستان کا وژن اس کی سب سے بڑی طاقت ہے جس کا اعلان اس نے اپنے تقریبا ہر جلسے جلوس میں کیا ہے اور گزشتہ بیس سالوں سے اس کی سیاست کا محور بھی یہی ہے کہ کس طرح اس بگڑے نظام کے خلاف اعلان بغاوت کی جائے اور اسی وژن ہی سے ممکن ہے کہ ہر طرح سے بھٹکے ہوئے عوام کی اس جم غفیر کو سیدھی لائن سے متعارف کیا جائے ، قانون کی پاسداری کا درس دیا جائے ، ملک کی فلاح و بہہود کا ایک مظبوط و منظم سوچ دی جائے ، اجتمائی مفادات کے تحفط کا اور اپنی ائینی و قانونی حقوق کے لئے جہدوجہد کا شعور دی جائے تاکہ مجموئی طور پر ملک کا انتظام درست سمت سفر کر جائے۔ایسا کرنا منٹوں کا کام نہیں اس کے لئے ایک عزم عالیشان کی ضرورت ہے اس کے لئے وجود کو مٹانے کی دیر ہے اور اس کے لئے قربانی کی ضرورت ہے ۔حرف آخر یہ ہے کہ عمران کے پاس نہ کوئی جادو کی چھری ہے اور نہ الہ دین کا چراغ کہ انکھ کھلتے ہی سب کچھ ٹھیک کردے اس کے لئے ہم سب کو بحیثیت پاکستانی کو اپنی زات سے بالاتر ہوکر ملکی اجتمائی مفاد کے لئے اپنے اپنے حصے کا فرض ادا کرنا ہے اس کے لئے بڑے جہاد کی ضرورت ہے ،اس کے لئے بے رحم احتساب چاہئے تاکہ نئے پاکستان کا خواب جلد از جلد پایہ تکمیل کو پہنچے اور قائد اعظم و دیگر عظیم رہنماوں کی نظرے کے مطابق ملک کی ترقی و خوشحالی خواب سے حقیقت کا روپ دھار لے ۔سفر کا آغاز ہونے والا ہے اور نیک شگوں یہ ہے کہ طاقتور پہلی بار کٹہرے پر لائے گئے اور احتساب کا عمل شروغ ہوچکاہے ملک کے تین مرتبہ منتخب وزیراعظم جیل کی سلاخون میں بند ہے اور امید ہے کہ سالوں سے ملکی دولت پر عیش کرنے والے باقی افراد کا بھی احتساب ہوگا اور ہر مجرم کی آخری منزل جیل ہوگی ۔ عمران خان اور اس کی ٹیم سے بہت سارے توقعات ہیں اور دعا ہے کہ یہ ساری امیدیں پوری ہوں ۔قوم انقلابی اقدامات کی منتظر ہے اور اللہ کرے کہ ملک کا بھلا ہوجائے اور ترقی و خوشحالی اس ملک کا مقدر بنے ۔
اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
دوسروں کے ساتھ اشتراک کریں

متعلقہ خبریں/ مضامین

error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔
إغلاق