محمد شریف شکیب

بے گھر افراد کو بسانے کا منصوبہ

………محمد شریف شکیب……..

خیبر پختونخوا حکومت نے وزیراعظم عمران خان کے اعلان پر عمل درآمد کرتے ہوئے پشاور میں غریب اور بے گھر افراد کے لئے دو ہزار مکانات تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس رہائشی سکیم کے لئے ورسک روڈ پر 520کینال اراضی پر مکانات تعمیر کرنے کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے۔ صوبائی حکومت نے اس سلسلے میں محکمہ مال اور ضلعی انتظامیہ سے رپورٹ طلب کرلی ہے۔ صوبائی حکومت نے وزیرباغ اور یکہ توت کے علاوہ شہر کے مختلف مقامات پر سرکاری اراضی کو قابضین سے واگذار کرانے اور وہاں بے گھر افراد کے لئے گھر بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف نے آئندہ پانچ سالوں میں ملک بھر میں بے گھر افراد کے لئے پچاس لاکھ مکانات تعمیر کرنے اور ایک کروڑ بے روزگار افراد کو روزگار فراہم کرنے کا اعلان کیا تھا۔ وزیراعظم عمران خان نے قوم سے اپنے پہلے ہی خطاب میں انتخابی وعدوں کو عملی جامہ پہنانے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ بے گھر افراد کو سرچھپانے کی جگہ فراہم کرناقابل تحسین کام ہے ۔ اعلانات کی حد تک تو یہ بات بہت دل خوش کن لگتی ہے۔ مگر اس پر عمل درآمد میں کئی رکاوٹیں حائل ہوسکتی ہیں۔سب سے بڑی رکاوٹ وسائل کا انتظام کرنا ہے۔ اگر دو بیڈ رومز پر مشتمل تین تین مرلے کے مکانات بھی بنائے جائیں تو آٹھ دس لاکھ روپے ہر مکان کی تعمیر اور بنیادی سہولیات کی فراہمی پر خرچ ہوسکتے ہیں لاکھوں کی تعداد میں مکانات بنانے کے لئے کروڑوں نہیں بلکہ اربوں روپے کے وسائل درکار ہیں۔ ہماری معیشت کی حالت اتنی اچھی نہیں کہ عوامی فلاح و بہبود کے اس منصوبے پرفوری کام شروع کیا جاسکے۔ وزیرخزانہ کا موقف ہے کہ تمام مکانات حکومت نہیں بنائے گی۔ بلکہ مختلف اداروں، این جی اوز اور فلاحی تنظیموں کو اس کام میں شامل کیا جائے گا۔ وہ مکانات تعمیر کرکے حکومت کے حوالے کریں گے ۔جہاں تک اراضی کا تعلق ہے پورے صوبے میں لاکھوں کینال اراضی پر قبضہ گروپ کا تسلط ہے۔ خواہ ادارے ہوں یاسیاسی اور بااثر شخصیات۔ یہ قبضہ گروپ کافی بااثر ہے۔ انہوں نے جعل سازی سے یہ مفت کی اراضی منتقل بھی کرادی ہے۔ اور وہ عدالتوں سے حکم امتناعی لے کر اور سوشل میڈیا کے ذریعے مہم چلا کر حکومت کے لئے مشکلات پیدا کرسکتے ہیں۔ صوبائی حکومت کو تعلیم اور صحت کے شعبوں میں اصلاحات کے ایجنڈے پر عمل درآمد کے دوران گذشتہ پانچ سالوں میں اس کا کافی تلخ تجربہ ہوچکا ہے۔ بے گھر افراد کو سرچھپانے کی جگہ فراہم کرنا بہت بڑا کام ہے۔ لیکن اگر حکومت مکانات تعمیر کرکے غریبوں میں تقسیم کرنے کے بجائے انہیں تین یا پانچ مرلے کے پلاٹ ہی فراہم کرے تو زیادہ بہتر رہے گا۔ مالکانہ حقوق کے ساتھ اگر چھوٹا سا پلاٹ ہی مل جائے تو یہ غریب اور بے گھر افراد کے لئے غنیمت ہے۔ اگر پلاٹ کے ساتھ حکومت پانی، گیس، بجلی، سڑک اور دیگر شہری سہولیات فراہم کرے اور پلاٹ پر مکان بنانے کے لئے بلاسود قرضے فراہم کرے تو منصوبے پر عمل درآمد بھی ممکن ہوگا اور غریبوں کو گھر بھی میسر آئے گا۔ گھروں کی تعمیر کے اس منصوبے کے لئے سب سے پہلے مقبوضہ سرکاری اراضی واگذار کرانے پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ بے گھر افراد میں دیہی علاقوں کے وہ لوگ بھی شامل ہیں جن کے مکانات گذشتہ سالوں کے ہولناک زلزلوں اور سیلابوں کی وجہ سے تباہ ہوچکے ہیں اور وہ یا تو رشتہ داروں کے پاس رہائش پذیر ہیں یا کرائے کے گھروں میں رہتے ہیں۔ ان لوگوں کو شہروں میں لاکر بسانے کی بجائے ان کے اپنے علاقوں میں ہی آباد کرنے کی منصوبہ بندی ہونی
چاہئے۔ تاکہ شہروں پر آبادی کا بوجھ بھی کم ہو۔ 2015کے ہولناک سیلاب کی وجہ سے صوبے کے بالائی علاقوں خصوصا چترال، دیر، سوات، بونیر، شانگلہ اور ہزارہ کے بعض علاقوں میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے اور متاثرین کی اکثریت اب تک مکانات کی تعمیر اور آبادکاری کے سلسلے میں حکومت کی امداد اور سرپرستی کی منتظر ہے۔ بے گھر افراد کی آباد کاری میں ان متاثرین کو ترجیح دینے کی ضرورت ہے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
دوسروں کے ساتھ اشتراک کریں

متعلقہ خبریں/ مضامین

یہ بھی دیکھیں

إغلاق
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔
إغلاق