آج کی شام اے پی ایس پشاور کے نام – Chitral Express

Premier Chitrali Woolen Products

آج کی شام اے پی ایس پشاور کے نام

از اقبال شاکر

ابھی خنک وسرد موسم کا اختیام ہونا تھا ۔
ابھی سوئی ہوئی مٹی کو بیداری امکان ہونا تھا
ابھی خشک و مردہ پیرؤں میں تھی کو نپلین پھونٹینی
ابھی تیلی کو گل سے شکایت کر نی
ابھی تو بلبل کو گلستان میں باغبان ہونا تھا
ابھی تھی نسیم سحر کی تھی مستیان دیکھنی
ابھی رونق بہار کو پر بہاران ہونی تھی
ابھی تو چمن کو میر ی چاہیے تھا ملبوس عروس
ابھی آبشاروں ،دریاؤں کو نغمہ خوان ہونا تھا
ابھی قربتوں کے ڈور کو میری قرار جان ہونا تھا
دم کے ان کے حیات کو میری جاوادان ہو نا تھا
مگر کسی منحسوس نظر کی ہوگئی شکار
چپ سی ہونے لگی نسیم سحر کی جھنکار
پل بھر میں چمن ہوگئی خاردار
خون سے لت پت کر گرنے لگے سارے ابشار
رشتو ں کی اس ڈور کو تھی کا ہے کو اب قرار
نم سے ہونے لگی ہر آنکھ زار زار
فلک سے برستے شعلے پربت سے امٹتے ہوئے انگار
پل بھر میں چمن کو میرا کردیا بنجر دیار
روٹھ گئی اب مجھ سے وہ فصل بہار
باری مجھ کو ازمانے کی تھی تونے اے پروردگار ؟
جانے کس کو توت سے میرا بگاڑ دیا تو نے یہ گلزار ؟
اب کے ندامت سے سر بسجوو ہوں میرے پروردگار
لوٹا دے چمن کو میرے پھر سے وہ پربہار
مسکان سے ہر گل میں ہو عجب وہ نکھار
پھر کس آزمائش نہ کر دے مجھے کو تو دوچار
نہیں ہے اتنی جرء ت کی مکافات عمل سے ہو امتحان میری باربار ۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
دوسروں کے ساتھ اشتراک کریں

اترك تعليقاً


دنیا بھر سے