محمد شریف شکیب

گذشتہ را صلواۃ آئندہ را احتیاط

…………محمد شریف شکیب………
خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کی نئی حکومت نے احتساب کمیشن کو ختم کرنے کا اصولی فیصلہ کیا ہے۔ وزیراعلیٰ کی زیرصدارت صوبائی کابینہ کے پہلے اجلاس میں احتساب کمیشن کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے بعد نتائج پر عدم اعتماد کا اظہار کیا گیا۔ صوبائی حکومت کے ترجمان کا کہنا تھا کہ بدعنوان عناصر کے کڑے احتساب کے لئے قائم کمیشن توقعات پر پورا نہ اتر سکا۔ اس پر مزید قومی وسائل ضائع نہیں کرنا چاہتے۔ پہلے سے موجود احتساب کے اداروں نیب اور اینٹی کرپشن کا مضبوط بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ پرویز خٹک کی سربراہی میں پی ٹی آئی کی سابقہ صوبائی حکومت نے جنوری 2014میں احتساب کمیشن کا ادارہ قائم کیا تھا۔ 2016میں کمیشن کے ڈائریکٹر جنرل حامد خان مستعفی ہوگئے۔ دو سال کا طویل عرصہ گذرنے کے باوجود نئے ڈائریکٹر جنرل کا تقرر نہ ہوسکا۔ سربراہ کی عدم موجودگی کے باعث ادارہ مفلوج ہوگیا تھا۔ دوسری جانب احتساب کمیشن کی چار سالہ کارکردگی کی رپورٹ جاری کی گئی ہے جس کے مطابق کمیشن میں چارسالوں کے دوران 113ملزموں کے خلاف 30ریفرنسز دائر کئے گئے۔ ان ریفرنسوں میں تین ارب 78کروڑ کی کرپشن کے الزامات لگائے گئے تھے۔ ان ریفرنسوں کا انجام کیا ہوا۔ اس کا رپورٹ میں کوئی ذکر شاید نقص امن کے خدشے کے پیش نظر نہیں کیا گیا۔ تاہم یہ بتایاگیا ہے کہ کمیشن کو تنخواہوں اور دیگر اخراجات کی مد میں 99کروڑ، 83لاکھ87ہزار روپے جاری کئے گئے تھے۔ کفایت شعاری کی پالیسی پر عمل کرتے ہوئے ان میں سے صرف 63کروڑ 95لاکھ روپے خرچ کئے گئے اور 25کروڑ 88لاکھ روپے کی خطیر رقم بچا کر قومی خزانے میں واپس جمع کرادی گئی۔ رپورٹ کے مطابق احتساب کمیشن میں 148ملازمین کام کر رہے تھے۔ جن میں گریڈ سترہ اور اوپر کے 26افسران، گریڈ پانچ سے سولہ تک کے73جبکہ گریڈ ایک سے چار تک کے 49ملازمین شامل تھے۔ احتساب کمیشن کے خاتمے سے یہ ملازمین بے روزگار نہیں ہوں گے۔ کیونکہ یہ دیگر محکموں سے ڈیپوٹیشن پر کمیشن میں لائے گئے تھے۔ وہ اپنے محکموں کو واپس جائیں گے۔ یہاں بھی دوہرے اخراجات سے بچنے کا پہلو نکل سکتا ہے۔ جسے حکومت اپنی کفایت شعاری کے کھاتے میں ڈال سکتی ہے۔ عام لوگوں کی نظر میں کمیشن پرتقریبا چونسٹھ کروڑ روپے کے جو اخراجات کئے گئے ہیں وہ بھی تو فضول خرچی ہی ہے۔ بیوٹی فیکیشن منصوبے کے تحت پشاور میں سڑک کنارے جو پھول ، پودے اور گھاس لگائے گئے تھے۔ انڈر پاسز اور فلائی اوورز تعمیر کئے گئے تھے۔اور ان منصوبوں پر کروڑوں نہیں بلکہ اربوں روپے خرچ ہوئے تھے۔دو سالوں کے اندر ان سب کو توڑ پھوڑ کر رکھ دیا گیا۔ شہر کو خوبصورت بنانے اور شہریوں کو بہتر شہری سہولیات کی فراہمی کے حوالے سے حکومت کی نیک نیتی پر شک نہیں کیا جاسکتا ۔لیکن توڑ پھوڑ کی پالیسی کی وجہ سے قومی وسائل کا جو نقصان ہوا ہے۔ وہ اگر کرپشن کے زمرے میں نہیں آتا۔ لیکن قومی نقصان تو ہے۔ ان نقصانات کی بنیادی وجہ منصوبہ بندی کا فقدان لگتا ہے۔جس کی ذمہ داری حکومت سے زیادہ قومی تعمیر کے اداروں پر عائد ہوتی ہے۔ جو حکومتی پالیسیوں پر عمل درآمد کے ذمہ دار تصور کئے جاتے ہیں۔ عام طور پریہ دیکھا گیا ہے کہ کسی وزیر، مشیر، ایم این اے، ایم پی اے یا سینیٹر کے فنڈ سے سڑک پختہ کی جاتی ہے۔دو چار ماہ بعد سڑک کی دوبارہ کھدائی کرکے گیس، پینے کے پانی اور ٹیلی فو ن لائن کی تاریں بچھائی جاتی ہیں۔ سڑک کی توڑ پھوڑ کے بعد ملبہ وہیں چھوڑ کر ادارے نو دو گیارہ ہوجاتے ہیں۔
جب احتجاج کیا جائے تو صاف کہہ دیاجاتا ہے کہ سڑک کی مرمت ہمارے دائرہ اختیار میں نہیں ہے۔ اور نہ ہی اس مد میں ان کے پاس خرچ کرنے کے لئے کوئی فنڈ ہے۔ اگر سڑک کی تعمیر سے قبل اداروں سے رابطہ کیا جاتا اور بجلی، گیس، پائپ اور ٹیلی فون لائن پہلے بچھائی جاتی تو شہری آمدورفت کی تکلیف سے بچ جاتے اور قومی وسائل کا ضیاع بھی نہ ہوتا۔ لیکن بدقسمتی سے قومی وسائل کو یہاں سب شیرمادر سمجھتے ہیں۔ ان کے ضیاع کو سب اپنا پیدائشی حق سمجھتے ہیں۔پی ٹی آئی کی سابقہ حکومت کی ان چھوٹی موٹی غلطیوں کو ناتجربہ کاری قرار دے کر معاف کیا جاسکتا ہے۔ مگراب گذشتہ را صلواۃ اورآئندہ را احتیاط والی حکمت عملی اپنانی ہوگی۔ تاکہ قوم کے ٹیکسوں سے جمع ہونے والی ایک پائی کا بھی اسراف نہ ہونے پائے۔
اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
دوسروں کے ساتھ اشتراک کریں

متعلقہ خبریں/ مضامین

یہ بھی دیکھیں

إغلاق
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔
إغلاق