محمد جاوید حیات

دھڑکنوں کی زبان ….ایک کشتی کے مسافر

جب سے محکموں میں مانیٹرنگ آئی ہے ۔۔تھوڑی سی کھلبلی ہے ۔کچھ گلے شکوے ہیں ۔کچھ گلائے جفائے وفانما ہیں ۔پتہ نہیں کیوں ؟قران میں احتساب کا تصور ہے۔ اسلام میں احتساب ہے ۔۔انسان کو اپنے اعمال کے ذرے ذرے کا حساب دینا ہوتا ہے وہ اپنے خالق کے سامنے ۔پھر اسلامی نظام کے اندر شورہ ہے۔۔ عدالت ہے ۔۔اعمال کا احتساب ہے ۔فخر موجودات ﷺ کی یہی ایک حدیث معاشرہ سنوارنے کے لئے کافی ہے کہ تم میں سے سب زمہ دار ہو اور ہر ایک سے اس کی زمہ داریوں کے بارے میں پوچھا جائے گا ۔حکوت کی طرف سے مانیٹرنگ کا نظام ایک اچھا قدم تھا ۔۔لیکن پہلے اس تجربے کو محکمہ تعلیم میں آزمایا گیا ۔پھر محکمہ صحت میں ۔۔اس کا نتیجہ جیسا بھی آیا آیا ہوگا یہ سب کو پتہ ہے۔۔لیکن یہ تجربہ بھی قابل غور رہا کہ کچھ کام سے جی چرانے والوں کو مانیٹرنگ سے شکوہ رہا اور کچھ مانیٹرنگ والوں کو ان سے شکایت رہی ۔۔ایک دوسرے کے درمیان ایک فاصلے کا سب کو شکوہ رہا ۔۔اور ایک ہلکی سی شکایت یہ بھی رہی کہ کیا ملک میں صرف یہی دو محکمے ہیں جو کام اور فرائض میں سستی کرتے ہیں اور ساری مشینری ٹھیک جارہی ہے ۔۔
غالب خستہ کے بے غیر کونسے کام بند ہیں
روئے بار بار کیا کیجیے ہائی ہائی کیوں
ماہ اگست کی سات تاریخ کو محکمہ تعلیم کی ماہانہ میٹنگ تھی ۔۔اس میں تمام ضلعے کے مڈل ،ہائی اور ہائر سیکنڈری سکولوں کے سر براہاں جمع ہوتے ہیں اگر اس کو بہت اہمیت دی جائے تو قوم کی اصل تقدیر یہاں بنتی ہے ۔۔اس کے نونہالوں کے مستقبل اور ان کی زندگیوں کے بارے میں فیصلہ ہوتا ہے ۔میں جب بھی اس میٹنگ کے لئے اس ہال میں داخل ہوتا ہوں تو مجھے لگتا ہے کہ قوم کے سارے بڑے آجائیں آ کے ان معماراں قوم کے مسائل سنیں۔ان کو شاباشی دیں ان کو تسلی دیں اور ان سے گذارش کریں کہ اس قوم کا مستقبل آپ کے ہاتھ میں ہے ۔۔مگر ایسا نہیں ہوتا کبھی ایسا نہیں ہوتا ۔۔اس کے لئے بڑوں میں ایسا شعور آنا چاہیے ۔۔ہر بار میٹنگ میں مانیٹرنگ پہ بات ہوتی ہے ۔۔استاد بڑا حساس ہوتا ہے اس کو جس طرح کے احترام کی توقع اپنے شاگردوں سے ہوتی ہے ہر ایک یوں توقع ہوتی ہے اس لئے مانیٹرز کے روئے پر شکوہ کرتے ہیں ۔۔اس بار بھی ایسا ہوا۔۔ ڈپٹی ڈی ای او جناب قاری نور اللہ صاحب نے مختصر اور جامع انداز میں کچھ مسائل کا ذکر کیا اور اس بارے رہنمائی کی ۔۔جناب احسان الحق صاحب ڈی ای او نے خطاب کیا ۔۔مگر درمیان میں ایک استاد نے کھڑے ہوکر کہا ۔۔۔سر ۔۔مانیٹرنگ اور ہم اساتذہ میں فاصلے ہیں اگر ہم ایک کشتی کے مسافر ہیں تو سر ۔۔۔فاصلے کیوں ؟ مانیٹرنگ والے ہمارے بچوں جیسے ہیں کیونکہ وہ سب نوجواں ہیں ۔۔لیکن کبھی کبھی وہ ہمارے آفس آتے نہیں ’’آدھکمتے‘‘ ہیں ۔۔اس کو ایک شعر بھی یاد آیا
