تازہ ترین

چترال سے باہرتبادلہ کیے گئے ڈاکٹرزکے ٹرانسفر آرڈرز منسوخ کرکے ان کو واپس چترال بھیجا جائے ۔ایم این اے مولاناعبدالاکبر چترالی

پشاور(نمائندہ چترال ایکسپریس)محکمہ صحت خیبر پختونخواہ مطلوبہ مقاصد حاصل کرنے میں ناکام دکھائی دے رہا ہے۔ضلع چترال کیلئے80,70ڈاکٹرز کی بھرتیاں کی گئیں اور ڈسپنسری لیول تک ڈاکٹرز کی تعیناتیاں کرکے ڈیوٹیاں تفویض کی گئیں لیکن ایک سال کے اندر سارے ڈاکٹرز نے چترال سے سیاسی اپروچ کے ذریعے اپنے تبادلے کروالیے آج صورتحال یہ ہے کہ تحصیل ہیڈکوارٹرہسپتالوں میں ڈاکٹرز موجود نہیں ،میں بذات خود اور ایم پی اے چترال نے تحصیل پیڈکوارٹر ہسپتال وریجون،موڑکھو اور تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال ارندو کے دورے کیے جہاں ڈاکٹرز اوردیگر طبی عملہ نہ ہونے کی وجہ سے ھُو کا عالم تھا ظاہر ہے جہاں ڈاکٹرز دستیاب نہ ہوں۔ایکسرے مشینیں خراب اور لیبارٹریز غیر فعال ہوں تو مریض کس لئے ہسپتال کا رُخ کریں گے؟ان خیالات کا اظہار چترال سے متحدہ مجلس عمل کے رکن قومی اسمبلی مولانا عبدالاکبرچترالی نے اپنے دورہ چترال سے پشاور پہنچ کر ایک اخباری بیان کے ذریعے کیا۔اُنہوں نے صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا کہ اس معاملہ کا فوری نوٹس لے کر محکمہ صحت کو ہدایات جاری کرے تاکہ ان تحصیلوں کے مکینوں کو صحت کے سلسلہ میں ریلیف مل سکے۔اُنہوں نے کہا کہ جن ڈاکٹرز کا چترال سے باہر تبادلہ کیا گیا ہے ان کو واپس چترال بھیجا جائے اور ان کے ٹرانسفر آرڈرز منسوخ کیے جائیں کیونکہ یہ ڈاکٹر چترال کیلئے بھرتی ہوئے تھے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
دوسروں کے ساتھ اشتراک کریں

متعلقہ خبریں/ مضامین

error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔
إغلاق