میرژوری کی ہائے ہر دیا انداز بتی تن گوئے
آفت غیری خامیر ہسے ناز بیتی تن گوئے
سر ۔۔۔ڈی ایم او صاحب کبھی ہماری میٹنگ میں آکرہم سے خطاب کیوں نہیں فرماتے ۔۔فاصلے جو درمیان ہیں ڈھاتے کیوں نہیں ۔۔استاد کو تسلی دی جاری رہی تھی کہ ڈی ایم او صاحب خود تشریف لائے ۔۔اساتذہ کے شکوے یہی کچھ تھے ۔۔بچوں کا رویہ درست کیا جائے ۔۔کہیں ایسا نہیں کہ سی ایس ایس اور پی ایم ایس کی اکیڈیمی میں یہ بھی کہا جاتا ہے ۔۔کہ تم لوگ سپر نیچرل ہو تمہیں عام لوگوں سے فاصلہ رکھنا چاہیے ۔۔تو وہ ساری عمر فاصلہ رکھتے ہیں ۔۔ڈی ایم او صاحب خود پروفیسر رہ چکے ہیں ۔۔ان کو احساس ہے ان کو کلاس روم کا تجربہ ہے ان کو تربیت کی تریاق کی مشق ہے ۔۔وہ سٹیچ پہ آئے تو اس کا انداز ہی معلم جیسا تھا ۔۔انھوں نے ’’ایک کشتی والے ‘‘ استعارے کو بہت سراہا ۔کہا کہ ہم یقیناًایک کشتی کے مسافرہیں ۔وہ کشتی قوم کی کشتی ہے ۔جس میں گویا کہ ایک قوم سوار ہے ۔۔اور جو ملاح ہیں ۔۔وہ ۔۔وہ ۔۔سب نے سر اٹھایا مگر کسی نے یہ نہیں کہا کہ ۔۔۔’’ملاح ہم ہیں ۔۔‘‘ استاد وہ ہستی ہے کہ وہ اپنے من میں ڈوب کر سراغ زندگی پا لیتا ہے مگر کبھی ۔۔اپنی تعریف نہیں کرتا ۔۔ڈی ایم او صاحب کو اطمنان تھا کہ وہ معماران قوم سے مخاطب ہے ۔۔یہ ہال مجھے اس سمے کشتی لگا اور ہم سب اس کشتی کے مسافر ۔۔بس استاد اپنا کام اللہ کو حاضر و ناضر جان کر کرے تو اس کو مانیٹرنگ کرنے والا صرف اللہ کی زات ہے کوئی انسان نہیں ۔۔قو م کی تقدیر انہی کے ہاتھوں بنتی ہے وہ کس مانیٹرنگ کا انتظار کر رہے ہیں ۔۔یہ بھی ایک سوال ہے کہ اس محکمے میں مانیٹرنگ کیوں آئی ۔۔شاید کہیں کوتاہی تھی ۔۔ڈی ایم او صاحب کو اس بات کی خوشی تھی کہ وہ واقعی فاصلے مٹا رہا ہے ۔۔روح اور بدن میں فاصلے تو نہیں ہوتے ۔۔
تیرا تن روح سے نا آشنا ہے
عجب کیا آہ تیری نارسا ہے
تن بے روح سے بے زار ہے حق
خدائے زندہ زندوں کا خدا ہے

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
دوسروں کے ساتھ اشتراک کریں

متعلقہ خبریں/ مضامین

error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔
إغلاق